محنت کش خواتین، دوہرے استحصال کا شکار طبقہ

تحریر: اسرارالدین اسرار

ہمارے جیسےطبقاتی معاشروں میں اگرچہ اکثریتی محنت کش عوام معاشی استحصال کے شکار ہیں. لیکن کچھ طبقات ایسے بھی ہیں جودوہرے اور تیرے اسحصال کے شکار ہیں ان پسے ہوۓ طبقات کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو لوگ اس پر غور کرنے کی بجاۓ ایک جملہ ”یہاں سب پسے ہوۓ ہیں“ کہہ کےتلخ حقیقت سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر کسی معاشرے میں کوٸی ایک طبقہ پسا ہوا ہے تو یقنناً وہیں پرایک استحصالی طبقہ بھی موجود ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سارے پسے ہوۓ ہوں اور استحصالی طبقہ کوٸی نہ ہو۔

اسی طرح جو طبقات کمزور اور استحصال کے شکار ہیں ان میں بھی درجہ بندی ضروری ہے۔ یعنی کمزور طبقات کے اندر پھر کمزور ترین طبقات بھی ہوتے ہیں۔ اس لۓ ہم اگر صرف پسے ہوۓ طبقات کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک عمومی سی بات ہوجاتی ہے جو کہ صورتحال کو واضح نہیں کرتی۔ اس لۓ ان کمزور ترین طبقات کی نشاندہی کرنا لازمی ہے جو زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ ایسے طبقات کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ایک تو اپنے طبقے کی بنیاد پر اور دوسری اپنے صنف اور عقیدے اور اقلیتی ثقافت اور قومیت سے تعلق کی بنا پربہ یک وقت کئی طرح کے استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں. مگر اس کا ذکر نہیں کی جاتی ہے۔ مخصوص اورہنگامی صورتحال میں ایسے کمزور ترین طبقات کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً دہشت گردی، قدرتی آفات اور کسی وبا ٕ کے پھیلا ئو کے نتیجے میں سب کو اپنی جان کے لالے پڑتے ہیں ایسے میں یہ کمزور ترین طبقات معمول سے کئی گنا زیادہ جبر اور استحسال کے شکار ہوتے ہیں اور نظر انداز ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں ایسے بہت سارے طبقات ہیں جن کو ہم کمزور ترین طبقات گردانتے ہیں۔


حالیہ کورونا کی وبا ٕ اور لاک ڈائون کی وجہ سے گوکہ ہر عمر اور ہر شعبہ کے لوگ معاشی، سماجی اور نفسیاتی طورپر شدید متاثر ہوۓ ہیں مگر کچھ طبقات ایسے ہیں جو سب سےزیادہ متاثر ہوۓ ہیں جن میں وہ محنت کش خواتین بھی شامل ہیں جو اپنے گھروں کی واحد کفیل ہیں۔ جن میں یتیم اور بیوہ کے علاوہ وہ خواتین بھی شامل ہیں جن کے شوہر معذوری، بیماری ، بے روزگاری ، کم آمدنی ، دیہاڑی نہ لگنے یا کسی اور وجہ سے کمانے یا گھر کا خرچہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ ایسی خواتین اپنی یا دوسروں کی زمینوں پر کھیتی باڑی کرکے ،کیاریاں بنا کر ، کپڑے سلاٸی کرکے، دستکاری کا سامان بھیچ کر، دستکاری سینٹرز میں اجرت پر کام کرکے، سبزیاں فروخت کرکے، مرغیاں اور گاۓ پال کر، انڈے ، لسی ، دیسی گھی، دودھ، پھل فروٹ بھیچ کر، دوسروں کے گھروں میں صفاٸی، دوسروں کے بچوں کی نگہداشت، کھانے پکانےاور کپڑے دھونے جیسے کام کرکے، کسی دفتر یا سکول میں صفاٸی یا کھانا پکاکر، کنٹین چلاکر، لیڈیز شاپ چلاکر، پالر چلاکر، ارذوق یا فٹی (گلگت میں بنائیی جانے والی ایک قسم کی روٹی) بھیچ کر یا کسی بھی طرح کی محنت اور مزدوری کرکے اپنے اور گھر والوں کی کفالت کرتی ہیں۔ یہ خوددار خواتین نہ تو کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتی ہیں اور نہ ہی کسی مفت مدد کی طلب گار ہوتی ہیں۔ موجودہ حالات میں ان کے روزگار کے تمام راستے بند ہوۓ ہیں ۔

افسوس اس بات پر ہے کہ ایسے حالات میں ان خواتین کی الگ سے بات کرنے کے لۓ کوٸی تیار نہیں ۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ خواتین اور بچے تو گھروں میں آرام سے بیٹھے ہیں، مسئلہ تو کمانے والے مردوں کو درپیش ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر خاتون اور ہر بچہ مراعات یافتہ گھر میں پیدا نہیں ہوا ہے۔ ایسے لاکھوں خواتین اور بچے ہیں جو زندگی کی ضروریات سے محروم ہیں وہ اپنی زندگی کو بچانے کے لۓ عام دنوں میں بھی سخت ترین حالات کا سامنا کرتے ہیں ۔ مشکل حالات میں ان کی حالت زیادہ ابتر اور ناگفت بہہ ہوجاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ محنت کش خواتین کا ڈیٹا جمع کرکے ان کی مدد کے لۓ ایک جامع پروگرام مرتب کرے۔ محکمہ وویمن ڈویلپمنٹ کو اس ضمن میں زمہ داری سونپی جاسکتی ہے تاکہ وہ ان خواتین کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مدد کرنے کے لۓ فوری طور پر لاٸحہ عمل تیار کر سکے۔ معاشرے کے اس کمزور ترین طبقہ کی کفالت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں