بروشسکی لسانیات اور تاریخ


تحریر: صفدر حسین برچہ


بروشسکی زبان کا شمار دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں ہوتا ہے۔ا س وقت یہ زبان گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ، نگر، یاسین اور مقبوضہ کشمیر کے علاقوں، ڈنڈوسا، بٹگام، بٹ مالو، سری نگر، ترال،اننت ناگ اوربٹراج کالونی، سری نگر میں بولی جاتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بروشسکی زبان بولنے والوں کی تعداد دو لاکھ بتائی جاتی ہے۔(١) (صدف منشی،٢٠٠٦۔شہناز سلیم ہنزائی،٢٠٠٣ئ).

جنیاتی درجہ بندی کے تناظر میں سال ١٩٨٩ء میں بروشسکی زبان کوعلحٰیدہ زبان کا درجہ دیا گیا۔ جیسا کہ اس زبان کا ہمسایہ علاقائی زبانوں سے کوئی جوڑاور مماثلت نہیں پائی جاتی، اس طرح ہنوز بروشسکی زبان کی جنیاتی تعلق نامکمل ہے۔ اس زبان کا اگرچہ دنیا کی دیگر زبانوں سے برملا تقابل کیا جاسکتا ہے لیکن روئے زمین پر بولی جانے والی زبانوں سے اس کی حقیقی اور بنیادی رشتہ قائم نہیں کرسکتے۔ گرئیرسن کے بقول: ”بروشسکی چوتھے گروہ کی واحد نمائندہ زبان ہے۔لسانیات کا کوئی ماہر آج تک حتمی طور پر اس کا کسی سے الحاق کا پتہ نہیں لگا سکا ہے”۔(٢) ہائیڈ کلارک کے خیال میں: ”بروشسکی زبان کا تعلق سائبیریو۔نوبین (Siberio-Nubian) زبان سے ہے لیکن آنھوں نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کوئی دلیل پیش نہیں کیا ہے۔(٣) جارج وان ڈریم کے مطابق:” بروشسکی اورینیسین (Yeniseian) بولیوں کا خاندان ”کراسُک” ہے۔ بعداذاں اس نظریے کی بنیاد پر (Grune) اور (Roger Blench) نے اپنے تحقیق کو آگے بڑھایا۔(٤) وی۔این ٹوپوروراس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بروشسکی زبان کا تعلق اور خاندان وہی ہے جو مشرقی سائبیریاکے ینیسین بولیوں کا ہے۔ اس بنا پرکہا جاسکتاہے کہ بروشسکی زبان کادردی، ایرانی، ہند آریائی اور تبتی زبانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ بروشسکی زبان شمالی ہند میں آریائی آباد کاروں کی آمد سے قبل بڑی تزک اور شان سے بولی جاتی تھی۔ (٥) بروشسکی زبان کا جنیاتی تعلق کسی بھی بڑے لسانی گروہ سے نہیں ملتا لیکن اس کا فاعلی مجہولی اسلوب بیان دردی اور دراوڑی زبان سے کافی حد تک مماثل ہے۔قفقازی اورجنوبی ایشیائی باسک زبانوں کے اثرات دیگر زبانوں کے مقابلے میں کسی حد تک نمایاں نظر آتے ہیں۔کیونکہ بروشسکی زبان کا جغرافیائی خطہ ان علاقوں سے دور نہیں۔ بعض ماہرین لسانیات کا خیال ہے کہ بروشسکی زبان کا گروہی اور خاندانی سلسلہ داغستانی ، چینی تبتی، پیلیو بلقانی اوربالتو سیلوک سے جوڑتے ہیں۔(٦)

زبان ثقافت کا وسیلہ ہی نہیں بلکہ ثقافت کا حصہ بھی ہے۔لسانیاتی نقطہ نظر سے بروشسکی زبان بولنے والوں کا خطہ بنیادی طور پر شینا، کھوار، بلتی، کشمیری، اردو اور انگریزی زبانوں پر مشتمل ہے۔اس نوع کے لسانیاتی ماحول میں غیر مقامی زبانوں جیسے اردو اور انگریزی کے روزمرہ استعمال ہونے والے لسانی خواص اور بول چال کے الفاظ کی کثرت استعمال سے بروشسکی زبان قبولیت اور انجذاب کے عمل سے گزررہی ہے۔(٧) (Museley, 1997) جب کسی زبان کی تاریخ پر لکھنا مقصود ہو اور اس زبان کے آغاز کے حوالے کوئی اہم تحریری شواہد اور مخطوطات موجود نہ ہو تو یقین جانیے۔اس کوصفحہ قرطاس پر لانا کتنا مشکل ہوگا؟ اس صورت حال میں بس تاریخی لسانیات کے مستعمل پیمانوں اور اجزائے ترکیبی کے ذریعے زبان کی پیدائش کے متعلق تحقیق کیا جانا ممکن ہے۔

١۔ بنیادی ذخیرہ الفاظ(لغت):
٢۔ مارفالوجی(صرف ونحو۔گرامر)
٣۔ فونیات (صوتی نظام)
٤۔ ثقافتی ذخیرہ الفاظ (جو ایک ثقافت سے دوسری ثقافت میں در آتے ہیں)

پہلے تین اجزا زبان کی جنیاتی آغازکے متعلق بحث کرتے ہیں جب کہ موخرالذکرثقافتی واسطوں کے بارے میں آگہی دیتا ہے۔ بروشسکی زبان کے ان اجزائے ترکیبی کا تحلیل و تجزیہ رہنمائی کرتاہے کہ اس زبان کا جنیاتی لغتی اور گرامرکی ساخت زبانوں کے کس گروہ سے مربوط ہے۔

١۔ (بنیادی ذخیرہ الفاظ):

یہ ذخیرہ الفاظ بنیادی طور پرلغتی تصورات، جغرافیائی علاقوں اورثقافتی درجات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ فہرست بنیادی الفاظ جو خالصتاً ضمائر پر مشتمل ہو۔جیسے، جِے (میں)، اِن In (وہ)، مِہ Mih (ہم)، اُن Un (تم) اور استفہامیہ الفاظ جیسے،بِسَن (کیا)، مِین (کون)، بِہ شَل (کب)، اجزائے جسم کے لیے مخصوص الفاظ، جیسے،چِن (آنکھ)، تُمَل(کان)، پُش(ناک)، خَت(منہ)،
رِینگ(ہاتھ)، شَک(بازو)، ٹِس(پاؤں)، بَہ چھِن (ٹانگ)، س(دل)۔مثلاً، اَس (میرا دل)، گوس(آپ کا دل)، اِس es (اس کا دل) ل(پیٹ) اَول (میرا پیٹ)، یُول (اُس کا پیٹ)، مُول(اس(عورت)کا پیٹ)۔

اس طرح فطری مظاہر جیسے پُھو (آگ)، سِلTsil (پانی)، تِش (ہوا)، بِردی (زمین)، دَن(پتھر)، سَہ (سورج)، ہلنچ (چاند)، اَسِ (تارہ) وغیرہ۔قدیم پالتو جانور جیسے،حُک (کتا) اورطفیلیہ جیسے غَلگُو(کیڑا)، اس کے علاوہ بنیادی افعال جیسے،رَس (مرنا)، مِناس (پینا)، شِیَس(کھانا)، یہ چَس (دیکھنا)، یَلس (سننا) اور افعال نفی جیسے، نہیں (اَو۔بے)۔

تاہم ان مفاہیم کے لیے استعمال ہونے یہ بنیادی الفاظ عموماً فی زمانہ مقامی مترادفات کے ذریعے تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن بعض اوقات مختلف زبانوں کے مستعار الفاظ بھی زبان میں در آتے ہیں۔جیسے بروشسکی لفظ پُھو(آگ) اور لاطینی لفظ فوکَو میں مماثلت پائی جاتی ہے۔چنانچہ رومانوی زبانوں میں پُھو(آگ) کے لیے، فوکو، فیوگو، فوگو، فیو بکثرت استعمال ہوئے ہیں ۔(٨)
بنیادی ذخیرہ الفاظ کو بھی بسا اوقات ثقافتی الفاظ میں تلاش کیا جاسکتا ہے جو تصورات مروجہ خاص کر ثقافتوں اور مدارج ثقافت کو بیان کرتے ہیں۔اس لیے مثال کے طور پر انسان نے پتھر، لکڑی اور ہڈیوں سے اوزار بنانا شروع کیا تو ذخیرہ الفاظ میںبھی جدت آئی۔اس طرح دیگر ثقافتوں کے ایجادات نے بھی بروشسکی زبان کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔مستعار الفاظ اور جدت الفاظ ہی ثقافتی الفاظ کے خاصہ ہیں۔ جب کہ بنیادی ذخیرہ الفاظ میں اس کی نسبت زیادہ نمایاں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔(٩)

اب ہم بروشسکی زبان کی ترویج کے راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کا مختصراً جائزہ لینگے۔

١۔رسم الخط کا مسلہ:
زمانہ قدیم میں بروشسکی علمی اور ادبی زبان رہی ہوگی تاہم آج تک اس زبان کا کوئی تحریری نمونہ یا مخطوطہ دریافت نہ ہوسکا۔اس لیے اس زبان میں علمی اور ادبی اظہار کے لیے قدیم بروشسکی مصادر گرمِنَس اور غَتَنَس موجود تھے۔ یہ امکان کافی ہے کہ بروشسکی زبان کبھی لکھی اور پڑھی جاتی تھی اور تاریخ کے کسی دور میں یہ صفحہ قرطاس پر تحریری صورت میں مروج رہا ہو، لیکن اس کا رسم الخط کیا تھا؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔ بروشسکی زبان بولنے والوں کی سو فیصد تعداد اسلام کے معتقدات پر عمل پیرا ہے۔گزشتہ تین صدیوں میں عربی اور فارسی کے علمی اور ادبی آثار نے بروشسکی زبان پر گہرے نقوش مرتب کیے ہیں۔اب بروشسکی زبان کو مغربی ماہرین لسانیات رومن انگریزی جب کہ مشرقی ادباء اور ماہرین لسانیات عربی رسم الخط میں لکھ رہے ہیں۔ عربی رسم الخط میں پاکستان سے اب تک بروشسکی زبان میں بیس سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ بروشسکی حروف کی تعداد، ہیت اور ساخت کے حوالے سے ماہرین لسانیات میں اتفاق کا فقدان ہے۔ بروشسکی زبان کے بیشتر الفاظ ایسے ہیں جنکی صوتی ادائیگی اور تحریر کے لیے اردو کے حروف کافی ہیں لیکن بعض ادباء نے بے ربط اور بے ہیت حروف کووضع کرکے بروشسکی زبان کے قاری کو مخمصہ میں ڈال دیا ہے۔جیسے، قِرِینگ (بہت ہی آہستہ سے دروازہ کھولنے کی آواز)، قَرَانگ (زور سے دروازہ کھولنے کی آواز)، قَرَنگ (بہت زیادہ تیزی سے دروازہ کھولنے کی آواز)۔ان الفاظ کو عام قاری بھی آسانی سے پڑھ سکتا ہے لیکن جامعہ کراچی کی شائع کردہ جریدہ (٢١) میں انہی الفاظ کوکسی اور ڈھنگ سے لکھا گیا ہے جن کو اردو زبان کے قاری تو کیا بروشسکی زبان کا قاری بھی نہیں پڑھ سکتا۔(١٠)۔ میں کوئی لسانیات کا ماہر ہوں اور نہ ہی لسانیات کی پیچیدہ اسرار و رموز سے واقف ہوں البتہ بروشسکی زبان کی قاری کی حیثیت سے بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کراچی کے وضع کردہ بروشسکی حروف سے متفق نہیں ہوں۔ ایک علمی اور تحقیقی ادارہ ہونے کے ناطے ان کے بست و کشاد اور محققین کی اولین ذ مہ داری ہے کہ وہ بروشسکی حروف اور زبان کو عام قاری کے لیے مقبول اور سہل بنائیں۔
محولا بالا جریدہ (٢١) میں لفظ میرزو کے معنی امیر زادہ لکھا گیا ہے۔حالانکہ بروشسکی میں اس لفظ کو بطور اسم استعمال کیا جاتا ہے۔اور یہ لفظ مستعار لیا ہوا لفظ ہے۔لکھنو کے معروف علماء، ادباء اور شعرا کے نام مرزا ہوا کرتا تھا۔یہی اسم دیگر عربی، فارسی، اردو، ہندی اسماء کی طرح بروشسکی میں آدمی کے نام کے لیے استعمال ہونے لگا۔میرزو، میرزا کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس طرح دولت شاہ کو دولتو، شابان کو شوبنی، نظرشاہ کو نظرو وغیرہ۔ بین السطور میں ذکر ہوچکا ہے کہ بروشسکی زبان کاشمار بھی غیر نوعی (Unclassified) زبانوں میں کیاگیا ہے۔راقم کی نظر میں شمالی قفقازی زبانوں جیسے، باسک وغیرہ سے بروشسکی کی مماثلت قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔ذیل میں کچھ بروشسکی اور باسک و دیگر قفقازی الفاظ کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔(١١) (جاری ہے)

حوالہ جات:
-1شہناز سلیم ہنزائی، جریدہ (١٢)۔سال٢٠٠٣،جامعہ کراچی
(1).Munshi, Sadaf 2006. Jammu and Kashmir Burushaski
(2). Grierson, G.A 1906. The Pishacha Languages of North Western India
(3). Van, Driem, George 2001. Languages of the Himalayas: London.
(4). Ibid
(5). Ibid
(6). Bengston, J.D 2010. The Basque Language: History and Origin.
(7). Cited above.3
(8). Cited above.6
(9). Ibid
-10 سید خالد وعمر حمید ہاشمی2003,،بروشسکی: تاریخ و تحقیق کی میزان میں،جریدہ (١٢) جامعہ کراچی
(11). Unknown, 2001. Genetic and Cultural Linguistics Links Between Burushaski
and Caucasian Languages and Basque


صفدر حسین برچہ کا تعلق نگر سے ہے. وہ کراچی میں قائم نگر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لیے فاصلاتی مدون کا کام کر رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں