پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بارے پٹیشن پر چیف کورٹ کی صوبائی حکومت کو نوٹس

کورٹ نے دو صحافیوں کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن کی باقاعدہ سماعت 12 مئی سے کرے گی

خصوصی رپورٹر

گلگت: چیف کورٹ نےگلگت بلتستان میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرے میں لانے کے حوالے سے دو مقامی صحافیوں کی جانب سے دائر کئے گئے رٹ پیٹیشن کو باضابطہ سماعت کے لئے منظور کیا ہے.

گلگت-بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹس ملک حق نواز

کورٹ نے حکومت گلگت بلتستان، محکمہ تعلیم اور محکمہ قانون کے ذمہ دارحکام کو مورخہ 12 مئی کو اس سلسلے میں اپنا موقف پیش کرنے کے لئےطلب کیاہے۔

منگل کو درخواست گزاروں، سینئر صحافی منظرشگری اور سینئر صحافی صفدرعلی صفدر کے وکیل اسلام الدین ایڈووکیٹ نے پیٹیشن کی پیروی کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے پر ذمہ دار حکام کو حکم جاری کریں کہ وہ پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے قانون سازی کریں اور ان کو قانون کے دائرے میں لائیں، اور ان کے کارکردگی اور فیسوں کو ضابطہ کے اندر لانے کے لئے ریگولیٹری اٹھارٹی قائم کرے۔

جس پر چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ ملک حق نواز نے پٹیشن کو مفاد عامہ کے عین مطابق قرار دیکر باضابطہ سماعت کے لئے مورخہ 12مئی کی تاریخ طے کیا۔

گلگت بلتستان کے تقریباہر ضلع، تحصیل اور گاؤں سطح پر خود رو طریقے سے سینکڑوں پرایئویٹ تعلیی ادارے بغیر کسی ضابطہ اورقانون کے کام کر رہے ہیں اور معیاری تعلیم کے نام پر کاروبار چلا رہے ہیں.

ان کی کارکردگی اور فیسوں پر نظر رکھنے کے لئے نہ تو صوبائی حکومت نے کوئی قانون سازی کی ہے اور نہ کوئی ادارہ موجود ہے جو ان پر نظر رکھے. ان اداروں کا بنیادی مقصد صرف اور صرف منافع اور راتوں رات امیر بنناہے. اس کے علاوہ معشرے میں طبقاتی فرق کو بڑھاوا دینا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں