کیا ایران خود کو تباہ کرنے کے متحمل ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟

کیا ایران خود کو تباہ کرنے کے متحمل ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟
تحریر۔ کریم اللہ
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد مشرقی وسطی میں حالات انتہائی کشیدہ ہے ایک طرف ایران نے اس قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور مشرقی وسطی میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی ہے تو اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جوابی دھمکی دے ڈالی۔ اپنے ٹوئیٹر پیغام میں امریکی صدر کا کا کہنا تھا کہ ایران کے 52 اہم مقامات امریکہ کے ٹارگٹ پر ہیں۔ جو ایران کے لئے ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات ہیں۔ یوں مشرقی وسطیٰ میں جنگ کا نغرہ بج چکا ہے۔ اس صورتحال میں سوشل میڈیا کے اوپر تیسری عالمگیر جنگ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ اس وقت امریکہ پر ایک جنونی کی حکومت ہے جو ٹوئیٹر کھول کر مخالفین کو ڈرانے دھمکانے سے باز نہیں آتے اور ریسلنگ کے اس نامور بلکہ بدنام زمانہ کھلاڑی پر بھروسہ کرنا بھی احمقانہ فعل ہے۔ اس کشیدہ صورتحال میں کیا ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست ٹکر کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ جبکہ گزشتہ کئی برسوں کی اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران کی معیشت تباہ ہوچکی ہیں تیل و گیس کے ذخائر سے مالامال ملک ل بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں ایسی حالت میں اگر ایران زرا سی غلطی اسے تباہی سے دوچار کرسکتی ہے۔ اگر امریکہ ایران کے پڑوس میں واقع ہوتا تو اس جنگ سے امریکہ کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا مگر سات سمندر پار واقع اس سفید ہاتھی سے پنگا لینے کا مطلب عراق، شام، افغانستان اور لیبیاء یا لبنان بننے کے لئے خود کو تیار کرنا ہے۔ اس سے قبل امریکہ اور مشرقی وسطی میں ان کے حامیوں بالخصوص سعودی عرب وغیرہ کی شرارت نے شام جیسی قدیم ترین تہذیب کو کھنڈرات میں تبدیل کر کے رکھ دیا عراق میں لاکھوں انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیبیا تباہ ہوچکا ہے جبکہ لبنان میں آگ و خون کی ہولی جاری ہے۔ جبکہ ان جنگوں سے امریکہ کی معیشت مزید مستحکم ہوچکی ہے, کیونکہ امریکن معیشت جنگی معیشت ہے جب مشرقی وسطی میں حالات خراب ہوگئے تو امریکی جنگی ساز و سامان بنانے والی کمپنیوں کو اپنی ہتھیار بھیجنے کا موقع ملا اور یوں ہر دو جانب امریکی ہتھیار فروخت ہوتے رہے۔ یوں امریکی معیشت مزید مضبوط ہوگئی۔ امریکہ نے ایران کے ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کو ٹارگٹ کرنے کی دھمکی دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاں ثقافت و تہذیب کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ وہ تہذیب کش و ثقافت دشمن ریاست ہیں جس نے دنیا میں تہذیبوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایرانی تھیاکریٹک رجیم نے خطے میں اپنی چوہدراہٹ کے لئے جو پراکسیز کھیلی اس کا نتیجہ آج ایک خوفناک جنگ کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی تھیاکریٹ رجیم اپنی من مانیوں کے ساتھ عظیم فارسی تہذیب کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی کمر کس لی ہے۔۔؟؟ ایران ایک تہذیبی ریاست ہے یہاں کی عظیم عمارتین، سیاحتی مقامات، یہاں کی قدیم ترین ادب و ثقافت و لوک روایات یہاں کی ترقی یافتہ تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں کی ثقافت، موسیقی، ادب اور لائف اسٹائل بھی ماضی کی عظمت اور حال کی خوبصورت کو ظاہر کررہی ہیں مگر 1979ء سے جو سخت گیر شیعہ تھیاکریسی یہاں پر مسلط ہے اس کا شاخسانہ غربت و افلاس کے علاؤہ کچھ نہیں نکلا۔ شہری حقوق غضب کردئیے گئے جبکہ اندرونی سخت گیریت نیز بیرونی پابندیوں کے باعث یہاں کی عظیم تہذیبی ورثہ سے عوام کی زندگیوں پر کوئی مثبت تبدیلی نہ لاسکیں۔ آج اگر ایرانی سرکار جذبات میں بہہ کر امریکہ کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو سات سمندر پار بیٹھے امریکہ کا کچھ نہیں بگڑے گا البتہ خود ایران، افغانستان، شام، عراق، یمن کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہوگا اور پھر مزید انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اس لئے ایران کو اس ساری صورتحال میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ وگرنہ مستقل تباہی ایران اور عظیم فارسی تہذیب کا مقدر ٹہرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں