تحریر: امین بیگ
(مارکسی مکتبِ فکر — رفقا کی تنقیدی رائے کے لیے)
ہنزہ کے بارے میں عمومی گفتگو چند طاقتور مگر سادہ بنائے گئے تصورات کے گرد گھومتی ہے، جو تاریخ کو سمجھنے کے بجائے اکثر اسے منجمد کر دیتے ہیں۔ ان تصورات کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھے بغیر نہ حال کی سیاست کو پڑھا جا سکتا ہے اور نہ مستقبل کا کوئی بامعنی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
پہلا تصورہنزہ کو ایک شانگریلا، جنتِ ارضی کے طور پر پیش کرتا ہے—طویل عمر، اجتماعی خوشی، بے فکری، بہادر اور آزاد منش لوگ، ایک ہم آہنگ اور خودمختار سماج۔
دوسرا تصورایک ظالمانہ جاگیردارانہ ریاست، جہاں عوام موروثی محکومی، جبری مشقت اور شدید غربت کا شکار تھے، اور جس کا خاتمہ بیرونِ علاقہ مزدوروں اور طلبہ کی سیاسی جدوجہد اور ذوالفقار علی بھٹو کی مداخلت سے ممکن ہوا۔
تیسرا تصورہنزہ انتہائی پسماندہ تھا، پھر قراقرم ہائی وے بنی اور مختلف ترقی و تحفظ کے محرک ادارے اور ایجنسیاں آئیں، جنہوں نے تعلیم، صحت اور معیارِ زندگی کو یکسر بدل دیا—گویا تبدیلی مکمل طور پر باہر سے آئی۔
چوتھا تصور: “ترقیاتی ادارے بطور نیولبرل سازش”۔
ایک غالب خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ہنزہ میں آنے والے ترقی و تحفظ کے محرک پروگرام دراصل نیولبرل این جی او ایجنڈے کا حصہ ہیں، جو سرمایہ داری کو پھیلانے، ریاستی خلا کو مستقل کرنے، اور لوگوں کو سیاست بیزاری کے لیے آئے ہیں۔
اہم وضاحت
ہنزہ میں سرگرم ترقی و تحفظ کے محرک ادارے—بالخصوص وہ نیٹ ورکس جو عالمی سطح پر کام کرتے ہیں—اپنے ادارہ جاتی مزاج میں غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ وہ کسی انقلابی منصوبے یا نظامی تبدیلی کی سیاست کے فریق نہیں بنتے، اور نہ ہی ان سے ایسی توقع رکھنا نظریاتی طور پر درست ہے۔ یہ ادارے مختلف ریاستی سیاق میں کام کرتے ہیں—آمریت ہو، جمہوریت، تھیوکریسی یا بادشاہت—اور ہر صورت میں خود کو تکمیلی اور معاون کردار تک محدود رکھتے ہیں۔
گرامچیائی اور جدید مارکسی فکر کے مطابق، ایسے اداروں کو یا تو “سرمایہ دارانہ سازش” یا “انقلابی متبادل” کے سادہ خانوں میں رکھنا میخانیکی مارکسیت کی علامت ہے۔ یہ ادارے نہ تو ریاستی اقتدار پر قبضے (پینتریبازی کی جنگ) کے لیے بنے ہیں، اور نہ ہی طبقاتی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے۔ ان کا کردار عبوری اورعملیت پسندی ہوتا ہے؛ یعنی وہ موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے سماجی بقا، انسانی صلاحیت اور ادارہ جاتی تسلسل کو ممکن بناتے ہیں۔
نئے مارکسی مباحث میں ایسے اداروں کوعبوری یا درمیانی تعلق کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ایسے کردار جو نہ خالصتاً سرمایہ دارانہ ایجنٹ ہیں اور نہ انقلابی قوت، بلکہ ایک درمیانی دورانیہ میں سماجی خود اختیاری اور سیاسی شعور کی تعمیر میں مدد دیتے ہیں۔
جدید مارکسی تجزیہ
تاریخی طور پر ہنزہ نہ سوشلسٹ تھا اور نہ کلاسیکی جاگیردارانہ ریاست۔ اس کی بقا زمین، پانی، محنت اور چین، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والے تجارتی راستوں کے گرد منظم ایک اجتماعی نظم سے ممکن ہوئی۔ اقتدار محض طاقت کا نام نہیں تھا بلکہ وسائل کے انتظام، قحط کے زمانوں میں اضافی پیداوار کی تقسیم، اور معیشت کو سماجی و اخلاقی حدود میں رکھنے سے وابستہ تھا۔
:کارل پولانی کے الفاظ میں
“قبل از سرمایہ دار معاشروں میں معیشت سماج میں پیوست ہوتی ہے، سماج معیشت کے تابع نہیں ہوتا”۔
ہنزہ کی معیشت بھی اسی معنی میں ایک اخلاقی معیشت تھی—عدم مساوات موجود تھی، مگر دولت کا بے لگام ارتکاز سماجی شعور اور اجتماعی اقدار کے ذریعے محدود رہتا تھا۔
۱۸۹۱۔۹۲میں برطانوی قبضے نے اس توازن کو توڑ دیا۔ چین کے ساتھ تاریخی تجارتی تعلقات منقطع ہوئے، اضافی پیداوار کا رخ مقامی سماج کے بجائے بیرونی طاقت کی طرف مڑ گیا، اور اقتدار کی مشروعیت مقامی سماجی نظم کے بجائے نوآبادیاتی سرپرستی سے جڑ گئی۔ 1947 کے بعد پاکستان میں انضمام اور 1974 میں ریاست کے خاتمے نے پرانا نظام تو ختم کر دیا، مگر اس کی جگہ کوئی ایسی مقامی، جمہوری سیاسی معیشت قائم نہ ہو سکی جو سماجی تجربے کو سیاسی اداروں میں ڈھالتی۔ یوں ایک طویل عبوری دور شروع ہوا—انتظام موجود تھا، مگر اختیار نہیں؛ ریاست موجود تھی، مگر سیاست کمزور۔
اسی خلا میں سماج نے خود کو منظم کیا۔ کمیونٹی ادارے، دیہاتی اور خواتین کی تنظیمیں، اور مختلف ترقی و تحفظ کے محرک ادارے اور ایجنسیاں سامنے آئیں۔ انہوں نے تعلیم، صحت، توانائی، ماحولیات، روزگار، سیاحت اور چھوٹے کاروبار کے شعبوں میں سماجی تسلسل کو برقرار رکھا۔ مگر یہ عمل زیادہ تر غیر سیاسی رہا۔
انتونیو گرامچی کی بات رہنمائی دیتی ہے
“بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پرانا نظام مر رہا ہو اور نیا ابھی جنم نہ لے سکا ہو؛ اسی وقفے میں غیر معمولی مظاہر جنم لیتے ہیں”۔
ہنزہ میں سماجی طاقت تو ابھری، مگر وہ سیاسی قوت میں منظم نہ ہو سکی۔ گرامشی کہتے ہیں کہ اقتدار صرف ریاستی جبر سے نہیں بلکہ سماجی رضامندی سے جاراہداری قائم ہوتا ہے۔ ہنزہ کا مسئلہ یہی رہا ہے: سماجی رضامندی تو موجود رہی، مگر اسے سیاسی قیادت، جماعتی تنظیم اور پالیسی میں تبدیل کرنے کا عمل کمزور رہا۔ نتیجتاً سماجی سرمایہ تو مضبوط ہوا، مگر سیاسی شعور بکھرا رہا۔
آج کا نازک چوراہا
ہنزہ آج ایک نازک مگر اہم چوراہے پر کھڑا ہے:
چین کے ساتھ سرحدی تجارت اورسی پیک کے امکانات، پاکستانی فوج و ریاست بطور اسٹریٹجک استحکام، ترقی و تحفظ کے محرک اداروں کا کمیونٹی اور حکومت کے درمیان رابطہ کار کردار، اسلام آباد سے متاثر سیاسی جماعتیں۔
ایسے میں نہ کوئی فوری سوشلسٹ انقلاب ممکن ہے اور نہ الگ تھلگ نظریاتی تجربہ پائیدار۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہنزہ کیا بن سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی سماجی قوت کو سیاسی قوت میں کب اور کیسے ڈھالتا ہے۔
یہ راستہ ایک منشور پر مبنی، مگر مقامی تناظر سے جڑی سوشلسٹ سیاست سے نکلتا ہے—جہاں زمین، پانی اور قدرتی وسائل پر کمیونٹی کنٹرول ہو؛ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات مساوی ہوں؛ شہری و دیہی ترقی ماحولیاتی حدود میں ہو؛ سیاحت اور تجارت مقامی مفاد کے تابع ہوں؛ نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت فیصلہ کن ہو؛ اور اختلاف کو مکالمے اور مشترکہ منصوبہ بندی میں بدلا جائے۔
اختتامی فکری فریم
گرامچیائی اصطلاح میں ہنزہ اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے—پرانا سماجی نظم ٹوٹ چکا ہے، مگر نیا سیاسی نظم ابھی تشکیل نہیں پا سکا۔ یہاں اصل جدوجہد پینتریبازی کی جنگ کی نہیں بلکہ سماجی و فکری بالادستی کی ہے: یعنی سماجی اداروں، کمیونٹی تنظیموں، مقامی معیشت، ثقافت، تعلیم، ماحول اور روزمرہ زندگی میں ایسے تصورات اور ادارے مضبوط کرنا جو مستقبل میں ایک نئی سیاسی اجارہ کی بنیاد بن سکیں۔
ہنزہ میں سماجی شعور، اخلاقی معیشت، کمیونٹی تعاون اور ماحولیاتی حساسیت پہلے سے موجود ہیں؛ مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں “انقلابی مادہ” نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اسے سیاسی تنظیم، نظریاتی وضاحت اور منشوراتی سمت نہیں ملی۔ ایک جدید مارکسی سیاست کا کام یہی ہوگا کہ وہ ترقی و تحفظ کے محرک اداروں، ریاست، منڈی اور کمیونٹی کے درمیان طاقت کے رشتوں کو رومانویت یا نفی کے بجائے تنقیدی مصالحت کے ذریعے ازسرنو مرتب کرے—تاکہ ہنزہ نہ تو سرمایہ دارانہ استخراج کا حاشیہ بنے، نہ کسی یوٹوپیائی تنہائی کا شکار ہو، بلکہ ایک ایسا مقامی، سبز، سماجی اور کثیرالجہتی ماڈل بن سکے جو متنازع خطے میں رہتے ہوئے بھی سماجی وقار، سیاسی شعور اور اجتماعی خود اختیاری کو آگے بڑھا سکے۔
حوالہ جات (References / Footnotes)
Antonio Gramsci, Prison Notebooks, 1971.
Karl Polanyi, The Great Transformation, 1944.
John Bellamy Foster, Marx’s Ecology, 2000; Eco-Marxism perspectives on sustainable development.
Contemporary debates on hybrid institutional actors in new Marxist thinking (Bebbington et al., 2008).

غلام امین بیگ اسلام آباد میں مقیم کمونیٹی ڈوہلپمیںت کے ماہر، ماحولیاتی و موسمیاتی تغیر اور تحفظ، کے کارکن اور پالیسی تجزیہ کارہیں۔ انہیں اپنے پیشہورانہ ذمی داریوں کے سلسلے میں اکثر گلگت۔بلتستان، چترال اور وسط ایشیایی ممالک کاسفر کرنا پڑتا ہے۔ وہ گلگت۔بلتستان چترال کے سیاسی، سماجی، و ثقافتی مسایل پر اکثر ہاٰیی ایشیاء ہیرالڈ اور بام جہاں میں مضامین لکھتے رہتے ہیں۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
