فہمیدہ ریاض اپنی نثر کے آئینے میں

تحریر: ڈاکٹر ناظرمحمود

جب فہمیدہ ریاض کا تہتر سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا تو اکثر ذرائع ابلاغ نے انہیں پاکستان کی ایک بڑی شاعرہ قرار دیا مگر اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ ایک اعلیٰ پائے کی دانش ور اور نثر نگار بھی تھیں جنہوں نے نہ صرف افسانے بلکہ ناول بھی لکھے۔

اس مضمون میں ہم ان کی شاعری پر نہیں بلکہ نثر پر بات کریں گے جو ان کی تخلیق کا ایک اہم پہلو ہے جسے کم و بیش نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہاں اجمل کمال کے رسالے ”آج“ اور آصف فرخی کے ”دنیا زاد“ کا ذکر کرنا ضروری ہے جنہوں نے فہمیدہ ریاض کی نثر سے ہمیں متعارف کرایا۔

فہمیدہ ریاض کی نثر کا ایک بہترین شہ پارہ ہمیں ”آج“ کے پینتسویں شمارے میں ملتا ہے جب نامور ادیب محمد خالد اختر کی وفات پر فہمیدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس نثر پارے میں ہمیں فہمیدہ کے اپنے ذہنی ارتقاء کا احوال بھی ملتا ہے اور اس کردار کا بھی جوخالد صاحب نے فہمیدہ کی حوصلہ افزائی میں ادا کیا۔ خالد صاحب کا کردار تقریباً وہی تھا جو احمد ندیم قاسمی نے پروین شاکر کے لیے اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے کشور ناہید کی ادبی رہنمائی کرکے ادا کیا تھا۔
فہمیدہ بیان کرتی ہیں کہ کس طرح خالد اختر کی تدفین کے بعد آنے والی رات کو وہ قبرستان گئیں اور چوکیدار سے گیٹ کا تالا کھولنے کی درخواست کی تاکہ وہ خالد اختر کی قبرپرجاکر خراج عقیدت پیش کرسکیں۔ اپنی خوبصورت نثر میں فہمیدہ نے لکھا کہ خالد اختر صاحب سے ان کی دوستی بلاشبہ اردوادب کی تاریخ کی ایک طویل دوستی تھی گوکہ وہ دونوں مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کرتے تھے۔ خالد اختر طنزو مزاح کے بادشاہ تھے اور فہمیدہ ریاض کا اس صنف سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔

فہمیدہ لکھتی ہیں کہ ابھی وہ اپنے کالج کے دوسرے برس میں ہی تھیں کہ ان کی نظمیں ”فنون“ میں شائع ہونا شروع ہوئیں۔ اسی دوران فہمیدہ نے خالد اختر کے مضامین اور کتابوں پر تبصرے پڑھے اورفوراً اختر صاحب کی جادوئی نثر کے طلسم میں گرفتار ہوگئی۔ فہمیدہ نے اختر صاحب کوخط لکھے جن کے جواب انہوں نے بڑی حوصلہ افزائی کے ساتھ دیے اور انہیں ”نوجوان قلم کار دوست“ سے مخاطب کیا۔ اس طرح ان دونوں کی طویل دوستی کا آغاز ہوا جو تین عشروں سے زیادہ چلی اور خالد اختر صاحب کی وفات پر ختم ہوئی۔

فہمیدہ ریاض بتاتی ہیں کہ ہر خط میں خالد اختر نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتے بلکہ دیگر لکھنے والوں کے بارے میں اپنے خیالات سے بھی نوازتے مثلاً کرشن چندر اور منٹو دونوں ان کے پسندیدہ مصنف تھے اس لیے اکثر اپنے خطوں میں ان کا ذکر کرتے۔ فہمیدہ ریاض کی خالد اختر صاحب کے بارے میں یہ تحریر ایک شاندار نثرپارہ ہے جسے ہمارے ادب کے نصاب میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے جس میں اس طرح کی تحریریں کم پائی جاتی ہیں جو بیک وقت دو بڑے لکھنے والوں کے بارے میں ہمیں آگاہی دیتی ہیں۔

اسی تحریر کے ذریعے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ ستر کے عشرے کے اواخر میں جب انہوں نے ”آواز“ کا اجراءکیا توانہیں کن مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ 1979 میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو انہوں نے ”آواز“ میں لکھا کہ یہ بھٹو کا نہیں بل کہ جمہوریت کاقتل ہے۔ اس پر جنرل ضیاءالحق اور ان کے حواری ناراض ہوگئے اور فہمیدہ ریاض پر کئی مقدمات قائم کردیے گئے اور انہیں مسلسل ہراساں کیاجانے لگا۔ ایسے میں خالد اختر صاحب نے فہمیدہ ریاض کی بہت مدد کی اور ان کی ہمت باندھے رکھی۔ جب فہمیدہ ضمانت پر رہا ہوئیں تو خالد اختر صاحب نے ان کی پاسپورٹ کے حصول میں بھی مدد کی تاکہ وہ ملک سے باہر جاسکیں۔

