کوہ پیمائی گلگت بلتستان کا صرف ایک کھیل یا سیاحتی سرگرمی نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ، ثقافت، شناخت اور معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں، برف پوش گلیشیئرز
اور دنیا کے تین عظیم اور دلکش پہاڑی سلسلوں کا سنگم ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کو عالمی سطح پر منفرد مقام حاصل ہے، مگر اس شناخت کو دنیا تک پہنچانے میں سب سے بنیادی کردار ان بہادر کوہ پیماؤں، ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز، گائیڈز، ریسکیو اہلکاروں اور مقامی معاونین کا ہے، جو انتہائی سخت موسمی حالات اور جان لیوا خطرات کے باوجود کوہ پیمائی کی مہمات میں حصہ لیتے ہیں۔
براڈ پیک پر حالیہ بین الاقوامی مہم کے دوران مختلف ممالک کے دس رکنی کوہ پیماؤں کی ٹیم سمیت گلگت بلتستان کے ایک بہادر سپوت کے لاپتہ ہونے کی خبر نے ایک بار پھر ہمیں یہ احساس دلایا ہے کہ کوہ پیمائی صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایثار، حوصلے اور قربانی کی داستان ہے۔ ہم حالیہ واقع میں جان کی بازی ہارے والے تمام کوہ پیماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی محفوظ واپسی کے لئے دعا گو ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کوہ پیماؤں میں سے چند ایک کی باڈیز نکالی گئیں ہیں جبکہ لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی تلاش ان سطور کی تحریر کے وقت تک جاری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جن کوہ پیماؤں کی لاشیں ملی ہیں ان تمام کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین، تعزیتی ریفرنس، قومی و صوبائی اعزازات اور ان کے خاندانوں کی مستقل معاونت کو اپنی پالیسی کا حصہ بنائے۔
یہ اعزاز صرف شہداء تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ وہ تمام کوہ پیما، ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز، گائیڈز، ریسکیو اہلکار اور دیگر افراد جو اس شعبے سے وابستہ ہیں، ریاست کی خصوصی توجہ، عزت اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں پر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر نہ صرف بین الاقوامی مہمات کو کامیاب بناتے ہیں بلکہ پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کا مثبت تشخص پوری دنیا میں اجاگر کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی عالمی شناخت اس کے عظیم پہاڑوں سے وابستہ ہے، اور ان پہاڑوں کو دنیا کے نقشے پر زندہ رکھنے والے یہی کوہ پیما ہیں۔ دنیا بھر کے نامور مہم جو جب یہاں سے واپس جاتے ہیں تو اپنے سفرناموں، کتابوں، ڈاکیومنٹریز اور یادداشتوں میں گلگت بلتستان کے حسن، یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور مقامی کوہ پیماؤں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ مثبت تاثر اس خطے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
بدقسمتی سے اب تک سینکڑوں پاکستانی اور غیر ملکی کوہ پیما، پورٹرز اور دیگر معاون افراد گلگت بلتستان کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے اور سینکڑوں کوہ پیما زخمی ہونے کے بعد معذوری کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان کی قربانیاں صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ اس سرزمین سے محبت، جرات اور انسانی عزم کی علامت ہیں۔ ان سب کو اجتماعی طور پر یاد رکھنا اور نئی نسل کو ان کی خدمات سے آگاہ کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
اسی تناظر میں حکومتِ گلگت بلتستان کو چاہیے کہ ہر سال ایک مخصوص دن کو یومِ کوہ پیمائی کے طور پر سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے۔ اس دن ان تمام پاکستانی اور غیر ملکی کوہ پیماؤں، ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز، گائیڈز اور ریسکیو اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے جنہوں نے گلگت بلتستان کی چوٹیوں پر مہم جوئی کے دوران جان کی بازی ہاری، زخمی ہوئے یا نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس موقع پر دعائیہ تقریبات، یادگاری واک، تعزیتی ریفرنسز، تصویری نمائشیں، ڈاکیومنٹریز، تعلیمی پروگرام، کتابوں کی رونمائی اور قومی و صوبائی اعزازات کا اہتمام کیا جائے تاکہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہر سال عالمی یومِ کوہ پیمائی یا عالمی یومِ پہاڑ بھی گلگت بلتستان میں شایانِ شان انداز میں منایا جائے۔ چونکہ گلگت بلتستان دنیا کے اہم ترین پہاڑی خطوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس موقع پر ایک بین الاقوامی ماؤنٹین کانفرنس کا انعقاد کیا جائے، جس میں دنیا بھر کے نامور کوہ پیما، مہم جو، ماہرینِ ماحولیات، سیاحتی ماہرین، ریسکیو ادارے، حکومتی نمائندے، جامعات، تحقیقاتی ادارے اور مقامی کوہ پیمائی برادری کو مدعو کیا جائے۔
حکومت ایک جامع “گلگت بلتستان ماؤنٹینیرنگ اینڈ ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹر ویلفیئر پالیسی” تشکیل دے
اس عالمی کانفرنس میں کوہ پیمائی کے فروغ، محفوظ مہم جوئی، ریسکیو نظام، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، گلیشیئرز کے تحفظ، مقامی پورٹرز کی فلاح و بہبود، خواتین کوہ پیماؤں کی حوصلہ افزائی، نوجوانوں کی تربیت، جدید آلات کی فراہمی اور پائیدار ماؤنٹین ٹورازم جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے۔ اسی تقریب میں نمایاں خدمات انجام دینے والے کوہ پیماؤں، پورٹرز، گائیڈز اور ریسکیو اہلکاروں کو خصوصی سرکاری اعزازات، تمغے، اسناد اور مالی انعامات بھی دیے جائیں تاکہ ان کی خدمات کا باوقار اعتراف ہو اور نئی نسل کو اس شعبے میں آگے بڑھنے کی ترغیب ملے۔
اس مقصد کے لیے حکومت ایک جامع “گلگت بلتستان ماؤنٹینیرنگ اینڈ ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹر ویلفیئر پالیسی” بھی تشکیل دے، جس میں حادثاتی انشورنس، شہداء کے خاندانوں کی کفالت، صحت کی سہولیات، پنشن، تربیت، بین الاقوامی معیار کے حفاظتی آلات، ریسکیو نظام، تعلیمی وظائف، مالی معاونت اور قومی و صوبائی اعزازات کا باقاعدہ نظام شامل ہو۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہیروز کو صرف ان کی زندگی میں نہیں بلکہ ان کی قربانیوں کے بعد بھی عزت، احترام اور یادگار مقام دیتا ہے۔ گلگت بلتستان کے کوہ پیما، پورٹرز اور مہم جو اس سرزمین کے حقیقی سفیر ہیں۔ ان کی قربانیاں، خدمات اور کارنامے ہمیشہ قومی تاریخ کا حصہ رہنے چاہییں، کیونکہ پہاڑ گلگت بلتستان کی شناخت ہیں اور ان پہاڑوں سے محبت کرنے والے یہ بہادر لوگ ہماری اصل پہچان ہیں۔
اسرارالدین اسرار انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے رابطہ کار برائے گلگت بلتستان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے بامِ جہاں، ہائی ایشیا ہیرالڈ، اور دیگر مقامی نیوزپلیٹ فارمز میں سماجی ، سیاسی، ثقافتی اور انسانی حقوق کے موضوعات پر مضامین تحریر کرتے ہیں۔


The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
