تحریر: صفی اللہ بیگ
گلگت بلتستان خصوصا ہنزہ میں سیاسی شعور کے موضوع پر سماجی ترقی کے ماہر جناب غلام امین بیگ اورمعروف لکھاری و تجزیہ نگار عامرحسین کےاہم مضامین حال ہی میں ان صفحات پہ شائع ہوئی ہیں ۔ دونوں کے مضامین اس لیے اہمیت کے حامل ہیں کہ امین بیگ صاحب نے ہنزہ میں سیاسی شعور کی ہیت اور موجودہ تشکیل کی تشریح کرتے ہوئے سماجی شعور کو نیولبرل نظریہ کے عین مطابق نہ صرف ایک الگ تصور کے طور پر پیش کیا ہے بلکہ “سیاسی سرمایہ ” قرار دیا ہے ۔ دوسری طرف عامر حسین صاحب نے اس پر اہم سوالات اٹھایا ہے کہ سماجی شعور کا تصور کس نے ، کب اور کن مقاصد کے لیے ابھارا؟ جس کے نتیجے میں ہنزہ میں سیاست کو غیرضروری،غیرموثر اور انسانی شعور کو اجتماعی حقوق اور جدوجہد سے الگ کردیا گیا۔
یہ بحث اس لیے دلچسپ ہے کہ سماجی اور سیاسی شعور کو الگ الگ تصورات کے طور پر دیکھنا دراصل سماجی ترقی کے دو متضادسانچوں سے متعلق نظریات کی بحث سے ہے۔ سماجی شعور، سماجی ادارے اور سول سوسایئٹی درحقیقت انفرادی ترقی، نجی ملکیت، نجی سرمایہ کاری، دولت کا ارتکاز، فطرت اور اس کے وسائل کو منافع کی خاطر لوٹنے کا ماڈل ہے۔ جس نے نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ، سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور سامراجی جنگوں سے جنم لیا ہے۔ جب کہ سیاسی شعور سے مراد سماج کی طبقاتی و معاشی ساخت کو سمجھنا اوراس کی تنظیم نوکرنا، وسائل کا مصنفانہ استعمال، بنیادی سہولیات کی مساوی تقسیم و فراہمی اور اجتماعی خوشحالی سے جڑی تصور ہے۔ اس لیے سماجی شعور سیاسی شعور سے الگ نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ مگر سماجی شعور کو فروغ دینے کی تاریخ خود ایک دلچسپ منظر پیش کرتی ہے۔
ساٹھ اور ستر کے دہائی عالمی سرمایہ داری کے اندرونی تضادات اور معاشی بحران کے نتیجے کے طور پر نیولبرل پروجیکٹ یعنی آزاد منڈی نے جنم لیا تاکہ نجی سرمایہ اور مارکیٹ کے پھیلأ و کومزید بڑھانے اور منافع میں کمی کو روکنے کے لیے نہ صرف ریاست کے دائرہ کار، اختیار اور فرائض وذمہ داریوں میں کمی کرنا تھا بلکہ مزدوروں کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرنے پر زور دیا گیا۔ عوامی سہولیات کے لیے بنائے گئے اداروں، صنعت اوراجتماعی سہولیات کی فراہمی کے اداروں کی بڑے پیمانے پر نج کاری کی گئی ۔ جن میں ریلوے، اسٹیل مل، بینک، بجلی، پانی اور گیس کی ترسیل و تقسیم، میونسپل خدمات کے ادارے اور پوسٹ آفس وغیرہ شامل تھی۔ بائیں بازو کے سیاسی پارٹیوں، ان سے منسلک مزدوروں کی انجمنوں (ٹریڈ یونین)، اور ان کے اجتماعی سیاسی طاقت کو توڑنے کے لیے نہ صرف لیبر قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی بلکہ اس پروجیکٹ کے تحت ریاستی ذمہ داریوں اور عوام کے بنیادی سہولیات بالخصوص تعلیم، صحت، کی فوری اور موثر فراہمی کے لیے غیرسرکاری تنظیموں اور فاونڈیشنز کو فروغ دیا گیا۔
اسی دور میں سرمائہ اور منافع کے منفی اثرات خصوصاٗ، وسائل پر قبضہ، دولت کا غیرمنصفانہ تقسیم اور ارتکاز سے توجہ ہٹانے کے لیے سرمائہ کے نت نئے توجیہات اور تشریحات پیش کئے گیے۔ اوراس کو مغرب کے اعٰلی تعلیمی اداروں نے باقاعدہ نصاب میں شامل کرکے غربت کے خاتمے، پائیدار ترقی اور صنفی تفریق میں کمی کے لیے ڈگری کورسسز تشکیل دیے گیے۔ تعلیمی نظام اورکارپوریٹ میڈیا کے ذریعے نجی سرمایہ اور اس کےحصول کو مثبت شکل میں پیش کرنے کی غرض سے اس کی مزید درجہ بندی کی گئی۔ جن میں سماجی سرمایہ، سیاسی سرمایہ، انسانی سرمایہ، طبعی سرمایہ، اور مالی سرمایہ شامل ہیں۔ مغرب کی ترقی کے نام نہاد مشہورماہرین بشمول پروفیسر رابرٹ چیمبرز، پروفیسر انتھونی گیڈنز نے اس پر کتاب لکھ ڈالیں۔ پروفیسر جیوفری ووڈز جیسے نیولبرل ماہرین سماجی ترقی کے ماہرانہ خدمات آغا خان فاونڈیشن اور اے۔ کے۔ آر۔ ایس ۔پی نے حاصیل کیں۔ ان کے نظریات نے مشترکہ خاندانی نظام کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ چنانچہ پائیدار سماجی ترقی کے فریم ورک بنایئے گئے۔ فرینک ایلس نے پائیدار ذریعہ معاش کا راستہ اور سماجی ترقی کے پانچ کیپٹل (سوشل، پولیٹیکل، طبعی، فنانشلاور انسانی) متعارف کی۔ برطانیہ کے فارن اینڈ کامن ویلتھ ڈیولپمنٹ ارگنائیزیشن نے اس ماڈل کو اپنایا جس کے بنیادی ستون، معاشی ترقی کی حکمت عملی، نجی سیکٹرکی ترقی اور سماجی تحفظ و شمولیت شامل تھی۔
اس ماڈل کے تحت تعلیم اور صحت تک رسائی اب ایک بنیادی انسانی حق نہیں رہا بلکہ سرمایہ کاری کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اعٰلی تعلیم یافتہ انسان کو اب انسانی سرمایہ رکھنے والا فرد جانا جاتا ہے۔ اس لیے انسانی سرمائے کے نقطہ نظر سے اب سماج میں فرد کی حیثیت صرف انسان ہونا کافی نہیں، بلکہ اس میں سرمایہ کاری پر زور دیا جاتا ہے۔ چنانچہ فرد میں انسانی سرمایہ کو شکل دینے کے لیے پری اسکول میں تربیت، نجی اور مہنگی اسکولوں سے تعلیمی اسناد کا حصول، ٹیکنیکل مہارتوں کی خریداری، ذرائع ابلاغ میں تربیت اورسماجی و سیاسی تعلقات پر سرمایہ کاری کو لازمی قرار دیا گیا ۔اور اس کے لیے تعلیم کو بنیادی انسانی حق اور ریاست کی ذمہ داری کو غیرموثر قرار دے کر بلکہ ریاست پر قابض حکمرانوں کے ذریعے سرکاری تعلیمی بجٹ میں نمایاں کمی کرکے پہلے تعلیم تک رسائی میں بحران پیدا کیا گیا اس کے بعد معیاری تعلیم عام کرنے کے نام پر نجی تعلیمی اداروں کا فروغ پر نجی سرمایہ کاری کی گئی۔ اب سماج میں تعلیم کی خرید و فروخت ہورہی ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے معزز لکھاری غلام امین بیگ، عامر حسین کے علاوہ میں خود سرکاری تعلیم اداروں سے فارغ التحصیل ہیں ہم تینوں نے کسی نجی، نام نہاد معیاری اور انگریزی میڈیم اسکولوں میں نہیں پڑھا ہے۔
سماجی ترقی کے نام پر اب ہنزہ اور گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت، پانی، بجلی، میونسپل خدمات اور حتٰی کہ مذہبی و ثقافتی رسومات کی بھی خرید وفروخت جاری ہے۔
چنانچہ سماجی ترقی کے نام پر اب ہنزہ اور گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت، پانی، بجلی، میونسپل خدمات اور حتٰی کہ مذہبی و ثقافتی رسومات کی بھی خرید وفروخت جاری ہے۔ انسانی ترقی کا یہ راستہ ریاست پاکستان پر قابض اور گلگت بلتستان پر نوآبادیاتی نظام مسلط کرنے والے حکمران اشرافیہ کے لیے نہایت سود مند کاروبار کا ذریعے بن چکا ہے۔ ان حکمرانوں نے سامراجی نیولبرل نظرئے کو اپناتے ہوئے ریاست کے ذمہ داریوں کا مکمل خاتمہ کرکے وسائل اور ریاستی آمدنی کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ اور ریاست اور اس کے کالونیاں گلگت بلتستان اور کشمیر کے وسائل لوٹنے کا عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ حکمران وسائل پر قبضے کے ذریعے ذاتی دولت میں اضافے کرنے کے لیے عوام کے خلاف جنگوں میں دن رات مصروف ہیں۔ چنانچہ پاکستان کے 26 کروڑ عوام بغیر بنیادی سہولیات کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بلکہ ریاست کا فطری ڈھانچہ بھی زندگی اور موت کے کشمکش سے دوچار ہے۔
یہی حال کم و بیش ہنزہ اور گلگت بلتستان میں بھی جاری ہے۔ جہاں پائیدار سماجی ترقی کے نام پر مشترکہ وسائل پر ریاستی اداروں اور نجی سرمایے کا قبضہ مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ جن کی چند مثالیں لینڈ ریفارمز ایکٹ کے نام پر ریاست کا فطری وسائل پر قبضہ، سیاحتی ترقی کے نام پرسیاحتی مقامات پر گرین ٹووریزم پرائیوٹ لمیٹڈ کا قبضہ، معیاری تعلیم اور صحت کی فراہمی کے نام پر کاروبار، ثقافتی ترقی کے نام پر مشترکہ ثقافتی اثاثوں، تہواروں اور عمارات پر نجی سرمایے کا قبضہ اور اب پانی اور بجلی کے بحران کے خاتمے کے نام پر پانی اور توانائی کے وسائل پر نجی سرمایے کا مکمل کنٹرول۔
پایئدار سماجی ترقی کے اس ماڈل میں سماجی شعور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ترقی کےنام پر مقامی وسائل کو نجی سرمایہ کے حوالے کیا جائے اور عوام بنیادی سہولیات ان سرمایہ کاروں سے مہنگے داموں حاصل کریں اور ” بندھے ہوئے گاہک ” بن کر انفرادی طور پر امیر بننے کا خواب دیکھیں اور زندگی گذاریں۔ حالانکہ ہنزہ اور گلگت بلتستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پچھلے نسلوں نے ہمیشہ آنے والے نسلوں کی خاطر فطری وسائل کو ہمیشہ احتیاط سے استعمال کیا اور ان کے اثاثے بنا کر نئی نسل کو چھوڑ کرچلے گئے۔ مگر اب ہم کہیں اور سے مسلط کی گئی جعلی مادی ضروریات کے حصول کے نہ صرف اجتماعی فطری وسائل کی نجکاری پر راضی ہیں بلکہ مروجہ سماجی شعور کے مطابق مشترکہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے ریاست سے اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنے کے لیے بھی سیاسی طور پر منظم ہونا عیب اور ریاست مخالف تصور کیا جاتا ہے۔ چنانچہ عوام کی بڑی اکثریت اب سول سوسایٹی اور ایماندار لیڈر کے فریب میں پھنس کر رہ گیے ہیں۔

صفی اللہ بیگ گلگت۔بلتستان کے ایک معروف ثقافتی و سیاحتی اثاثوں کے تحفظ کے ماہر اور مارکسی سیاسی و ماحولیاتی کارکن ہیں وہ سماجی رابطہ کے پلیٹ فارمز ہائی ایشیاء میڈیا کے صفحات ا پہ ان موضوعات پہ تواتر کے ساتھ لکھتے رہتے ہیں

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
