ہنزہ میں کورونا سے نمٹنے کے لئے ناقص انتظام پرتشویش

عوامی ورکرز پارٹی جی بی، این ایس ایف جی بی کے رہنماؤں نے پرائیویٹ اسکولوں کے فیسوں میں اضافہ پر تنقید; تاجروں اور نوجوانوں پر تشدد اور گرفتاری کی مذمت؛ بابا جان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ


بام جہان رپورٹ


ہنزہ: ترقی پسند سیاسی رہنماؤں، نوجوان اور طلباء تنظیموں کے کارکنوں نے ضلع ہنزہ میں کورونا سے نمٹنے کے لئے ناکافی اقدامات، حکومت اور انتظامیہ کےغیر ذمہ دارانہ رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے. انہوں نے دوکانداروں، تاجروں اور نوجوان رضاکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانےاور بلا جواز گرفتار ی پر بھی تنقید کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہنزہ کے عوام جو اب تک کورونا وباء سے محفوظ رہا ہے، انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور صوبائی حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضلعی انتطامیہ نے اپنا رویہ نہیں بدلا اور ضلع میں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگوں کے لئے قرنطینہ کا انتظام نہیں کیا گیا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے جس کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور حفیظ حکومت پر عائد ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنماء واجد اللہ بیگ، ناصر خان، امین خان اور نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے نوجوان رہنماء رحیم خان اور دیگر کارکنوں نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا۔

اجلاس میں ضلع ہنزہ کے شیناکی سب ڈویژن میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور قرنطینہ سنٹر کی عدم موجودگی اور پرائویٹ اسکولوں کی جانب سے اس بحران کے شکار محنت کش اور غریب طبقوں کے بچوں کی فیسوں میں کمی کی بجائے اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔

واجد کا کہنا تھا کہ ایک طرف بیوروکریسی کے نمائندے بڑے بڑے پجاروز میں سیر سپاٹے میں مصروف ہیں دوسری طرف عوام اور صف اول میں لڑنے والے ڈاکٹرز اور طبی کارکن بغیر حفاظتی سامان کے کورونا سے لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ایک طرف وزیر اعلی پاکستانی میڈیا اور ٹی وی چینلز پر روزانہ کی بنیاد پر اپنی حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے میں لگے ہوے ہیں. اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی انتظامیہ نے تمام ضلعوں میں کورونا وباء سے نمٹنے کے لئے بہترین انتظامات کئے ہیں جس کی وجہ سے کورونا کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ابھی بھی نئے کیسسز سامنے آ رہے ہیں اور ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی اہللکار اپنے رویوں میں تبدیلی لانے اور لوگوں کو راحت پہنچانے کی بجائے سیر سپاٹوں اور پبلک فنڈ کو ضائع کرنے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا ایک طرف لیگی سرکار اور نوکرشاہی کے اہلکار دعواء کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں قرنطینہ مراکز میں بہترین کھاناحتٰی کہ ٹراؤٹ مچھلی مہیا کیا جاتا ہے. جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہنزہ شیناکی اور گوجال سب ڈویژن میں قرنطینہ کا کوئی انتظام نہیں۔ ہنزہ میں جو قرنطینہ سنٹر ہے وہاں لوگوں کو مناسب خوراک کا کوئی انتظام نہیں۔

ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ پرایئویٹ کاروں کے ذریعے کراچی اور دوسرے شہروں سے ہنزہ ضلع میں آرہے ہیں لیکن ان کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کا کوئی انتظام نہیں وہ سیدھا گھروں کو جاتے ہیں جس سے وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔

ان رہنماؤں نے کہا کہ صرف ناصر آباد (ہنی) کے 20 کے قریب لوگ کراچی میں کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ اب سننے میں آ رہا ہے سو کے قریب لوگ کراچی سے روانہ ہوئے ہیں اور ہنی پہنچنے والے ہیں لیکن ان کا ٹیسٹ اور قرنطینہ کا کوئی انتظام نہیں اگر وہ سیدھا گھروں میں داخل ہوئے اور خدا نخواستہ کسی میں وائر س موجود ہوا تو اس سے پوری آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔

رحیم خان نے کمونیٹی اسکولوں کی جانب سے طلباء اور ان کے والدین کو اس پریشان کن صورتحال میں مزید پریشان کرنے میں مصروف ہیں. انہوں نے نشاندہی کیں کہ فیسوں میں حکومتی اعلان کے مطابق 20 فی صد کمی کی بجائے اضافہ کیا گیا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔

آغا خان ایجوکیشن سروس کے تحت چلنے والے اسکول دراصل منافع بخش کاروبار کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرایئویٹ اسکولوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بحرانی دور میں فیسوں میں کمی کریں۔ لیکن اے کے ای ایس کی انتظامیہ نے اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ کر کے اس کی کھلی خلاف ورزی کی ہے جس کو اگر واپس نہیں لیا گیا تو وہ اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکٹا ئیں گے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسکول کے انظامیہ بچوں کے نتائج کو روکتے ہیں اور نہیں دیتے تاوقتیکہ فیس کی ادائیگی نہیں کی جائے۔

این ایس ایف گلگت بلتستان کے رہنماء نے گلگت بلتستان میں خراب اور بوسیدہ انٹر نیٹ سروس پر بھی تنقید کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کو بہتر بنایا جائے، تاکہ طلباء آن لائن کلاسیں لے سکیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس عالمی وباء کی روک تھام کے لئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھایئں،

نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر لوگوں کو گھروں میں رہنے اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی تاکید کرتے تھے لیکن گزشتہ دنوں ایس پی ہنزہ کے حکم پر ان نوجوانوں کو جو رات کو ڈیوٹی دے رہے تھے بلا جواز گرفتار کیا گیا جس کی وجہ سے نوجوان رضاکاروں نے ڈیوٹی دینا چھوڑ دیا۔ اب لوگوں کو سمجھانے والا اور لوک ڈاؤن پر عملدرآمد کے لئے میدان میں کوئی موجود نہیں۔

یاد رہے پچھلے دنوں وزیر اعلٰی نے ہنزہ کا دورہ کیا اور کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان پر اطمنان کا اظہار کیا۔ لیکن سیاسی کالفین اور سماجی رابطہ کے کارکنوں نے اس دورے پر تنقید کیا اور کئی سوالات اٹھائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلٰی نے اپنے دورہ میں ہنزہ کے لئے کوئی قابل ذکر اعلانات نہیں کئے ۔ بلکہ سیاسی حلقوں کی جانب سے سب سے اہم ضلعے کے لئے اعلان شدہ ریلف اور امداد پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہنزہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے او امدادی سامان بہت کم مقدار میں دی گئی ہے خاص طور پر ہنزہ کے سب سے بڑے سب ڈویژن گوجال کے لئے صرف 500 خاندانوں کے لئے امدادئ سامان دیا گیا ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں ۔ گوجال کے تمام سیاسی پارٹیوں پر مشتمل رابطہ کمیٹی نے متفیقہ طور پر اس امداد کو رد کیا تھا۔

رابطہ کمیٹی نے اپنے طور پر رضا کاروں کی مدد سے باہر سے آنے والے لوگوں کی ٹیسٹ اور قرنطینہ میں رکھنے اور ان کے خوراک کا بندوبست کیا تھا۔ بعد میں رابطہ کمیٹی کو ایک طرف چھوڑ کے انتظامیہ نے مذہبی اداروں کے ذریعے امدادی سامان کو راتوں رات تقسیم کروایا ۔

شروع شروع میں مقامی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے باہر سے انے والے لوگوں کی ٹیسٹ اور قرنطینہ میں رکھنے کے انتظامات کئے ہیں اور ہر بڑے گاوں میں ہوٹلوں کو تحویل میں لے کر لوگوں کو ان میں رکھنے کا بندوبست کیا ہے۔لیکن صورتحال اس کے بلکل الٹ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں