کورونا وائرس: رائے ونڈ سے قُم تک

اسلام آباد میں لوگ 20 مارچ کو جمعہ کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

کاش کہ رقت آمیز دعا کے ساتھ کوئی اجتماع حکمت آمیز دوا کے لیے بھی ہو۔


تحریر: آصف محمود


مولانا طارق جمیل نے رقت کی وارفتگی میں دعا کو قصیدہ بنا دیا۔ میر نے کہا تھا: فرہاد کے ذمے بھی عجب کوہ کنی ہے۔ حفظ مراتب کے تقاضے اپنی جگہ، سچ مگر یہ کہ یہ رویہ دین کے شایان شان ہے نہ علمائے دین کے۔ علم کی دنیا میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔

رقت آمیز دعاؤں کی افادیت سے ہر گز انکار نہیں، لیکن خاطرِ نازک پر گراں نہ ہو تو اس حقیقت سے صرف نظر بھی ممکن نہیں کہ وقت نے میزان تھام کر اہل مذہب کو تولا ہے اور وہ ہلکے نکلے۔

دعا، دعا ہوتی ہے اسے قصیدہ نہیں بننا چاہیے۔ قصیدے پر طبیعت مائل ہو تو اس کا عنوان پھر قصیدہ ہی ہونا چاہیے، دعا نہیں۔ اللہ کی بارگاہ میں، گڑ گڑا کر ہاتھ اٹھائے ہوئے بھی اگر زبان پر اہل زمین کا قصیدہ ہو اور اس میں بھی ایسا اہتمام کیا گیا ہو کہ مطلع سے مقطع تک ایک مصرع بھی کسی عامی کے لیے نہ ہو اور روئے سخن بھول کر بھی ان ڈاکٹروں اور نرسوں کی جانب نہ ہو پائے جو بے سرو سامانی کے عالم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں تو تارِ دامن اور تارِ نظر میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مولانا پر اللہ اپنی عنایتیں اور وسیع کرے اور وہ اسی ناز سے گفتار میں آیا کریں لیکن لازم ہے کہ عنوان کی ترتیب درست ہو۔ دعا ہو تو دعا ہو، قصیدہ ہو تو قصیدہ۔

علما ئے دین کا بنیادی کام کیا ہے؟ یہ نہ اقتدار کی کشمکش میں حریف بن کر حاکم وقت کی ہجو کہے چلے جانا ہے نہ یہ اس کی محبت میں غلو ہی کو شعارکرتے ہیں۔ اہل علم کا کام انزار ہے۔ حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ سماج کو خبردار کرنا اور خیر کو فروغ دینا۔ یہ انزار ہو یا اقتدار ،رقت سے بہنے والے آنسوؤں سے پہلے بھی کچھ مقامات ہوتے ہیں۔ اندلس کے آخری حکمران پر جب جلاوطن ہوتے ہوئے الحمرا کے محلات کو دیکھ کر رقت طاری ہونے لگی تو اس کی ماں نے اسے یہی مقامات یاد دلائے تھے۔

جس وقت پاکستان میں کرونا وائرس نے اولین دستک دی عین انہی دنوں لاہور میں تبلیغی جماعت کا اجتماع تھا۔ حکومت نے دست بستہ درخواست کی کہ اس اجتماع سے کرونا وائرس کے پھیل جانے کا خطرہ ہے اس لیے اس کے انعقاد کو ملتوی کر دیا جائے۔ یہ درخواست رد کر دی گئی اور اجتماع کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ لوگ اکٹھے ہوئے لیکن بارش ہوئی اور پنڈال میں پانی بھر گیا تو اجتماع ختم کر دیا گیا۔

منتظمین میں نہ اتنی لچک تھی کہ کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر حکمت کی بات مان لیتے نہ اتنی اہلیت تھی کہ انٹر نیٹ کھول کر موسم کا حال ہی دیکھ لیتے کہ اس روز بارش تو نہیں ہو گی۔ ہر دو صورتوں میں یہ اجتماع منسوخ ہو جانا تھا، لیکن بلاوجہ کی ضد نے محض لوگوں کو اکٹھا کیا اور بارش برسی تو شرکا گھروں کو لوٹ گئے۔ کیا کوئی حساب سود و زیاں ہے کہ کتنے ہی کرونا وائرس لے کر لوٹے ہوں گے۔

مولانا طارق جمیل کا ایک وسیع حلقہ اثر ہے۔ کاش وہ وہ اس موقعے پر بروئے کار آئے ہوتے اور انہوں نے لوگوں کی تربیت کی ہوتی۔ انسانی جان کی حرمت کا خیال کرتے اور ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے کہ منتظمین غلط کر رہے ہیں۔ وہ اپنے وابستگان کو سمجھاتے کہ یہ اجتماع نہیں ہونا چاہیے۔ رقت آمیز دعا کو قصیدہ بنانے سے پہلے یہ وہ مقام تھا جہاں قوم کو مولانا کی ضرورت تھی اور مولانا دستیاب نہیں تھے۔

انجام ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان میں جو ہوا سو ہوا۔ اہلِ تبلیغ تو ان کو بھی ساتھ لے ڈوبے جو ان کے ہم رکاب ہوئے۔ اس اجتماع سے پہلے فلسطین میں کرونا وائرس نہیں تھا۔ لیکن پاکستان میں ہونے والے اس تبلیغی اجتماع سے جب دو صاحبان فلسطین واپس پہنچے تو کرونا وائرس ساتھ لے گئے۔ فلسطین کے نائب وزیر صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلسطین میں کرونا وائرس پاکستان کے تبلیغی اجتماع سے آیا۔

غزہ میں پہلے ہی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اب وہاں مارکیٹیں وغیرہ بند ہو رہی ہیں اور معاشی امکانات مزید سکڑ جائیں گے۔ یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ کرونا وائرس اگر وہاں پھیل گیا تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں، کیا پاکستان میں کسی مولانا کو اس کا احساس ہے؟ رقت آمیز دعاؤں کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن بروقت تھوڑی سی رقت آمیز ’دوا‘ بھی کر لی جاتی تو اس المیے کی سنگینی کو محدود کیا جا سکتا تھا۔

ملائیشیا میں کیا ہوا۔ کوالالمپور میں دنیا کے 30 ممالک سے 16 ہزار لوگ تبلیغی اجتماع میں اکٹھے ہوئے اور ان میں سے بعض کرونا وائرس کیریئر بن گئے۔ اس اجتماع سے پہلے ملائیشیا میں کرونا وائرس نہیں تھا۔ اب مشرقِ بعید میں سب سے زیادہ مریض ملائیشیا میں ہیں اور وہاں سڑکوں پر فوج گشت کر رہی ہے۔ فلپائن، برونائی، سنگاپور اور کمبوڈیا میں کرونا وائرس اسی اجتماع سے گیا۔ اب کس کس کا رونا روئیں؟

ایران میں بھی یہی ہوا۔ کرونا وائرس کا پہلا کیس قُم کے مقام پر سامنے آیا۔ جب حکومت نے مذہبی اجتماعات کو روکنے کی کوشش کی تو اہل مذہب کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔ جب تک وائرس کامعلوم نہ تھا تب تک تو ایسے کسی اجتماع پر الزام نہیں دیا جا سکتا لیکن جب معلوم ہو چکا ہو کہ کرونا وائرس پھیل رہا ہے اور لوگوں کا اجتماع خطرناک ہو سکتا ہے، جب حکومت التجا کر رہی ہو کہ اجتماع منسوخ کر دیں اس وقت حکومتی مطالبے کی رقت آمیز تائید کر دی جاتی تو اس افتاد کی سنگینی وہ نہ ہوتی جو اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں۔

بات مولانا طارق جمیل سے چلی اوردوسرے اہلِ جبہ دوستار تک جا پہنچی۔ قافلہ خیال رائے ونڈ سے چلا تو قُم جا نکلا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس تعمیر ہی میں خرابی کی کوئی صورت مضمر ہے۔ رقت آمیز دعا کے ساتھ کاش کوئی اجتماع حکمت آمیز دوا کے لیے بھی ہو۔

ایک طرف دعا قصیدہ بن گئی ہے اور دوسری طرف پارسائی کے نام پر انا کے پہاڑ ہیں جو معقولیت کی راہ میں حائل ہو گئے ہیں۔ مخلوق خدا یہاں بھی مر رہی ہے اور وہاں بھی۔ اس پر خوش گمانی کا یہ عالم کہ امتِ مسلمہ کی باگ ہمارے ہاتھ میں تھما دی جائے تو اس کا مستقبل سنور جائے۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!

بشکریہ: دی انڈیپنڈینٹ اردو، اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں