تحریر: فرمان بیگ
ہنزہ میں یوں تو زمانہ قدیم سے بڑے بڑے قدرتی حادثات وقوع پزیر ہوئے ہیں اور انسانی آبادیوں کو نقصانات پہنچاتے رہے ہیں۔ان حادثات سے نمٹنے اور نقصانات کو کم کرنے کے مقامی نظام موثر انداز میں اپناے گیے ۔ لیکن موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں وسائیل کی بہتات اور درجنوں اداروں کے باوجود اس طرح کے قدرتی آفات سے نمٹنے کا موثر نظام نظرنہیں آتا۔ بالخصوص گزشتہ ایک دہائی کے دوران دو بڑے حادثات یعنی ۲۰۱۰ میں عطاء آباد اور حال ہی میں چیپورسن میں پیش آنے والے المناک حادثات محض قدرتی آفات نہیں ہیں۔ یہ درحقیقت ہنزہ کے انتظامی، سیاسی اور سماجی-مذہبی نظام میں موجود گہری کمزوریوں اور حکمت عملی کی ناکامیوں کا مظہر ہیں۔ کسی بھی خطے میں حادثات کا پیش آنا فطری ہے، لیکن دوراندیش منصوبہ بندی، مؤثر حکمت عملی اور فوری عملدرآمد کے ذریعے ان کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ عطاآباد اور چپورسن کے صورتِ حال اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہاں یہ اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔
انتباہ کے باوجود عمل کا فقدان
ان حادثات سے قبل متعلقہ سرکاری، سماجی اور مذہبی اداروں کے پاس خطرات سے آگاہ کرنے والی واضح معلومات موجود تھیں اور کچھ سرگرمیاں بھی جاری تھیں۔ تاہم، ہنگامی صورتحال کے تقاضوں کے مطابق فوری اور فیصلہ کن کارروائی نظر نہیں آئی۔ نتیجتاً تباہی ناگزیر ہوگئی۔ چیپورسن کا معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے، جہاں گزشتہ کئی مہینوں سے زیر زمین دھماکے کسی بڑے حادثے کے واضح پیش خیمہ تھے۔ اس کے باوجود، پہلے ہی غیر محفوظ آبادی کو سردی اور دیگر موسمی شدت سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات سے محروم رکھا گیا۔





یہ صورتحال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا سرکاری، غیر سرکاری اور خاص طور پر اسماعیلی کونسلوں کے انتظامی ڈھانچے میں ایسے واقعات سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کرنے اور بروقت حکمت عملی مرتب کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟
اس سوال کا جواب محض اداروں کی کارکردگی تک محدود نہیں، بلکہ علاقے کے انتظامی طریقہ کار کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہے۔ ہنزہ کا سماجی ڈھانچہ ایک منفرد مثال پیش کرتا ہے، جہاں زندگی کے بیشتر شعبے اسماعیلی کونسلوں کے زیراثر چلتے ہیں۔ یہ ادارے محض مذہبی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ سماجی بہبود، تعلیم، صحت، معیشت اور بالخصوص سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا فیصلہ سازی کا عمل انتہائی مرکزی نوعیت کا ہے، جہاں اہم پالیسی فیصلے کراچی میں واقع مرکزیت قیادت کے ہاں ہوتے ہیں۔ ان فیصلوں کو عقیدے کے رنگ میں رنگی ہوئی ہدایات کی صورت میں مقامی سطح پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ پالیسیاں کراچی جیسے بڑے شہری مراکز کے لیے مؤثر ہو سکتی ہیں، لیکن گلگت بلتستان کے مقامی سیاسی حالات، جغرافیائی پیچیدگیوں اور معاشی ضروریات کو نظرانداز کرتی ہیں۔ دور بیٹھ کر بنائی گئی یہ پالیسیاں مقامی مروّجہ صورتحال کا احاطہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ اس کا واضح ثبوت گلگت بلتستان لینڈ ریفارم ایکٹ جیسے قوانین ہیں، جن کے اثرات بشمول ہنزہ، پورے خطے پر یکساں پڑیں گے، نہ کہ کراچی میں بیٹھے پالیسی سازوں پر۔ مگر اس کے باوجود، مقامی اسماعیلی کونسلیں خاموشی کی روایتی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس سے مقامی لوگوں کی زمینوں، پہاڑوں اور چراگاہوں کے حقوق شدید خطرے میں ہیں۔
قیادت کے معیار کا بحران اور حکومتی نظام سے علیحدگی
ہنزہ میں قیادت کا معیار ایک اہم مسئلہ ہے۔ سیاسی قیادت کو پروان چڑھنے ہی نہیں دیا گیا۔ اس کے متبادل کے طور پ مذہبی اداروں اور ان کے زیر اثر غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ شخصیات کو ہی قائد تسلیم کیا جاتا ہے اور وہی ہنزہ کے اسٹیک ہولڈر سمجھے جاتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ان میں سے اکثریت سیاسی و انتظامی مہارت سے عاری ہیں، جو سرکاری اداروں کے ساتھ مؤثر مذاکرات کر کے حقوق منوانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ یہ کمی انہیں پیچیدہ علاقائی سیاسی، ترقیاتی اور انتظامی معاملات میں مؤثر کردار ادا کرنے سے روکتی ہے۔
دوسری جانب، سرکاری ملازمین کی ان اداروں میں اہم عہدوں پر تعیناتی ایک اور تضاد ہے۔ یہ افراد اپنے سینئر سرکاری افسران کے سامنے علاقے اور عوام کے مسائل کو مؤثر طریقے سے پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ درحقیقت، وہ اپنے سرکاری عہدے اور ملازمت کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے خوف سے عوامی حقوق کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی اپنانے سے گھبراتے ہیں۔ اس سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جس میں ہنزہ کو سرکاری ترقیاتی نظام سے یکسر خارج کر کے تجارتی مارکیٹوں اور این جی اوز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
بلدیاتی نظام کی غیرموجودگی: جمہوریت کا سب سے بڑا خلا
ایک اور بنیادی مسئلہ سیاسی اداروں، خاص طور پر بلدیاتی نظام کی مکمل غیرموجودگی ہے۔ گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات بیس سالوں سے نہیں ہوئے، جبکہ کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز ڈپٹی کمشنر کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں بلدیات عوامی خدمات کی ترسیل اور ترقیاتی کاموں کی بنیادی اکائی ہوتی ہیں۔ یہ ادارے عوام اور حکومت کے درمیان ایک مؤثر ربط کا کام بھی کرتے ہیں۔
ہنزہ کے تناظر میں یہ نظام گزشتہ دو دہائیوں سے مفقود ہے۔ اس کی جگہ سماجی، غیر سرکاری اور مذہبی اداروں نے لے لی ہے۔ اگرچہ یہ ادارے اپنی جگہ مفید خدمات سرانجام دے سکتے ہیں، لیکن یہ براہ راست منتخب عوامی نمائندہ اداروں جتنا مؤثر، مضبوط یا جوابدہ نہیں ہو سکتے۔ ان پر عوام کا براہ راست کنٹرول نہیں ہوتا،نہ یہ عوام کے سامنے جوبدہ ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں سرکاری انتظامیہ عوامی فلاحی منصوبوں میں سنجیدگی سے دلچسپی نہیں لیتی اور نہ ہی مقامی لوگوں کی
ترجیحات و ضروریات کو اولیت دی جاتی ہے۔نوکرشاہی کے افسراں ضلع کے لیئےمختص فنڈ کو یہ کہہ کر ہڑپ کر جاتے ہیں کہ “چونکہ عالمی اداروں کی جانب سے ہنزہ کے لیئے آغا خان ڈولپمینٹ نیٹورک کے ذریعے خطیر فنڈ آتا ہے اس لیے یہاں کے لوگوں کو سرکار کی طرف سے فنڈ کی ضرورت نہیں”۔
اصلاحات کے لیئے تجاویز
:ان تمام مسائل کے پیش نظر، مندرجہ ذیل تجاویز ناگزیر ہو جاتی ہیں
اسماعیلی کونسلوں اور ان سے منسلک اداروں کے دائرہ کار اور اختیارات پر فوری، واضح اور شفاف نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہیں خالصتاً مذہبی معاملات تک محدود رکھنا چاہیے۔ سیاسی ،سماجی و انتظامی امور، خاص طور پر سرکاری پالیسیوں سے متعلق ان کا کردار صرف مشورہ دہندہ تک ہونا موجودہ سیاسی نظام کے مطابق درست ہے، نہ کہ فیصلہ کن اتھارٹی۔
ان اداروں میں مقامی، تعلیم یافتہ، دوراندیش اور سیاسی و انتظامی معاملات میں مہارت رکھنے والے افراد کو شامل کیا جانا چاہیے، جو مقامی مسائل کو سمجھتے ہوں اورمقامی سماجی نظام کے خدوخال کے مطابق مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ساتھ ہی، ان اداروں میں موجودہ سرکاری ملازمین کی تعیناتی پر پابندی عائد کر دی جانی چاہیے تاکہ مفاد کے تصادم سے بچا جا سکے۔
مضبوط بلدیاتی نظام کی بحالی
این جی اوز پر انحصار بتدریج کم کرتے ہوئے ایک مضبوط،بااختیار اور خودمختار بلدیاتی نظام کو فوری طور پر فعال بنانا ہوگا۔ اس کے لیے شفاف اور غیرجانبدارانہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ کے زیرانتظام ترقیاتی فنڈز کو ضلعی ہیڈ کوارٹرز کی انتظامی اخراجات میں ضائع ہونے کے بجائے براہ راست منتخب مقامی بلدیاتی اداروں کے ذریعے استعمال کیا جانا چاہیے۔ بجلی، تعلیم، صحت، صاف پانی اور مقامی انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا حل مضبوط مقامی حکومتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ہنگامی حالات میں فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر منتقل کیا جائے۔ مقامی لوگ اپنے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کریں اور تمام ادارے شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں پر عمل کریں۔
عطاء آباد اور چیپورسن کے المیے محض الگ تھلگ واقعات نہیں، بلکہ ایک نظامِ کی ناکامی کے وارننگ سگنل ہیں۔ یہ ایسے نظام کی کہانی سناتے ہیں جہاں مرکزیت نے مقامیت کو کچل دیا ہے، جہاں خاموشی کی پالیسی نے عوامی آواز کو دبایا ہے، اور جہاں غیرجوابدہ اداروں نے براہ راست نمائندگی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ ان واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ صرف اسی طرح ہم آنے والے حادثات سے بچاؤ کی تیاری کر سکتے ہیں اور پہاڑوں کی دشوار گزار وادیوں میں رہنے والے لوگوں کو تحفظ اور ترقی کی بنیادی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔

فرمان بیگ ایک سیاسی، سماجی اور سوشل میڈیاکارکن ہیں۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ ماحولیات، سیاست، اور دیگر سماجی مسایل پہ مقامی اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا پہ لکھتے ہیں۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
