کوورنا وائرس اور نئی سوچ و فکر کی ضرورت

تحریر:جنید ایوب


اور بھی دکھ ہیں زمانے   میں   محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں  وصل کی راحت کے سوا

— فیض احمد فیض

کوورنا وائرس نے  آج کل سارے اقوام عالم کو پریشان کر رکھا ہے اور دنیا کے زیادہ تر ممالک اس خطرناک وبا ءکے لپیٹ میں آچکے ہیں۔

ابتدا میں   یہ وائرس چین کے صوبہ ووہان   سے  شروع ہوگیا  اور آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ  میں لے لیا  حتٰی  کہ   امریکہ جیسے طاقتور ملک  کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر لیا ۔ اب تک چھتیس لاکھ لوگ 190 ممالک میں اس سے متاثر ہوئے ہیں اور  وقت گزرنے کے ساتھ اس وبا ءسے متاثر ہونے والوں  کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس وبا ءنے  اب تک  دو لاکھ  سے زائد انسانوں کی  جان لے چکی  ہے۔ اور اموات کی شرح میں دن بد ن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔پاکستان میں 21 ہزار لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں اور 450 سے زائد لوگوں کی جان لے چکی ہے۔

قارئین  اس بات کو واضح کرتا چلو ں کہ یہ وباء پاکستان میں پھیلنے سے پہلے لوگ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ چین کےلوگوں پر خداکا عذاب نازل ہوگیاہے اور ان لوگوں کو یہ خیال تک نہیں آیا کی یہ افُتاد ہمارےاُوپر بھی آ سکتی ہے۔ جب یہ افُتاد ہمارے اوپر آن پڑی تو ہم نے اس کو امتحان سمجھا لیکن اپنے گربیان  میں جھانکنے کی کوشیش  نہیں کی۔۔!  اور آج بھی  اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے تیار نہیں۔ اس وقت  بھی ہم  نے انسانیت  کے درد  کو محسوس  نہیں کیا اور آ ج  بھی  ہم انسانیت کو صیح معنو ں میں سمجھ نہیں  پاسکے  ہیں!!! آج بھی  ہماراضمیر نہیں جاگ سکا اور حرام خوری، بد دیانتی، منافقت اب بھی عام ہیں، اپنے روزمرہ معاملات میں بے ایمانی اور دھوکہ دہی اسی طرح جاری ہے؛ اشیا ئے خورد و نوش کی ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ اور منافع خوری، اغواٰ, قتل اور چوری جیسے جرائم اسی طرح جاری ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کےلئے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اگر ہم اپنی نیتوں کو صاف نہیں رکھیں  گے اور  اپنے رویوں کو درست نہیں کریں  گے تو ہم ایک انسان کہلا نے کے قابل نہیں ۔ قرآن کریم میں ارشادہے کہ” انسان کی فطرت خدا کی اشنائی ہے وہ اپنی فطرت کی گہرائی میں خدا تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اس سے یہ واضح  ہوتا ہے کی انسان کو اس کائنات میں بیماریوں سے گزرنا ہوتا ہے اور یہ بیماریاں قدرت کی  طرف سے پیداکردہ ہے ۔

کورونا وباء کا نام ہمیشہ لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہے گا۔ اس وباء کے بارے میں لوگوں میں مختلف قسم کے نقطہ نظر اور خیالات پائے جاتے  ہیں۔کچھ لوگ اس کو دنیا کا سب سے بڑا عجوبہ قرار دیتے ہے،کچھ لوگ اسے انسانوں کے اعمال کا  نتیجہ اور خدا کا عذاب سمجھتے ہیں ۔ان  مفروضات،نظریات اور خیالات سے قطع نظر ایک بات واضح  ہے اور جس پر سب سائنسدان، طبی ماہرین ، سیاستدان اور مذہبی حلقہ متفیق ہیں  کہ اس وائرس کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ہے اور  کسی ویکسین کے بننے میں دو سال لگ سکتے ہیں اس وقت صرف احتیاط  اور سماجی دوری کے ذریعے اس سے بچا جاسکتا ہے۔ سو ہمیں احتیاط کرنا ہوگا۔

لوگ اس وبا ءکی وجہ سے بہت خوف زدہ  اور پریشان ہیں  ۔ تاریخ میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ  کسی وباء یا جنگ کی وجہ سے عبادت گاہوں کو بند  کرنا پڑے۔جب کی  اس وبا ءکے پھیلاؤ کی وجہ سے آج کعبہ کوبھی بند  کرنا پڑ ا۔ اس کے علاوہ مساجدِ، مندر، چرچ،گُردوارے  اور دیگر مذہبی عبادات اور مقدس جگہوں کو بھی بند کیا گیا ہے۔ یہ  ایک اچھا  فیصلہ  ہے۔۔۔۔! یہ انسانوں کے بچاؤکے لئے کیا  گیا ہےاور اس میں ہمار ےلئے ایک سبق بھی ہے   وہ یہ کہ عبادات کے ساتھ ساتھ سائنسی علم ، فکر اور تحقیق   اور سماجی برابری اور دولت کے ارتکاز کو ختم کرکے وسائل کو تمام انسانوں کی بھلائی کے لئے استعمال کرنا  بہت ضروری ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا  اور غور وفکر کرنا پڑے گااور لوگوں کے دلوں میں انسانی مساوات اور رواداری کو اجُاگر کرنا ہوگا

مرشد جون ایلیا سے روایت ہے کی”ہم نے ابھی تک لوگوں کو انسانوں سے محبت کرنا نہیں سکھایا ہے”۔ یہ بات تو جون صاحب نے دنیا کی ایک تلخِ حقیقت  کو بیان کیا ہے ۔اصل بات یہ ہے کی ہم نے انسانوں سے محبت تو  دور کی بات ہم نے لسانی، نسلی اور طبقاتی و  جغرافیائی بنیادوں پر  لوگوں کے درمیان نفرتیں پیدا کی ہیں.

ہم اکثر مغرب  کے لوگوں کو گا  لیاں  دینے   میں پیش پیش ہوتے ہیں اور آج جب کی اس وبا ء سے نمٹنے کا وقت آیا تو ہم  کہیں نہیں ہیں اور ہم مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں کی کب  کوئی ویکسین اور دوا  تیار ہو  اور ہم تک پہنچ جائیے۔ اسی طرح جب انسانی ہمدردی کی بات آئی تو یورپ کے لوگوں نے بازی جیت لیا-  ڈیٹول  اور سینیٹائزر جسے ہم حرام قرار دیتے تھے جو کی ایک لادین ملک تھائی لینڈ بناکر بھیجتا ہے انھں آج ہم اپنےعبادت گاہوں میں ہاتھ دھو نے کےلئے استعمال کر رہے ہیں اور واپس ہم گھر آکر اس کو حرام قرار دے کر اپنے بچوں  کے سامنے یورپ کے لوگوں کی برائیاں کرتے ہیں

ایک سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا؟ ہم  نے بحیثیت مسلمان  ان وباء کے دنوں میں انسانیت کی کیا خدمت کی؟ اب ہمیں ڈر و خوف توہمات اور دقیانوسی روایات، فرسودہ افکار اور خیالات سے باہر نکلنا  ہوگا اور اپنے سوچ کے زاوئے بدلنے ہوں گے تب ہم اس خطرناک وبا ء اور جہالت سے نجات  پا سکتے  ہیں۔ ہمں ان سے باہر نکل کر سوچھنا ہوگا۔  دعا ؤں کے ساتھ ساتھ ہمں دوا بھی ایجاد کرنے  کےبارے میں سوچنا ہوگا –اگر  ہم صرف خوفزدہ ہو کے بیٹھ جائینگے تو ہم نفسیاتی طور پر مفلوج ہوجا ئیںگئے ۔ ابھی تک  ہم  اس سوچ میں ہیں  کہ  کب اپنے  رشتہ داروں اور دوست احباب سے ہاتھ ملا ئیں؟ اورکب اپنے عبادت گاہوں میں جا  ئیں ہمیں اپنے حوصلے پست نہیں کرنے ہوں گے اور جب ہم ہمت سے مقابلہ کر یں گے جدید علوم اور فکر کو اپنائیں گے تو ہم اس وبا ءکو شکست دے سکتے ہیں۔ میری دعا ہے کی پرودگار عالم ہم سب کو اس خطرناک وبا سے محفوظ رکھ سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں