تحریر: فرمان بیگ
گزشتہ چند سالوں سے ضلع ہنزہ کے سب ڈویژن گوجال بالخصوص شمشال اور اب خیبر ، مسگر وغیرہ میں سونےوال قبیلہ کی جانب سے دریائے ہنزہ کے کنارے ‘سونے والی’ یا ‘کھائی’ کے غیر قانونی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان سرگرمیوں کے تحت دریا کے کناروں سے پتھر، ریت اور بجری نکال کر سونے کے ذرات کو چھانتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف مقامی آبادی اور سو نے وال گروپوں کے درمیان کشیدگی اورامن عامہ کو بگاڑ رہا ہے، بلکہ خطے کے نازک ماحولیاتی توازن، زمینی کٹاؤ،جنگلات اور دیگر وسائل کا بے دریغ استعما ل اور دریا کے کنارے گندگی اور زیہریلی کیمائی مادہ کو پھینکنے سے انسانی صحت اور جنگلی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
ان سرگرمیوں کے پسِ پشت ممکنہ طور پر پلیسر گولڈ مائننگ کے لیے جاری کردہ لیزوں کا اثر بھی نظر آتا ہے، حالانکہ ضلع ہنزہ میں مجموعی طور پر مائننگ کے حوالے سے شدید عوامی تحفظات اور مزاحمت موجود ہیں، جن کے باعث زیادہ تر لیز ہولڈرز باقاعدہ طور پر مائننگ شروع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
پلیسر گولڈ مائننگ کے سماجی و ماحولیاتی اثرات
پلیسر گولڈ نکالنے کے روایتی طریقے، جیسے دریا کے کناروں کو کھودنا اور پانی کو سلوری میں تبدیل کرنا، صرف زمینی کٹاؤ ہی نہیں بلکہ پانی کی آلودگی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ اگرچہ یہاں بڑے پیمانے پر مرکیوری (پارہ) استعمال نہیں ہوتا، لیکن مقامی طور پر بعض اوقات غیر قانونی طور پر پارے کا استعمال سونے کو الگ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پارہ ایک اعصابی زہر ہے جو دریائے ہنزہ کے پانی، آبی حیات اور نشیبیی وادیوں میں کھیتی باڑی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ، دریائی گزرگاہوں کو تبدیل کرنے سے مچھلیوں کی افزائش گاہیں تباہ ہو جاتی ہیں، جس سے مقامی ماہی گیروں کی معاش متاثر ہوتی ہے۔
دریائے ہنزہ گلشیئرز کے پگھلنے اور ندی نالوں سے بہنے والے پانی سے وجود میں آتا ہے اور قدرتی طور پر ملبہ، ریت، بجری اور پتھر بہا کر لاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی نے گلشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو خطرناک حد تک تیز کر دیا ہے، جس سے دریا میں پانی کی مقدار اور اس کی قوتِ کٹاؤ میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ اس قدرتی کٹاؤ میں جب انسانی سرگرمیاں خاص طور پر تعمیرات کے لیے پتھروں کو ہٹانا اور پلیسر گولڈ مائننگ کے لیے دریا کے کناروں کی کھدائی شامل ہو جائیں تو یہ کٹاؤ تباہ کن صورت اختیار کر لیتا ہے۔





نتیجتاً، گزشتہ چند سالوں میں پسو، گرچہ، غلاپن اور خیبر گاؤں میں زرعی زمینیں، باغات اور مکانات دریا برد ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان ان مقامات پر ہوا ہے جہاں زمین کی قدرتی ساخت کو تبدیل کر دیا گیا تھا جیسے پلیسر مائننگ کے لیے کناروں کو کھودنا۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلی دہائی میں درجنوں گاؤں مکمل طور پر دریا برد ہو کر ختم ہو سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تباہی کے علاوہ، یہ سرگرمیاں شدید سماجی کشیدگی کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سو نیوال گروہ، جن کے پاس مبینہ طور پر لیز ہیں، علاقے کے وسائل کو اپنی ذاتی دولت کا ذریعہ بنا رہے ہیں، جبکہ مقامی لوگ سیلاب اور کٹاؤ سے بے گھر ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف، مائننگ کے حامی اسے روزگار کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ یہ تنازعہ اکثر مسلح جھڑپوں تک پہنچ چکا ہے، جس سے علاقے میں امنِ عامہ خطرے میں ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ان لیزوں کا اجراء گلگت بلتستان وائلڈ لائف ایکٹ اور ماحولیاتی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سب ڈویژن گوجال کا پورا علاقہ باقاعدہ تسلیم شدہ کمیونٹی کنزرویشن ایریا ہے، جو بین الاقوامی اور پاکستانی قوانین کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحول دوست سرگرمیوں کے لیے وقف ہے۔ اس کے باوجود یہاں مائننگ جیسی ماحول دشمن سرگرمیوں کے لیے لیز جاری کی جا رہی ہیں۔ یہ عمل محکمہ وائلڈ لائف کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مقامی آبادی کے تحفظات، بڑھتی ماحولیاتی تباہی اور دریا کے کٹاؤ کے باوجود یہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں بااثر حلقوں کی پشت پناہی کام کر رہی ہے۔ عوام میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ کچھ سرکاری افسران اور مقامی بااثر افراد ان لیزوں کے بدلے غیر قانونی مراعات وصول کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش ہیں۔ اس سے نہ صرف امن عامہ کی صورتحال بگڑ رہی ہے بلکہ علاقے کے قدرتی وسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
فوری پابندی اور ماحولیاتی بحالی
ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (Environmental Protection Agency) گلگت بلتستان فوری طور پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے تمام ماحول دشمن لیزز منسوخ کرے اور ضلع ہنزہ میں ہر قسم کی مائننگ پر فوری پابندی عائد کرے۔ ساتھ ہی، دریا کے کناروں کی بحالی کے لیے ایک ایمرجنسی فنڈ قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مزید زمینی کٹاؤ کو روکا جا سکے۔
مقامی لوگوں کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک جامع پلان بھی ترتیب دیا جانا چاہیے، تاکہ وہ ماحول دوست ذرائع آمدن (مثلاً ماحولیاتی سیاحت، نامیاتی کھیتی) کی طرف راغب ہوں۔
اگر ابھی سے کوئی موثر اقدام نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں دریائے ہنزہ کے کنارے بسنے والی پوری آبادیاں اپنی زمینوں اور گھروں سے بے گھر ہو جائیں گی، اور یہ خوبصورت وادی ایک ماحولیاتی تباہی اور سماجی ناانصافی کی مثال بن کر رہ جائے گی۔

فرمان بیگ ایک سیاسی و سناجی کارکن ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پہ مختلیف موضوعات بالخصوص ماحولیات، سیاسی حالات اور نوجوانوں کے مسائل پہ لکھتے ہیں۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
