رپورٹ: عمران آزاد
پہاڑوں کی گود میں بسا کمراٹ ویلی کا معروف گاؤں بریکوٹ اپنی سرسبز وادیوں، بلند و بالا چوٹیوں، شفاف ندی نالوں اور دلکش مناظر کے لیے جانا جاتا ہے—مگر اس گاؤں کا اصل حسن اس کے باشعور، باوقار اور پرامن لوگ ہیں۔ جب یہی لوگ اپنی نئی نسل کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں تو امید کی ایسی کرن روشن ہوتی ہے جو پورے معاشرے کو منور کر دیتی ہے۔ بریکوٹ سپر لیگ کا پہلا سیزن اسی امید کی ایک بہترین مثال ہے۔
یہ محض ایک کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں تھا، بلکہ ایک سماجی پیغام تھا جس نے یہ ثابت کیا کہ اگر نوجوانوں کو صحت مند ماحول، اعتماد اور بہتر پلیٹ فارم فراہم کیا جائے تو وہ اپنی توانائیوں کو تخریب کی بجائے تعمیر کی راہ پر صرف کرتے ہیں۔ کئی روز جاری رہنے والا یہ ایونٹ گزشتہ روز انتہائی خوش اسلوبی اور پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ فائنل میں قاضی اعجاز احمد کی ٹیم “کنگ سٹار بیاڑ” نے کپتان اسماعیل کی قیادت میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیمپئن شپ اپنے نام کی، جبکہ “ینگ سٹار اٹیرکن” نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رنر اپ کا مقام حاصل کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں جیت صرف ایک ٹیم کی نہیں، بلکہ پورے علاقے کی تھی۔




آج کا نوجوان مختلف چیلنجز کے گھیرے میں ہے—منشیات، جرائم، انتہا پسندی، تشدد اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات اس کی شخصیت پر حاوی ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کھیل محض جسمانی ورزش نہیں رہتے، بلکہ وہ نوجوانوں کو نظم و ضبط، برداشت، قیادت، باہمی احترام، ٹیم ورک اور ذمہ داری کا شعور عطا کرتے ہیں۔ کھیل یہ سبق دیتے ہیں کہ اختلاف دشمنی نہیں، مقابلہ نفرت نہیں، اور شکست زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک بہتر واپسی کی تیاری ہے۔
بریکوٹ سپر لیگ سیزن ون میں چھ ٹیموں نے حصہ لیا، جن کے کھلاڑیوں کو ڈرافٹنگ کے ذریعے یونین کونسل کی سطح پر منتخب کیا گیا تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اس ایونٹ کا اولین مقصد یہی تھا کہ علاقے کے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں، انتہا پسندی اور بے مقصد مصروفیات سے بچا کر مثبت، صحت مند اور تعمیری عمل کی طرف راغب کیا جائے۔ اور یہی مقصد اس ایونٹ کی اصل کامیابی ہے، کیونکہ قومیں محض عمارتیں کھڑی کرنے سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ نوجوانوں کے کردار کی تعمیر سے ہی عروج پاتی ہیں۔
جس معاشرے کے میدان جتنے آباد ہوتے ہیں، اس کی جیلیں اتنے ہی ویران ہوتی ہیں
اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں چیف اسپانسر اور روحِ رواں حبیب اللہ، مینیجمنٹ ڈائریکٹر جناب فیض محمد، اور آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ شاہد انور کی قیادت میں عبید ملک، انور سجاد، اسرار، مسعود، ظہور، رضوان، ریاض، یعقوب، محیب، مدثر، سلیم اور دیگر تمام ساتھیوں کی شب و روز محنت شامل ہے۔ یہ لوگ یقیناً مبارکباد اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے نہ صرف ایک عظیم کھیلوں کا مقابلہ منعقد کیا، بلکہ نوجوان نسل کو اُمید، اتحاد اور امن کا پیغام بھی دیا۔ درحقیقت، ایسے لوگ اپنے معاشرے کا خاموش سرمایہ ہیں، جن کی خدمات کا اعتراف الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھا کر کیا جا سکتا ہے۔
آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ حکومت، سماجی تنظیمیں، مقامی عمائدین اور صاحبِ حیثیت افراد کھیلوں کے فروغ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریں۔ ہر گاؤں میں ایک کھیل کا میدان آباد ہوگا تو بے شمار گھروں کے چراغ محفوظ ہوں گے۔ جہاں نوجوان گیند کے پیچھے دوڑتے ہیں، وہاں وہ نفرت کے نعروں کے پیچھے نہیں بھاگتے۔ جہاں کھیل کی سیٹی بجتی ہے، وہاں بندوق کی گونج مدھم پڑ جاتی ہے۔
بریکوٹ سپر لیگ ایک کامیاب ٹورنامنٹ سے بڑھ کر ایک سوچ، ایک پیغام اور ایک تحریک ہے۔ دعا ہے کہ یہ روایت صرف بریکوٹ تک محدود نہ رہے، بلکہ کمراٹ ویلی کے دیگر دیہاتوں اور علاقوں میں پھیل جائے—تاکہ ہمارے میدان ہمیشہ آباد رہیں، ہمارے نوجوان ہمیشہ پرامید رہیں، اور ہمارا معاشرہ ہمیشہ امن، محبت اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔
یاد رکھیں جس معاشرے کے میدان جتنے آباد ہوتے ہیں، اس کی جیلیں اتنے ہی ویران ہوتی ہیں۔ کھیل صرف کھلاڑی نہیں بناتے، بلکہ کردار، شعور اور ایک محفوظ مستقبل بھی تشکیل دیتے ہیں۔

عمران خان آزاد تاریخ اور قانون کا طالب علم ہے۔انہیں داردستان اور بلورستان کی تاریخ، زبانوں اور ثقافتوں سے گہری دلچسپی ہے۔ اس وقت وہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی سے بی ایس لاء کر رہے ہیں اور داردستان اور بلورستان کی تاریخ پر تحقیق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی تحریریں ہائی ایشیاء ہیرالڈ اوردیگر سماجی رابطہ کے صفحات پر گمنام کوہستانی کے قلمی نام سے شائع ہوتے ہیں۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