فہمیدہ ریاض کی جدوجہد کے بارے میں مزید تفصیل ہمیں ان کے ایک افسانے میں ملتی ہے۔ جس کا عنوان تھا ”کیا گلابی کبوتر جیت گئے؟ “ آپ بیتی طرز کا یہ افسانہ 1995 ءمیں ”آج“ کے انیسویں شمارے میں شائع ہوا۔ کہانی کا آغاز فہمیدہ ریاض اس وقت کی نوآزاد شدہ مملکت قزاقستان کے دورے سے کرتی ہیں۔ جہاں ان کی ملاقات ایک نوجوان مترجم گل ناز سے ہوتی ہے۔ اس لڑکی سے مل کر فہمیدہ کو اپنے ایک پرانے پڑوسی یاد آتے ہیں جن کا نام ملا یوسف ضیائی تھا اور جو وسطی ایشیا سے تعلق رکھتے تھے۔

فہمیدہ لکھتی ہیں کہ ملایوسف 1970 کے عشرے میں ان کے پڑوسی رہے تھے۔ یہ دل چسپ افسانہ ہمیں سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد والے وسطی ایشیا کے احوال سے بھی آگاہ کرتا ہے اور جنرل ضیاءالحق کے دور کے کراچی سے بھی۔ فہمیدہ بتاتی ہیں کہ ملا یوسف کے والدین 1917 میں سوویت انقلاب کے بعد وسطی ایشیا سے ہجرت کرکے چین کے علاقے سنگ یانگ چلے جاتے ہیں مگر تیس سال بعد 1940 کے عشرے کے اواخر میں چین میں کمیونسٹ انقلاب آنے کے بعد وہ افغانستان منتقل ہوجاتے ہیں۔ جہاں پھر 1978 میں انقلاب آنے کے بعد انہیں افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان آنا پڑتا ہے اور بالآخر وہ کراچی میں فہمیدہ ریاض کے ہم سائے بن جاتے ہیں۔
اس افسانے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ملا یوسف کو کس طرح ریاستی کارندے پہلے مسجد کا پیش امام بنواتے ہیں اور پھر زکوٰة اورصلوٰة کمیٹی کا سربراہ بھی۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ کراچی کی زیادہ تر بریلوی مسلک کی مساجد اور مدارس کے مقابلے میں دیوبندی اور وہابی مسلک کے مولوی متعارف کرائے جاتے ہیں اور ریاستی سرپرستی میں افغان جہاد کے نام پر پاکستان اور خاص طور پر کراچی کی مسلکی ترکیب تبدیل کی جاتی ہے۔

راقم کی فہمیدہ ریاض سے پہلی ملاقات 1980 کے عشرے کے وسط میں دہلی میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہ ایک اردو اور ایک انگریزی کتاب پر کام کررہی تھیں۔ ان کی انگریزی کتاب ”پاکستانی لٹریچر اور سوسائٹی“ بھارتی قارئین کے لیے لکھی گئی تھی مگر وہ کتاب ایک اوسط درجے کی تخلیق ثابت ہوئی جس میں پاکستان کا بڑا سطحی سا تجزیہ کیا گیا تھا۔ یہ کتاب علمی اور ادبی دونوں لحاظ سے ایک اعلیٰ تخلیق نہیں کہی جاسکتی۔

ان کے اردو ناولٹ کا نام ”گوداوری“ تھا۔ بمشکل سو صفحات پر مشتمل یہ ناولٹ 1992 میں ”آج“ کے موسم بہار کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ بعد میں اس کا ترجمہ انگریزی میں عقیلہ اسماعیل نے کیا جس کو اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 2008 میں آصف فرخی کے تعارف کے ساتھ شائع کیا۔

”گوداوری“ بھی ایک نیم سوانحی ناول ہے۔ جو 1980 کے عشرے کے مہاراشٹر میں کھلتا ہے۔ یہ ایک مسلم پاکستانی خاندان کی کہانی ہے جو بھارت میں سیاسی پناہ لے لیتا ہے۔ اس کی مرکزی کردار ایک عورت ہے جسے ”ما“ کا نام دیا گیا۔ یہ خاندان بھارت میں آدی واسیوں، بوہری مسلمانوں، کمیونسٹوں، ہندوؤں اور پارسیوں کے مختلف طبقات سے ملتا ہے اور دہلی، بمبئی کے علاوہ مہاراشٹر کے ایک پہاڑی مقام پر جاتا ہے۔ اس کہانی کے مرکزی کردار میاں بیوی دونوں بائیں بازو کے خیالات رکھتے ہیں۔ مگر جلد ہی بھارتی معاشرے کے اندرونی تضادات سے مایوس ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ شوہر نام دار مسلسل اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کس طرح مقامی عورتوں سے تعلقات استوار کیے جائیں جبکہ ”ما“ کو نہ صرف بچوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے بل کہ شوہر پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔

یہ ناولٹ بھیمڑی کے ہندو مسلم فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا ہے جہاں مسلمان جولاہوں کو ہندو شیوسینا کے غنڈوں نے گھیرکر نشانہ بنایا اور قتل عام کیا تھا۔ اس طرح ”گوداوری“ سے ہمیں 1980 کے عشرے کے بھارت کا ایک پاکستانی عورت کی نگاہوں سے نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس سیاسی ادب کے علاوہ فہمیدہ ریاض نے نسائی تناظر میں بھی افسانے لکھے ہیں۔ مثلاً ان کا ایک افسانہ ”وہ چلی گئی“ ہے جو ”آج“ کے پچسیویں شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس افسانے میں ایک گھر کی زندگی میں عجیب موڑ آتا ہے جب بڑی لڑکی گھر چھوڑ جاتی ہے خاندان افسوس کرتا ہے اور قاری کو والدین سے ہم دردی ہوجاتی ہے مگر افسانے کے آخر میں وہ لڑکی اچانک واپس آجاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی عشقیہ چکر میں فرار نہیں ہوئی تھی بلکہ کوہ پیماؤں کے ایک گروہ کے ساتھ شمالی علاقوں میں چلی گئی تھی جہاں اس نے خوب تفریح کی اور مزہ لیا پھر واپس آگئی۔

اسی طرح کا ایک اور افسانہ ہے ”تکون کے دائرے“ جو 2004 میں ”دنیا زاد“ کے گیارہویں شمارے میں شائع ہوا ہے۔ فہمیدہ ریاض اس افسانے میں امریکا میں رہنے والے پاکستانیوں کی کہانی بیان کرتی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے اور دولت مند ہونے کے باوجود آپس کے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں سے باہر نہیں نکل پاتے۔ معمولی باتوں پر بہن بھائی ایک دوسرے سے بات چیت بند کردیتے ہیں اور ایک دوسرے کی برائیاں کرتے رہتے ہیں۔

اور اب کچھ بات کرتے ہیں فہمیدہ ریاض کے نثری تراجم کی۔ 2005 میں ”دنیا زاد“ کے چودھویں شمارے میں فہمیدہ نے ترک مصنف اورہان یامک کے ناول ”برف“ کا ترجمہ پیش کیا ہے مگر اس سے پہلے ایک تعارف تحریرکیا ہے۔ جس میں پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک کا موازنہ ترکی کی تحریک سے کیا گیا ہے۔

اس تعارف میں فہمیدہ ریاض نے جگہ جگہ روسی مصنفوں جیسے دستائی ایفسکی وغیرہ کے حوالے دیے ہیں جن سے ان کی عالمی ادب پر گرفت اور گہرے مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ”دنیا زاد“ کے اٹھارہویں شمارے میں وہ مصرکے نوبیل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ کو متعارف کراتی ہیں اور پھر ”آج“ کے شمارہ نمبر اٹھاسی میں بھارتی مصنف و بھوتی نرائن رائے کے ناول ”گھر“ کا تعارف پیش کرتی ہیں۔

اب آخر میں فہمیدہ ریاض کی ایک اور تحریر کا حوالہ دینا چاہوں گا جو ”فعلِ متعدی“ کے عنوان سے ”دنیا زاد“ کے چھبیسویں شمارے میں شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے اپنے تجربات کا ذکرکیا ہے جو انہیں ”اردو ڈکشنری بورڈ“ کی مدیراعلیٰ بننے کے بعد پیش آئے۔ یہ تحریر ہمیں پاکستانی افسر شاہی اور اس کے سرخ فیتوں کی ایک دل گیر تصویر پیش کرتی ہے۔

گوکہ فہمیدہ ریاض نے اپنے آپ کو ایک بڑی شاعرہ کے طورپر منوایا مگر ان کا نثری تخلیقات اور تراجم کادائرہ بھی وسیع ہے۔ ان کی شاعری پر تو خاصی توجہ دی جاتی ہے لیکن ان کی نثر نسبتاً وہ شہرت حاصل نہ کرسکی اس لیے اس مضموں میں ہم نے ان کے چند نثری نمونوں پر بات کی ہے۔ ان کی شاعری پر گفت گو کسی اورمضمون میں ہوگی۔

بشکریہ : ہم سب

ڈاکٹر ناظرمحمود ماہر تعلیم، مصنف اور کالم نگار ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں