تحریر:عامر حسین
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں بائیں بازو کے بعض حلقوں کا تحریکِ انصاف اور تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ مخالف مزاحمتی سیاست کے ساتھ کھڑا ہونا ایک گہری نظریاتی، اخلاقی اور عملی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی صف بندی نہیں بلکہ پاکستانی بائیں بازو کی تاریخ، اس کی ناکامیوں، اس کی خود احتسابی اور مستقبل کے راستے کے تعین کا سوال بن چکا ہے۔
روایتی بائیں بازو کی جماعتیں اور آرتھوڈوکس مارکسی حلقے اس فیصلے کو ایک سنگین نظریاتی لغزش سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحریکِ انصاف کوئی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت نہیں بلکہ ایک دائیں بازو کی پاپولسٹ اور فاشسٹ رجحانات رکھنے والی پارٹی ہے جو شخصی کرشمے پر کھڑی ہے، کسی منظم نظریے یا طبقاتی سیاست کی حامل نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نظام کو چیلنج نہیں کرتی بلکہ صرف اس نظام میں اپنی حصہ داری چاہتی ہے۔ اس کی لڑائی شخصیات سے ہے، ڈھانچے سے نہیں۔ یہ جماعت سرمایہ دارانہ، اشرافیہ پر مبنی اور غیر مساوی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اقتدار میں شراکت چاہتی ہے، نہ کہ اس نظام کو بدلنے کا کوئی انقلابی ایجنڈا رکھتی ہے۔
روایتی بائیں بازو کا مؤقف ہے کہ ایک ایسی جماعت کے ساتھ کھڑا ہونا جو نظریاتی طور پر دائیں بازو کی نمائندہ ہو، بائیں بازو کی سیاست کو کمزور اور اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ موقع پرستی ہے، جس میں متوسط اور بالائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بعض خود ساختہ بائیں بازو کے رہنما اپنے طبقاتی مفادات اور سیاسی خواہشات کو نظریاتی اصولوں پر فوقیت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آتے ہی ان حلقوں کو بے دخل کر دے گی اور بائیں بازو کو محض ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ بہتر یہ تھا کہ ایک وسیع تر بائیں بازو کا اتحاد تشکیل دیا جاتا جو ایک متبادل عوامی سیاست پیش کرتا۔
اس کے برعکس وہ بائیں بازو کا حلقہ جس نے پی ٹی آئی کی مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اس مؤقف کو زمینی حقائق سے کٹا ہوا اور اشرافیانہ دانشوری کا تسلسل سمجھتا ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان میں اس وقت کوئی انقلابی صورتحال موجود نہیں۔ یہ نہ روس 1917 ہے اور نہ کوئی انقلابی ابھار جس میں خالص نظریاتی صف بندی ممکن ہو۔ ان کا استدلال ہے کہ سیاست امکانات کی دنیا ہے، اور جو جگہ خالی چھوڑی جائے وہ کسی نہ کسی قوت کے ہاتھوں بھر دی جاتی ہے۔
یہ حلقہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کا نوجوان، مزدور اور عام شہری بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے سے جڑا ہوا ہے۔ بایاں بازو دہائیوں تک نوجوانوں کو متحرک کرنے میں ناکام رہا، آپسی اختلافات میں الجھا رہا، اور عوام کے لیے کوئی قابلِ فہم متبادل سیاست پیش نہ کر سکا۔ اس خلا کو پی ٹی آئی نے پُر کیا، چاہے وہ شخصیت پرستی کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی کی تحریک میں شمولیت کا مطلب اس کی نظریاتی توثیق نہیں بلکہ عوامی سیاست کے میدان میں داخل ہونا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بائیں بازو کو اپنے نظریات عوام تک پہنچانے کا موقع مل سکتا ہے۔ وہ لینن کی مثال دیتے ہیں کہ اس نے زار کے پارلیمان جیسے اصلاح پسند اور محدود ادارے میں بھی مداخلت کی وکالت کی تاکہ ہر ممکن پلیٹ فارم کو سیاسی جدوجہد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ ان کے نزدیک سیاست میں تنہائی کوئی فضیلت نہیں، اور محض کتابی نظریات کی تبلیغ سے عوامی سیاست نہیں بنتی۔
یہ حلقہ روایتی بائیں بازو کو ایک خود کلامی میں مبتلا دانشورانہ گروہ قرار دیتا ہے جو عملی جدوجہد سے کٹ چکا ہے، عوام سے خوفزدہ ہے اور شکست خوردہ نفسیات کا شکار ہے۔ ان کے نزدیک آج کی سیاست میں غیر متعلق ہو جانا سب سے بڑی ناکامی ہے، اور بایاں بازو اسی راہ پر گامزن ہے اگر اس نے عوامی تحریکوں سے فاصلہ برقرار رکھا۔
ٗیہ بھی پڑھیئے
سماجی و سیاسی شعور: ایک درست نکتہ، مگر ادھورا تجزیہ:
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی نظریاتی طور پر بائیں بازو کی جماعت ہے یا نہیں — کیونکہ وہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بایاں بازو موجودہ طاقت کے توازن، عوامی رجحانات اور سیاسی امکانات کے اندر اپنی جگہ کیسے بناتا ہے۔ کیا وہ خود کو ایک خالص مگر غیر متعلق قوت کے طور پر برقرار رکھے، یا ایک پیچیدہ، متضاد اور غیر مثالی تحریک کے اندر مداخلت کر کے اپنی سیاست کے لیے گنجائش پیدا کرے؟
یہ بحث دراصل پاکستانی بائیں بازو کی روح کے بارے میں ہے: کیا وہ ایک زندہ سیاسی قوت بننا چاہتا ہے یا ایک تاریخی یادگار؟
میرے خیال میں اس اختلاف کو الزام تراشی، تکفیر اور کردار کشی کے بجائے ایک سنجیدہ مکالمے میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ بائیں بازو کی روایت ہمیشہ اختلاف، تنقید اور مباحثے سے زندہ رہی ہے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سوال بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی سطح پر زیرِ بحث آئے، تاکہ فیصلہ نظریاتی انا نہیں بلکہ سیاسی بصیرت کی بنیاد پر ہو۔
یہ مکالمہ ناگزیر ہے — کیونکہ پاکستان کی سیاست کسی ایک جماعت یا ایک نظریے کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ اس عوام کے ہاتھ میں ہے جس سے بایاں بازو دہائیوں سے دور ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اور سیاست میں سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ آپ عوام سے کٹ جائیں۔

عامر حسین نہال ایک ممتاز پالیسی اور گورننس کے ماہر، لکھاری اور سیاسی مبصر ہیں۔ وہ قومی و علاقائی سطح پر پالیسی، سیاست، سماجی انصاف اور حکمرانی کے امور پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنے تجزیات کے ذریعے عوامی مکالمے کو فکری وسعت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
