غریب افغانوں اور پاکستانیوں کے مسیحا کا قتل

واقعے کی جگہ سے لی گئی تصاویر میں ایک بڑے کیبن کے ساتھ ایک سفید پِک اپ ٹرک کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی سائیڈ کے شیشوں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں، اور کم سے کم تین گولیاں سامنے کی سکرین میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

بام جہان رپورٹ


چار دہائیوں سے غریب افغانوں اور پاکستانیوں کا علاج کرنے والے جاپانی ڈاکٹر ہلاک کئے گئے۔
مشرقی افغانستان میں بدھ کے روز ہونے والے ایک دہشت گرد حملے میں ڈاکٹر ٹیٹسو ناکامورا جنہوں نے تقریباً 35 سالوں تک غریب ترین افغانوں اور پاکستانیوں کا علاج کیا اور پانچ دوسرے لوگ مارے گئے۔اخباری رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر ناکامورا کو سینے پر گولی ماری گئی اور وہ ہسپتال منتقلی کے دوران ہی انتقال کر گئے.
ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے بتایا کہ ’ڈاکٹر ناکامورا کو سینے پر گولی ماری گئی۔ ان کے مطابق وہ ہسپتال منتقلی کے دوران ہی انتقال کر گئے۔‘
خوگانی کے مطابق ’حملے میں ناکامورا کے تین محافظوں سمیت پانچ افغان بھی مارے گئے جس میں سے ایک ان کا ساتھی اور دوسرا ڈرائیور تھا۔
جلال آباد کے رہائشی اعوذباللہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’انہوں نے صبح آٹھ بجے شوٹنگ کی آواز سنی۔‘
’میں نے دیکھا کہ گن مین جاپانیوں اور ان کے محافظوں پر حملہ کر رہے ہیں، اس کے بعد گن مین ایک چھوٹی سے سڑک کے ذریعے علاقے سے نکل گئے۔‘
واقعے کی جگہ سے لی گئی تصاویر میں ایک بڑے کیبن کے ساتھ ایک سفید پِک اپ ٹرک کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی سائیڈ کے شیشوں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں، اور کم سے کم تین گولیاں سامنے کی سکرین میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر ناکامورا پر حملے کے خلاف افغانستان اور بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
73 سالہ ناکامورا پیس جاپان میڈیکل سروسز نامی غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ تھے۔ جاپانی زبان میں تنظیم کا نام ’پشاور کائے‘ ہے۔ ناکامورا 1980ء کی دہائی سے علاقے میں کام کر رہے تھے جب انہوں نے پہلی مرتبہ پشاور میں جذام کے مریضوں کا علاج شروع کیا۔
افغان صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان صدیق صدیقی نے ناکامورا کو افغانستان کے ’قریب ترین دوستوں‘ میں سے ایک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر ناکاموار نے اپنی زندگی افغانوں کی مدد کے لیے وقف کر دی تھی۔‘

اخباری رپوٹوں کے مطابق ننگرہار صوبے کے مرکزی شہر جلال آباد میں ہونے والا حملہ حالیہ دنوں میں امدادی کارکنوں پر دوسرا حملہ ہے۔
رواں برس 24 نومبر کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سے وابستہ ایک امریکی امدادی کارکن اینل راج کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔
مئی میں غیر سرکاری تنظیم ’کاؤنٹرپارٹ انٹرنیشنل‘ کے دفتر پر حملے میں 9 افراد مارے گئے تھے-
اقوام متحدہ کے افغانستان میں امدادی مشن نے ایک بیان میں ناکامورا کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ناکاموار نے اپنی زندگی کا بیشتر وقت انتہائی غریب افغانوں کی مدد کے لیے وقف کیا تھا، ان جیسے شخص کا قتل تشدد کا احمقانہ اقدام ہے۔‘
ناکاموار کی تنظیم سے وابستہ ایک اہلکار مٹسوجی فوکوموٹو نے ٹوکیو میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ’ ناکامورا کے قتل کی وجوہات کا پتا نہیں چل سکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کوئی پتا نہیں کہ یہ محض ڈکیتی کا واقعہ ہے یا مفادات کے ٹکراؤ کا؟
طالبان نے جاپانی ڈاکٹر ناکامورا پر حملے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’افغانستان کی تعمیر میں حصہ لینے والی تنظیم سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔‘
واضح رہے کہ ننگر ہار ایک وقت میں طالبان اور ان کے ساتھ وابستہ گروپوں کی سرگرمیوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
حکام نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ ’صوبے میں جہادیوں کو شکست دے دی گئی ہے تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ چھوٹے گروپس کی ابھی وہاں موجودگی باقی ہے۔‘
افغانستان میں بعض اوقات غیر سرکاری تنظیموں اور گروپس کو بھی ہدف بنایا جاتا ہے۔
طالبان نے مئی میں امریکی فنڈ سے چلنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘’کاؤنٹرپارٹ انٹرنیشنل‘ کو نشانہ بنایا تھا جس میں نو افراد مارے گئے تھے۔
ناکامورا جاپان میں بھی اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے مشہور تھے۔
’پشاور کائے‘ کی بنیاد ناکامورا اور ان کے دوستوں نے رکھی تھی جو کہ افغانستان اور پاکستان میں 1984ء سے رہے اور وہاں کام کیے۔
2003 میں ناکامورا کو فلپائن کے راموں ماگسیسے ایوارڈ برائے امن سے نوازا گیا تھا۔ اس ایوارڈ کو ایشیاء کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے۔
پشتون لباس پہننے کے شوقین ناکامورا 2001ء میں امریکہ کی افغان جنگ کے سخت خلاف تھے۔ امریکی جنگ کے نتیجے میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ناکامورا طالبان حکومت کو قابل منتظم مانتے تھے اور ان کا دفاع کرتے تھے۔
ناکامورا نے اپنی ویب سائٹ کی ایک پرانی پوسٹ پر لکھا تھا کہ’مجھے اس جواز سے بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا کہ جمہوریت اور جدیدیت کے لیے تشدد ضروری ہے۔‘
’بنی نوع انسان کی حقیقی خوشی کا اندازہ تشدد یا پیسے سے نہیں بلکہ انسانیت سے لگانا چاہیے۔‘
ناکامورا نے اپنی تنظیم کے کئی ایک منصوبوں کا ذکر کیا تھا جو افغانوں کی مدد کے لیے بنائے گئے ان میں کنوؤں اور آب پاشی کی نہروں کی تعمیر اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں