ممتاز مارکسی دانشور اور کسان تحریک کے بانی چوہدری فتح محمد سپرد خاک

کشمیر کے سابق جج اعظم خان، عوامی ورکرز پارٹی کے سینئر رہنماء عابد حسن منٹو، پرو فیسر جعفر احمد و دیگر رہنماؤں کی چودھری فتح محمد کو شاندار خراج تحسین؛ اے ڈبلیو پی نے دو روز کے سوگ کا اعلان

بام جہان رپورٹ

عوامی ورکرز پارٹی کے بانی رکن، ممتاز مارکسی دانشور اور پاکستان میں کسان تحریک کے بانی چوہدری فتح محمد جن کا پیر کے روز صبح 4 بجے 97 سال کی عمر میں انتقال ہوا، کو ہزاروں لوگوں، ان کے سیاسی ساتھیوں اور ورکروں اور اہیم ادبی و سیاسی شخصیات کی موجودگی میں ان کے گاؤں 305 گ ب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سپرد خاک کیا گیا۔
چوہدری صاحب کے جسد خاکی کو پارٹی کے لال اور سفید رنگوں کے پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کیا گیا.
نماز جنازہ میں عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے تقریباً تمام یونٹوں کے ذمہ داراں اور کارکنوں اور بائیں بازو کے دیگر تنظیموں، کسان تنظیموں اور محنت کشوں، ادیبوں، دانشورون اور کارکنوں نے شرکت کیں اور انہیں آخری سلا م پیش کیا۔

کرونا کی وبا آور سخت گرمی کے باوجود ان سے محبت کرنے اور چاہنے والوں کا ایک جم غفیر تھا. ملتان سےسرائیکی وسیب کے صدر فرحت عباس، اقبال ملک، اعظم ملک اور نواز پاندہ نے شرکت کی. سرائیکی وسیب کے ایک محترم بزرگ رہنما اور چوہدری مرحوم کے دیرینہ ساتھی ملک محمد علی بھارا نےعلالت اور بیماری کے باوجود شرکت کی۔ فیصل آباد سے محمد سعید اور دیگر رہنماؤں نے جنازہ میں شرکت کیں. انھوں نےپارٹی پرچم تھامے ہوئے تھے اور چوہدری صاحب کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے انقلابی نعرہ لگاتے رہے۔


آزاد کشمیر کے سابق چیف جسٹس اعظم خان نے اپنا تعزیتی پیغام میں کامریڈ فتح محمد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ” ان جیسا انقلابی راہنما کبھی کبھی پیدا ہوتےہیں۔ انہوں نے 1970 کی مشہور ٹوبہ ٹیک سنگھ کانفرنس منعقد کر کے انقلابی تحریک میں نئی جان ڈال دی۔ کامریڈ کی انقلابی جدوجہد کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔”

عوامی ورکرز پارٹی کی مرکزی قیادت نے ایک بیان میں چوہدری فتح محمد، جو ایک عظیم انقلابی کسان رہنما اور پارٹی کے پنجاب کے بانئ صدر تھے، کے انتقال پر دو دن کی سوگ کا اعلان کیاہے۔پارٹی نے عید کے اختتام ہفتہ کے دوران مزدوررہنما یوسف بلوچ کے انتقال پر بھی غم کا اظہار کیا

"پارٹی قیادت اور کارکنان دونوں رہنماؤں کے انتقال پر غمزدہ ہیں جو اپنی زندگی کے آخری سانس تک اپنے نظریات پر قائم رہے اور مزدور وںاور کسانوں کےحقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔”

پارٹی نے دونوں رہنماؤں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور محنت کش طبقوں ، مظلوم قوموں ، مذہبی / نسلی اقلیتوں ، خواتین ، لڑکیوں اور غریبوں کے استحصال، اور جبرکے خاتمے کے لئے ان کی آدرشوں اور ورثہ کو آگے بڑھانے اور جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔


انھوں نے پانچ بیٹوں نعیم فتح ، ڈاکٹر جاوید فتح ، پرویز فتح ، سلیم فتح ، ندیم فتح ، اور دو بیٹیاں ڈاکٹر یاسمین اشرف ، نازنین سلیم، 18 پوتے پوتیوں اور ہزاروں ساتھیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اپنے تعزیتی پیغام میں، اے ڈبلیو پی کے بانی صدر عابد حسن منٹو نے کہا کہ "چودھری فتح محمد کے انتقال سےمیں ایک عظیم ساتھی اور محنت کش طبقے کے ایک حقیقی انقلابی رہنماء سے محروم ہوگیا ہوں۔ میرے لئے ان کی وفات ایسا ہے جیسے میرا ایک بازو مجھ سے جدا ہو گیا۔ انہوں نے کہا ، کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوئے ہیں لیکن ان کی یادیں اور نظریات ہمیشہ ہمارے سا تھ رہیں گے اور نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہوںگی۔”

منٹو صاحب نے اپنی چھ دہائیوں پر محیط سیاسی رفاقت، اور جدوجہد کی یادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے چودھری فتح محمد اور سی آر اسلم کے ساتھ مل کر پنجاب میں سوشلسٹ تحریک کی بنیاد ڈالی۔ وہ نہ صرف محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے تھے بلکہ کسان تحریک کا سب سے پڑھا لکھا اور باشعور رہنماء تھے۔ انہیں ، مزدور طبقے کے نظریات ، جدوجہد کی تاریخ اور ان کے حقوق کا مکمل ادراک اور شعور حاصیل تھا۔.

انہوں نے پاکستان میں سماجی تبدیلی کا خواب دیکھا اور زندگی بھر اس کی تعبیر کےلئے مصروف عمل رہے۔

منٹو صاحب نے کہا چودھری فتح محمد نے ملک بھر میں کسان تحریک کو منظم کرنے اور 1970 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک تاریخی کسان کانفرنس کو منعقد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس نے نہ صرف عام انتخابات میں پاکستان بھر میں سوشلسٹ امیدواروں کی شاندار فتوحات کا مرحلہ طے کیا تھا بلکہ اس کے بعد بھی دو اہم کامیابی 1972 اور 1977 میں زرعی اصلاحات کی قانون سازی حاصل ہوئی تھی ۔

انہوں نے اپنے نظریات کے لئےنہ صرف اپنی زندگی کو وقف کیا تھابلکہ اپنے بچوں اور پورےخاندان کو بھی مزدور طبقے اور کسان تحریک کی تعمیر اور ایک انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد میں حصہ لینے کی ترغیب دی اور شامل کیا۔

منٹو صاحب نے کہا کہ ، "میں ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کے بچے اور پارٹی قیادت اور کارکنان ان کے مشن کو جاری رکھیں گے۔”
اے ڈبلیو پی کے صدر یوسف مستی خان نے کہا کہ "ہم نے ایک عظیم انقلابی ساتھی اور ایک قشفیق انسان کو کھو دیا ہے۔” چوہدری فتح محمد تمام ترقی پسند سیاسی کارکنوں کے لئے ایک قابل تقلید رہنماء تھے کیونکہ وہ انقلاب کے لئے پرعزم رہے اور مظلوم طبقات کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔

پارٹی کے سکریٹری جنرل اختر حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ "چوہدری فتح محمد کے انتقال سے نہ صرف پارٹی کوبلکہ پوری ترقی پسند تحریک اور کسان تحریک کو دھچکہ لگا ہے۔
اختر حسین نے کامریڈ فتح محمد کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ملک بھر میں دو روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ انہوں نے تمام پارٹی اکائیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تمام تر سرگرمیاں دو دن کے لئے معطل رکھیں اور چوہدری فتح محمد اور یوسف بلوچ کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کے لئے تعزیتی اجلاس کا اہتمام کریں۔


اے ڈبلیو پی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عصمت شاہجہاں نے کہا کہ” کامریڈ فتح محمد زندگی کے آخری سانسوں تک کسانوں کے حقوق کے لئے مصروف عمل رہے۔ ہم ان کی میراث کو آگے بڑھائیں گے اور مظلوم اقوام ، خواتین ، اقلیتوں کے حقوق اور استحصال اور جبر سے پاک معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

عوامی ورکرز پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر حیدر زمان اخوند زادہ نے پارٹی کے بانی رہنماء چوہدری فتح محمد کےانتقال پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا ، "خیبر پختونخوا ءکے ساتھی چوہدری فتح محمد کی موت پر شدید غمزدہ ہیں ، وہ جہد مسلسل کا نمونہ تھے۔ جوتاریخ میں ہمیشہ یاد ر کھے جائینگے۔ ان کی وفات سےپاکستان میں کسانوں کے حقوق کی جدوجہد کونا قابل تلافی نقصان پہنچاہے. ان کی جگہ بہت مشکل سے پر ہو سکے گی۔

اے ڈبلیو پی کے پی کے کے سابق صدر شہاب خٹک ایڈووکیٹ نے کہا کہ کامریڈ فتح محمد کی یادیں ہماری زندگی کا ایک قیمتی اثاثہ بن کر ہمیشہ ساتھ رہینگی۔انھوں نے کہا کہ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ کہ ان کے ساتھ کئی سیاسی سرگرمیوں میں مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت ہمارے لئے مشعل راہ ہی رہیگی۔

عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے سابق صدر عاصم سجاد اختر نے کہا کہ پاکستانی پنجاب میں بائیں بازو کی سیاسی تاریخ میں بہادر ی بھی ہے لیکن اس کے ساتھ پیچیدہ بھی ہے۔ پنجاب نے اسٹیبلشمنٹ کے گڑھ کی حیثیت سے طویل عرصے سے دور رس فیصلہ کیا ، اس کے باوجود پنجاب نے انقلابات میں اپنا مناسب حصہ ڈالا ہے اور آج تک ریاستی جبر اور اشرافیہ حکمراں طبقوں کی زیادتیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چودھری فتح محمد ایک ایسی معدوم ہوتے نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے اپنی پوری زندگی سوشلسٹ متبادل کی تعمیر کے لئے وقف کردی تھی ۔ ہم ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ایک انقلابی پنجاب کی میراث کو جاری رکھنے کا عزم کرتےہیں جو مظلوم اقوام ، خواتین اور اس کے اپنے استحصال طبقوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
ان کی جدوجہد مظلوم عوام کے حقوق اور ایک انقلابی سماج کی تعمیر کے لئے ہمیشہ غیر متزلزل رہی۔ وہ زندگی کی آخری سانس تک سنجیدگی اور تسلسل سے اپنے عظیم نظریاتی منزل کی طرف رواں دواں رہے۔

ان کا جسمانی طور پر جدا ہونا یقیناً دکھ اور افسوس کا باعث ہے لیکن یہی غم سب ساتھیوں کی قوت بنے گا تاکہ جدوجہد کی رفتار کو تیز تر کیا جائے اور ان خوابوں کا حصول جلد از جلد ممکن ہوسکے جن خوابوں کی تکمیل کے لئے کامریڈ نے زندگی کا ایک ایک پل وقف کر رکھا تھا ۔ ”

اے ڈبلیو پی پنجاب کے صدر عمار راشد نے پنجاب کے بانی صدر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے وئے کہا کہ "آج بائیں بازو کی رہنمائی کرنے والی روشنی ، انقلابی کسان اور ٹریڈ یونین رہنما ہم سے جدا ہوئے ۔ انہوں نے سات دہائیاں انقلابی جدوجہد میں گزاریں اور پنجاب میں کسان تحریک کی بنیاد رکھی۔

"انہوں نے سوشلزم اورانقلابی جدوجہد کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی اور جاگیرداری اور سرمایہ داری کے خلاف نچلی سطح کی جدوجہد کی جو شاندار روایت چھوڑا ہے ہم عہدکرتے ہیں کہ اس کو آگے بڑھائیں گے۔

عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے سیکریٹری جنرل عابدہ چوہدری نے کہا کہ چوہدری فتح محمد نے جاگیرداری کے خاتمے اور کسانوں، مزارعین اور کھیت مزدوروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے کسان کمیٹیاں تشکیل دیں اور بڑے پیمانے پر کسان کانفرنسں منعقد کیں۔ستر کی دہائی میں منعقد ہونے والی ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس میں لاکھوں کسانوں نے شرکت کی جس کے نتیجے میں مقتدر حلقوں نے زرعی اصلاحات کی جانب سنجیدگی سے غور کیا گیا

وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اپنی نظریاتی اور سیاسی اصولوں پر قائم رہے ۔

عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے صدر بخشل تھلہو نے چودھری فتح محمد کے انتقالِ پر دکھہ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی آخر دم تک جدوجہد کو سُرخ سلام پیش کیا.

انہون نے کہا کہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں بائیں بازو کی تحریک، کسان تنظیمیں اور عوامی ورکرز پارٹی کو بنانے میں ان کا کردار کلیدی تھا. ان کی تمام زندگی جہد مسلسل کی زندہ جاوید تصویر تھی۔

عوامی ورکرز پارٹی سانگھڑ نے چودھری فتح محمد کے انتقالِ پر پیر کو ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا جس میں سانگھڑ پارٹی کے شہدادپور یونٹ کے سینئر رہنما قاضی علی نواز نظامانی اور مشتاق نظامانی کی قیادت میں شریک ہوئے ۔

عوامی ورکرز پارٹی کی وفاقی کمیٹی کے رکن حسن عسکری نے چوہدری ٖفتح محمد کے انتقال پر انتہائی دکھہ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی زندگی جہدمسلسل کی زندہ جاوید تصویر تھی. ان کی انقلابی کمٹمنٹ اور شفقت بھرے رویے کو بڑی قدر کے ساتھہ ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔.

پارٹی کے مرکزی تنظیمی سیکریٹری جاوید اختر، سرائیکی وسیب کے صدر فرحت عباس ، قاضی حکیم ،کفایت اللہ ، یونس راہو، صفدر سندھو، صدیق گھمن، بلوچستان کے صدر یوسف کاکڑ ، صباء الدین صباء ب، مالاکنڈ بونیر کے عثمان گجر ، معزاللہ اور عوامی ورکرز پارٹی کراچی کے صدر شفیع شیخ نے کہا آج ہم اپنے انتہائی قابل احترام ر ہنما سے محروم ہوگئے۔ وہ ایک نہایت متاثر کن شخصیت کے مالک تھے جو خطہ اور بین الاقوامی سیاسی رموز کا اعلی ادراک رکھتے تھے پاکستان مین خصوصاً جاگیرداری اور زمینداری کے خاتمے کے حوالے سے انکی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان رہنماؤں نے یوسف بلوچ کی انقلابی جدوجہد اور قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ان کے ورثہ کوآگے بڑھائینگے۔.
عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے اسیر رہنماء بابا جان، اختر امین ، اکرام جمال، عنایت بیگ ، اخون بائے ، شیر افضل، فرمان بیگ، آصف سخی، صفی اللہ بیگ، ظہور الہی ، عنائت ابدالی، واجد اللہ بیگ، نوید احمد، عابد طائشی ، شہادت علی اور دیگر نے چوہدری فتح محمد اور یوسف بلوچ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

ایک مشترکہ بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کسان تحریک کے عظیم انقلابی رہنما چوہدری فتح نے اپنی ساری زندگی سوشلزم کے قیام کے لئےوقف کر دیا تھا. انہوں نے سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خلاف سات دہائیوں کی عملی جدو جہد کی تاریخی مثال قائم کی۔ اس تحریک کے لیے انہوں نے بے حد قربانیاں دیں, فوجی آمریت کے دور میں لمبی جیلیں بھی کاٹیں ۔ آج اگر پاکستان میں بائیں بازو ، مزدور اور کسان تحریک اگر قائم و توانا ہے تو وہ چوہدری فتح محمد جیسے رہنماوں کی ان تھک محنت کے باعث ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان ان کی وفات پر شدید دکھ کا اظہار کرتی ہے۔ آج ہم ان کی جدو جہد اور سوشلسٹ تحریک کے لیے ان کی خدمات کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں اور سامراجیت کے مقامی گماشتوں کے خلاف ان کے انقلابی مشن کو جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے چودہری فتح محمد کے انتقال پر اظہار افسوس

انجمن ترقی پسند مصنفین کی مجلس عاملہ اور انجمن کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل ، محقق اور استاد ڈاکٹر جعفر احمد نے انقلابی لیڈر چویدری فتح محمد کے انتقال پر شدید غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک مشترکہ بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ چودہری فتح محمد ہماری انقلابی تاریخ کا نا قابل فراموش کردار ہیں جنھوں نے کسانوں اور دیگر محنت کشوں کی تنظیموں میں بڑھ چڑھ کے کام کیا وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاریخی کانفرنس کے علاؤہ مختلف اوقات میں منعقد کی جانے والی کانفرنسوں کے مرکزی منتظمین میں شامل رہیے۔اب سے چند برس قبل ماضی کی ان کانفرنسوں کا مفصل احوال اپنی تصنیف ‘جو ہم پہ گزری’ میں لکھ کر آ ئند ہ نسلوں کے لئے محفوظ کر دیا۔پاکستان میں عوامی شعور کی بیداری میں چودہری فتح محمد کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا”۔

حالات زندگی اور جدوجہد

چودھری فتح محمد 1925ء میں مشرقی پنجاب کے شہر جالندھرکے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں چہارکے میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1947 میں ہجرت کر کے پنجاب میں کسان تحریک کے مرکز ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک گاؤں 305 گ ب میں آباد ہوئے تھے۔
انہوں نے 1948 میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور 1950 میں پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی سنٹرل کمیٹی کا رکن منتخب ہوئے ، جس کے فیض احمد فیض نائب صدر اور مرزا محمد ابراہیم صدر تھے.

ترقی پسند نظریات اور سرگرمیوں کی بناء پرانھیں دو بار جیل بھیج دیا گیا تھا ، ایک بار جنرل ایوب خان کی پہلی مارشل لا دور حکومت میں جب اسے بدنام زمانہ شاہی قلعہ (اس وقت لاہور جیل) اور لائل پور جیل میں رکھا گیا تھا. اس دوران اس نے ساتھیوں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کیا تھا۔
کمونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد چوہدری فتح محمد اور ان کے ساتھیوں نے میاں افتخارالدین کےسا تھ مل کر آزاد پاکستان پارٹی تشکیل دی جس کو بعد میں 25 ستمبر 1957 کو ڈھاکہ کانگریس میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں ضم کردیا گیا۔

جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے کسانوں کی کانفرنسوں کے انعقاد کے لئے خود کو وقف کیا جس کا اختتام 22 مارچ 1970 کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تاریخی کسان کانفرنس پرہوا۔ فیض احمد فیض سمیت بائیں بازو کی نامور شخصیات کے زیر اہتمام اور ان کی تائید سےاس کانفرنس نے زمینی اصلاحات شروع کرنے اور پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ کسی بھی سماجی تبدیلی کے لئے بائیں بازو کی متحد سیاسی جماعت بہت ضروری ہے. چودھری صاحب نے پانچ بائیں بازو کی جماعتوں / گروپوں کو ضم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو 2012 میںعوامی ورکرز پارٹی کی تشکیل پر منتج ہوا۔


انہیں کسانوں کے حقوق کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرنے پرفیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔

انھوں نے اپنی سوانح عمری ‘جو ہم پہ گزری’ کے عنوان سے 2016 میں اپنی سوانح عمری شائع کی۔ یہ کتاب ترقی پسند قوتوں پر ہونے والے ظلم و ستم اور ریاستی جبر، آزادی کے بعد سے کسانوں اور مزدور طبقوں کی سیاست اور جدوجہد اور کچھ اہم واقعات جن کا انہوں نے بطور کارکن مشاہدہ کیا کی ایک جامع تاریخ ہے۔
سال2007 میں پاکستان کسان را بطہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور وہ اس کے بانی صدر منتخب ہوئے۔

یوسف بلوچ

یوسف بلوچ پاکستان ورکرز فیڈریشن کے چیئرمین تھے ، جو ملک میں ٹریڈ یونینوں کی سب سے بڑی مجلس تنظیم ہے۔ وہ معروف ریلوے ورکرز یونین کے ایک طویل عرصے کے رہنما ، اور افسانوی مرزا ابراہیم کے ایک ساتھی بھی تھے ، جس نے انہیں ایک طویل عرصے سے بائیں بازو کی جماعت بنا دیا ، جو 1960 ء اور 1970 کی دہائی کے انقلابی انقلابات کے دوران عمر میں آیا تھا۔
سوویت یونین کے خاتمے اور منظم مزدور تحریک کے زوال کے ساتھ ، یوسف بلوچ نے لیبر پارٹی پاکستان (ایل پی پی) کے رہنما کی حیثیت سے انقلابی جماعتوں میں سے ایک تھی جس نے مل کر 2012 میں اے ڈبلیو پی تشکیل دی تھی۔ وہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید اشرف جنھیں مشرف آمریت کے دور میں وزیر ریلوے مقرر کیا گیا تھا کے خلاف ریلوے ٹریڈ یونین مزاحمت کا بھی حصہ رہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں