کورونا وائرس اور گلگت بلتستان کے طلباء کے مسائل

تحریر: اظہر علی


پاکستان کےدیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان بھی کرونا وائرس سے متاثر ہے، اب تک یہاں 480 سے زیادہ افراد میں اس مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے. جن میں سے دوسو پچیس افراد صحت یاب ہوئے جبکہ ایک ڈاکٹر،ایک ہیلتھ ورکر (ڈاکٹر اسامہ ریاض اور مالک اشدر)، کے علاوہ ایک مریض اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ وائرس کی وجہ سے جہاں زندگی کے باقی تمام شعبہ جات متاثر ہوئے ہیں وہیں طلبہ بھی بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے زیادہ تر طلبہ محنت کش یا پھرنچلے درمیانہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ان کی آمدنی بھی بہت محدود ہے.زیداہ تر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں اور ایک اچھی خاصی تعداد سیا حت، چھوٹے چھوٹے دوکان یا موسمی پھل اور سبزیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں.. اس کے باوجود وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر بہت زور دیتے ہیں. لیکن ریاست لوگوں کو تعلیم جیسی بنیادی حق فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اسلئے نجی شعبہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر تعلیم کو ایک منافع بخش کاروبار کے طور چلا رہے ہیں. اسلئے والدین اپنی زمینیں بیچ کر بھی بچوں کے لئے تعلیم خرید تے ہیں۔ اب کورونا کی وجہ سے بیشتر کاروبار اور سیاحتی و ٹرانسپورٹ کے شعبے مکلم طور پر بند ہیں اور دن بہ دن لوگ بے روزگار ہوتے جارہے ہیں۔ جو طلبہ شہروں میں چھوٹی موٹی نوکریاں کرکے اپنی فیسیں ادا کرتے تھے وہ اب بے یار و مددگار فاقہ کشی کی حالت میں ہیں۔کچھ طلبہ کا انحصار سکالر شپ پہ تھا اس کے ذریعے پاکستان یا بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں، لیکن وہ بھی درہم برہم ہو گیا ہے ایک غیر یقینی صورتحال ہے. نہیں معلوم کہ وقت پر داخلہ مل پائے گا اور سکالرشپ بھی دستیاب ہوں گے کہ نہیں۔ لہٰذا اب طالب علم پرائیویٹ یا سرکاری یونیورسٹیوں کے پیسے ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں، ایسے میں ان کے سامنے کوئی روشن مستقبل نہیں ہے۔

گلگت بلتستان میں اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ آج تک ریاست نے یہاں پر نہ انجینئرنگ کالج بنائی اور نہ میڈیکل کالج۔ 72 سالوں میں ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا لیکن اس میں نہ تجربہ کار اساتذہ ہیں اور نہ تمام شعبہ جات اور جدید سہولتیں اور نہ امتحانات کا کوئی شفاف انتظام ہے۔ بہت سے طلبہ اس یونیورسٹی سے ڈگریاں لے کر بے روز گار بیٹھے ہوئے ہیں کیوں کہ پاکستان میں کوئی بھی شعبہ اس یونیورسٹی کی ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں. یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں ملازمتوں کے لئے مختلیف ادارے نجی تعلیمہ اداروں سے فاریگ التحصیل نوجوانوں کو فوقیت دیتے ہیں .یہی طبقاتی نظام کا خاصہ ہے کہ غریبوں کے بچوں کے لیے تعلیم تو ہو مگر ناقص جس سے ان کا دل تو بہل جائے کہ ان کے بچے تعلیم یافتہ ہیں لیکن عمل میں اس تعلیم کی کوئی افادیت نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے بیشترطلبہ پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور وہاں پر بھی وہ بمشکل ایسی ہی ناقص تعلیم خریدنے کی پر مجبور ہیں جو ان کے تعلیمی معیار میں زیادہ بہتری کا باعث تو نہیں بنتی، مگر شہروں میں رہنے کی وجہ سے اضافی معاشی مسائل کا باعث ضرور بنتی ہے۔

جہاں غریب اور نچلے درمیانہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو پہلے ہی بے شمارمعاشی مسائل کا سامنا تھا وہاں اس مہلک وباء کے آنے سے ان میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور حکومت ان کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کیلئے نہ صرف مالی معاونت کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے بلکہ پسماندہ انفراسڑکچر کی موجودگی میں آن لائن کلاسوں کا اجراء کر کے ان مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

وباء کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے آغاز پر ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی قلت کی وجہ سے کراچی اور دیگر شہروں سے گھروں کو لوٹنے والے طلبہ کو بیشمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا، حکومت نے اس مشکل وقت میں سفری سہولیات فراہم نہ کر کے تمام طلبہ کو بے سروسامانی کے عالم میں چھوڑ دیا جس کی وجہ سے طلبہ کو بہت زیادہ ذلت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں طلبہ نے جیسے تیسے کسی طرح بسوں کا انتظام کر کے سفر کرنا شروع کیا تو انہیں راستے میں روک کر خیبر پختونخواء کی پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، اس طبقاتی سماج کا تضاد دیکھئے کہ اوپری درمیانہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد جو پرائیویٹ کاروں میں آتے ہیں، انہیں بغیر قرنطینہ کیے اپنے گھروں میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے جنبکہ نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والقں کو دو دو یا تین تین ہفتہ قرنطینہ مرکز میں بغیر مناسب خوراک اور حفاظتی انتظام کے رکھا جاتاہے۔

پاکستان کی تقریبا تمام یونیورسٹیوں نے آن لائن کلاسز کا اجراء کیا، لیکن دیگر پسماندہ علاقوں کی طرح گلگت بلتستان جیسے دورافتادہ خطے میں انٹرنیٹ کا کوئی جدید نظام سرے سے موجود ہی نہیں اور جن علاقوں میں یہ دستیاب ہے بھی تو وہاں اس کی رفتار اور معیار انتہائی سست اور ناقص ہے اور سونے پر سہاگہ بجلی کا نظام بھی زیادہ تر علاقوں میں بہت ناقص ہے اور تقریباً پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، اس صورتحال میں آن لائن کلاسوں کا اجراء ایک بے بیکار عمل اور طالب علموں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ اگر آن لائن کلاسیں شروع کرنی ہیں تو طلبہ کو مفت، میعیاری انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ فراہم کرنے ہوں گے ورنہ یہ ایک بھونڈا مذاق ہے جس کے خلاف گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے طلباء نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور یہ مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آن لائن کلاسز کو بند کیا جائے، لیکن ابھی تک بہت سی یونیورسٹیوں نے اسے جاری رکھا ہوا ہے۔

حکومت طلبہ اور محنت کش طبقے کو اس بحرانی کیفیت میں کوئی سہولت اور امداد دینے کے لئے سنجیدہ نہیں وہ صرف بڑے بڑے سرمایہ داروں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ طاقرور عناصر اور لینڈ مافیا کو بیل آؤٹ پیکیجز دے رہی ہے جن کی وہ نمائندگی کرتی ہے۔ اس صورتحال میں طلبہ کو اپنے مسائل کے حل کے لئے متحد ہوکر اپنے بنیادی حقوق کے لئے تحریک چلانا ہو گی ورنہ یہ فرسودہ تعلیمی نظام اور اسکو چلانے والے حکمران اور نجی کاروباری عناصر ان سے فیسیں نچوڑنے کیلئے اس قسم کے ہتھکنڈے جاری رکھیں گے۔بالخصوص گلگت بلتستان کے محکوم محنت کشوں اور طلبہ کو پاکستان کے دیگر محکوم اقوام کے محنت کشوں اور طلبہ کے ساتھ جڑت پیدا کرکے اپنے حقوق کے لئے جہدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور اس جہدوجہد کیلئے لازمی ہے کہ ایک ایسی انقلابی پارٹی کی تعمیر کے عمل کو تیز کیا جائے جو سائنسی نظریات سے لیس ہو اور طبقاتی بنیادوں پر بغیر کسی رنگ، نسل، قوم، ذات وغیرہ کے تمام مظلوموں کو جدید نو آبادیاتی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف منظم کرے اور اس خطے میں سوشلسٹ انقلاب برپا کرے۔ تاکہ ایک مزدور ریاست کے قیام کے ذریعے ہر جگہ یکساں نظام تعلیم، روزگار، علاج اور زندگی کی تمام سہولیات کو بلا تفریق رنگ، نسل، ذات پات،مذہب اور قومیت مہیا کیا جاسکے۔


اظہر علی کا تعلق ہنزہ سے ہے وہ نوجوان سیاسی کارکن اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طالب علم ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں