(آمین بیگ کے مضمون پر تعمیری تنقید)
گزشتہ دنوں انہی صفحات پر امین بیگ کا دو قسطوں میں مضمون شایع ہوا جس میں انہوں نے سماجی اور سیاسی شعور کا ایک تقابلی جایؑزہ پیش کیا گیا۔ مینں اس اہم موضوع پر چند تنقیدی تجزیہ یہان سنجیدہ قاریین کے لیے رکھنا چاہتا ہوں۔
امین بیگ کا مضمون اس لحاظ سے نہایت اہم اور قابلِ تحسین ہے کہ وہ سماجی شعور اور سیاسی شعور کو دو متضاد یا متخاصم دھاروں کے بجائے ایک ہی تاریخی اور اخلاقی عمل کے مختلف مظاہر کے طور پر دیکھنے کی وکالت کرتا ہے۔ ہنزہ جیسے معاشرے کے تناظر میں یہ استدلال نہ صرف فکری طور پر بالغ ہے بلکہ اس خطے کی تاریخی تجربات سے بھی ہم آہنگ ہے، جہاں سیاست ہمیشہ ثقافت، روایت، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ جڑی رہی ہے، نہ کہ محض اقتدار یا انتخابی سیاست کے گرد گھومتی رہی ہے۔
تاہم، مضمون کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ سماجی شعور کے اس ادارہ جاتی روپ کا تنقیدی جائزہ نہیں لیتا جو سرد جنگ کے دور میں نیولبرل عالمی نظام کی سرپرستی میں این جی اوز کے ذریعے فروغ دیا گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سماجی اور سیاسی شعور کے امتزاج کا استدلال نظریاتی طور پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ ۔
این جی اوز نے یہ سوچ پروان چڑھایا کہ زمینیں، وسائل اور حقوق سے محرومی کا علاج سیاسی جدوجہد سے نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے منصوبوں، قرضوں، اور ‘آمدنی میں اضافے’ سے ممکن ہے۔ اس طرح، شہریت کا تصور، جو حقوق اور ذمہ داریوں کا متقاضی ہے، ایک “وصول کنندہ” کے تصور میں تبدیل ہوگیا۔ عوام کی سوچ یہ بنائی گئی کہ این جی اوز کے تحت کام کرنا، سیاسی کارکن بننے سے زیادہ پرکشش اور فائدہ مند ہے—اس میں پیسہ ہے، بیرونی سفر ہیں، اور ‘انفرادی خوشحالی’ کا وہ مغربی تصور ہے جو اجتماعی فلاح کے نظریے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
این جی او ماڈل: سماجی شعور یا سماجی متبادل سیاست
سرد جنگ کے پس منظر میں، خاص طور پر تیسری دنیا میں، این جی اوز کو دانستہ طور پر ایک ایسے متبادل سماجی ڈھانچے کے طور پر متعارف کرایا گیا جو ریاست اور عوام کے درمیان براہِ راست سیاسی تعلق کو کمزور کرے۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور اس جیسے دیگر پروگراموں نے بظاہر سماجی تنظیم، شراکتی ترقی اور مقامی صلاحیت سازی کا بیانیہ پیش کیا، مگر عملی طور پر انہوں نے ایک ایسا شعور پیدا کیا جس میں سیاسی جدوجہد کو غیر ضروری، خطرناک یا غیر نتیجہ خیز سمجھا گیا۔ اجتماعی حقوق کے بجائے منصوبہ جاتی فوائد کو ترجیح دی گئی۔ شہری کے تصور کی جگہ مستفیدی افراد کے تصور نے لے لی۔
یہ ماڈل ایک نیم ریاست کے طور پر کام کرتا رہا، جہاں تعلیم، صحت، وسائل اور فیصلہ سازی سیاست کے بجائے پروجیکٹ سائیکل، ڈونر ترجیحات اور رپورٹنگ فریم ورک کے تابع ہو گئی۔ نتیجتاً یہ تاثر راسخ ہوا کہ محرومی، اخراج اور ناانصافی کا کوئی سیاسی حل نہیں؛ اصل راستہ این جی او میں نوکری، تنخواہ، مراعات اور ذاتی ترقی ہے۔ یوں سماجی تبدیلی کو ایک انفرادی خوشحالی کے منصوبے میں بدل دیا گیا۔ سماجی قیادت کا یہ تصور سیاسی اجتماعیت کے لیے انتہائی رجعت پسندانہ ثابت ہوا۔
ایک طرف ایک ایسی سماجی قیادت پیدا کی گئی جو انفرادی طور پہ اور اپنے ذاتی معاملات میں روشن خیال ثابت ہوئی یعنی این جی اوز میں کی ملازمت کی وجہ سے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں کامیاب ہوگئی لیکن سیاسی شعور کے حوالے سے انتہائی پسماندہ رہی ۔ یہی این جی اوز والی سماجی قیادت ہی تھی جس نے سیاست اور سیاسی عمل میں شمولیت کو نوجوانوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔ آ ج بھی اس سماجی قیادت کے سپوت ماضی کے تاریک ادوار یعنی جنرل ایوب خان اور جنرل پرویز مشرف کی آ مر یت کے دلدادہ نظر آتے ہیں۔
یہ وہ غیر سیاسی یا سیاسی طور پہ پسماندہ اور سماجی طور پہ لبرل این جی اوز سے وابستہ پیشہ ور ملازمین پر مشتمل سماجی قیادت ہے جس کو سالوں تک نوجوانوں کے لیے رول ماڈل کےور بپہ پیش کیا گیا ۔اب جب کہ ہنزہ جیسا خواندہ معاشرہ سیاسی طور پہ یتیم ہو چکا ہے تو اس کے پیچھے اس این جی اوز زدہ سماجی قیادت کا بھی کافی اہم کردار ہے۔
مضمون میں این جی اوز کے ذریعے پیدا ہونے والے سماجی سرمائے( سوشل کیپٹل) کا ذکر ایک مثبت پہلو کے طور پر کیا گیا ہے، مگر یہ دعویٰ تجرباتی طور پر کمزور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونر فنڈنگ ختم ہوتے ہی بیشتر مقامی کمیٹیاں غیر فعال ہو گئیں۔ یہ کمیٹیاں نہ تو خود کفیل ادارے بن سکیں، نہ سیاسی قیادت پیدا کر سکیں۔ انہوں نے صدیوں پرانے مقامی اداروں کے ارتقا کو بھی متاثر کیا۔ یوں ایک طرف پرانا سماجی و سیاسی تسلسل ٹوٹا، اور دوسری طرف نیا نظام عارضی ثابت ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج نہ وہ این جی او کمیٹیاں زندہ ہیں، نہ ان سے کوئی جمہوری یا نظریاتی قیادت ابھری ہے۔
سیاست کا خلا اور مذہبی اداروں کا ابھار
اس خلا کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ وہ مذہبی ادارے، جو ایک وقت میں سیاسی شرکت کے مخالف تھے اور این جی او ماڈل کے حامی سمجھے جاتے تھے، اب ڈی پولیٹیسائزڈ یعنی غیر سیاسی مگر مذہبی طور پر متحرک قیادت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ قیادت نہ سماجی انصاف کا واضح معاشی پروگرام رکھتی ہے، نہ شہری حقوق کا کوئی ٹھوس تصور، بلکہ سیاست کو اخلاقی وعظ اور شناختی جذبات تک محدود کر دیتی ہے۔ یہ رجحان دراصل این جی اوائزیشن کے اُس طویل عمل کا منطقی نتیجہ ہے جس نے سیاست کو شعوری طور پر غیر اہم بنایا۔
ایک اہم سوال: شعور کس طبقے کے لیے؟
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، جسے فاضل مضمون نگار نظرانداز کرتا ہے۔ سماجی شعور آخر کس کے مفاد میں تشکیل پایا؟ اگر سماجی شعور طبقاتی نابرابری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ریاستی طاقت اور سرمایہ دارانہ ڈھانچوں پر سوال نہ اٹھائے، تو وہ شعور نہیں بلکہ مروجہ ریاستی نظم و ضبط کی ایک صورت بن جاتا ہے۔ حقیقی سماجی شعور وہی ہوتا ہے جوریاستی جبر اور استحصال کی مزاحمت کرے، نہ کہ اس کی پالیسیوں اور اشرافیہ کے مفادات اور بناے گیےقوانین کے نفاذ کے لے سہولتکار بنے، سیاست کومعیوب کی بجاے ناگزیر سمجھے، جو شہری کو محض شریکِ منصوبہ نہیں بلکہ صاحبِ حق تسلیم کرے، اور جو اجتماعی خوشحالی کو انفرادی کامیابی پر فوقیت دے۔
امین بیگ درست طور پر نشاندہی کرتے ہیں کہ سماجی شعور سیاسی سرمایہ بن سکتا تھا—اور اب بھی بن سکتا ہے—مگر یہ تبہی ممکن ہے جب ہم این جی او دور کے اسباق کو دیانت داری سے پرکھیں۔ سماجی شعور کو سیاست سے الگ رکھنا کوئی معصوم تاریخی حادثہ نہیں تھا، بلکہ ایک سوچا سمجھا نیولبرل منصوبہ تھا جس نے معاشرے کو منظم تو کیا، مگر بااختیار نہیں بنایا۔
ہنزہ کے لیے اصل چیلنج محض سماجی اور سیاسی شعور کو جوڑنا نہیں، بلکہ اس شعور کو طبقاتی انصاف، شہری حقوق اور اجتماعی ملکیت کے سوال سے جوڑنا ہے۔ ورنہ ہم ایک بار پھر ایک منظم، مہذب، مگر غیر سیاسی معاشرہ پیدا کریں گے—جو تاریخ میں ہمیشہ طاقتوروں کے لیے آسان اور کمزوروں کے لیے مہنگا ثابت ہوا ہے۔
مضمون میں کیرالا، نیپال اور لاطینی امریکہ کی مثالیں دی گئی ہیں، جو بظاہر مضبوط ہیں، مگر ان کا ہنزہ کے سیاق سے تقابل احتیاط کا متقاضی ہے۔ ان تمام مثالوں میں سماجی شعور کو تسلیم کرنے والی لیفٹ سیاست نے ریاستی طاقت، آئینی جدوجہد، طبقاتی سیاست اور ادارہ جاتی تصادم سے کبھی دستبرداری اختیار نہیں کی۔ وہاں کمیونٹی، ثقافت اور روحانیت کو سیاست کا متبادل نہیں بلکہ سیاسی جدوجہد کا وسیلہ بنایا گیا۔ اس کے برعکس، ہمارے خطے میں این جی اوائزڈ سماجی شعور نے سیاست کو یا تو غیر اخلاقی قرار دیا یا غیر ضروری۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے مضمون پوری طرح واضح نہیں کر پاتا۔

عامر حسین نہال ایک ممتاز پالیسی اور گورننس کے ماہر، لکھاری اور سیاسی مبصر ہیں۔ وہ قومی و علاقائی سطح پر پالیسی، سیاست، سماجی انصاف اور حکمرانی کے امور پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنے تجزیات کے ذریعے عوامی مکالمے کو فکری وسعت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
