تحریر: زبیر توروالی
شمالی پاکستان کی مقامی داردی برادریاں ہندوکش، قراقرم اور مغربی ہمالیہ کی بلند پہاڑی وادیوں میں آباد ہیں۔ ان کی تاریخ ہمیں یہ سمجھنے کا موقع دیتی ہے کہ بار بار کی محکومی، ثقافتی ورثے سے محرومی اور اپنی شناخت سے بیگانگی کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ صدیوں سے یہ لوگ مختلف سلطنتوں کی کشمکش کے درمیان رہتے آئے ہیں۔ انہیں بار بار حملوں، انتظامی تبدیلیوں اور اپنی ثقافت اور شناخت کو مٹانے کے عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی سلطنتوں کے حملوں اور کشمیر کے حکمرانوں کی جاگیردارانہ توسیع سے لے کر شمال کی طرف یوسفزئی غلبے کے پھیلاؤ تک اور پھر برطانوی راج کی مسلط کردہ نقشہ بندی اور آزادی کے بعد کے ریاستی نظام تک، بیرونی طاقتیں ان لوگوں کی شناخت اپنی مرضی سے متعین کرتی رہی ہیں۔
تاہم اس طویل محکومی کا سب سے گہرا نقصان صرف اپنے علاقوں سے بے دخلی یا سیاسی طور پر بے اختیار ہونا نہیں تھا۔ اس نے لوگوں کے اندر اپنی ذات اور پہچان کے حوالے سے ایک گہری دراڑ پیدا کی۔ باہر سے مسلط کیے گئے طاقتور مذہبی اور تاریخی بیانیے نے محکوم لوگوں کو اپنے ہی ماضی کے خلاف کھڑا کر دیا۔ وہ مذہب کی تبدیلی سے پہلے کے اپنے آباؤ اجداد سے لاتعلقی اختیار کرنے لگے۔ اپنے تاریخی ہیروز کو کافر سمجھ کر رد کرنے لگے اور اپنی ہی شکست اور محکومی کی کہانی کو فاتحین کی کامیابی سمجھ کر قبول کرنے لگے۔
اپنی تاریخ کی مشترکہ اور مربوط یاد سے محروم ہونے کے باعث یہ برادریاں اندر سے شدید تقسیم کا شکار ہوئیں۔ یہ تقسیم خیلوں اور خاندانوں کی بنیاد پر گروہ بندی اور مقامی علما کے درمیان معمولی مذہبی اختلافات پر جھگڑوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یہ مضمون فرانز فینن کے ”نوآبادیاتی نفسیات “سے متعلق خیالات، ہومی بھابھا کے ”نقالی اور اندرونی کشمکش کے تصور“، ایڈورڈ سعید کی ًغالب اور محکوم کو ایک دوسرے کی ضد بنا کر پیش کرنے کی تشریح“، میخائل باختین کے” مختلف آوازوں کے مکالمے کے نظریے“ اور انتونیو گرامشی کے ”ثقافتی غلبے“ (Cultural Hegemony) کے تصور کی مدد سے اس صورتِ حال کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں دیکھا گیا ہے کہ داردی پہاڑی برادریوں کی بار بار کی محکومی نے کس طرح ان کے ذہنوں کو بھی محکوم بنایا، ان سے اپنی تاریخ بیان کرنے کا اختیار چھینا اور ان کی دبی ہوئی قوت کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف موڑ دیا۔
داردی برادریوں میں اپنے ماضی کو بھول جانے کی کیفیت کو سمجھنے کے لیے ان نظریات سے مدد لینا ضروری ہے جو بتاتے ہیں کہ طاقت صرف عسکری تشدد کے ذریعے کام نہیں کرتی بلکہ سوچ، ثقافت اور تاریخ پر اختیار کے ذریعے بھی اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔
فرانز فینن نے اپنی کتابوں (Black Skin, White Mask)، اور زمین کے افتادگان یعنی(The Wretched of the Earth) میں نوآبادیاتی غلبے کے نفسیاتی طریقوں اور واردات کی وضاحت کی۔ فینن کے مطابق نوآبادیاتی نظام صرف لوگوں کو اپنے قبضے میں رکھنے اور ان کے ذہنوں کو ان کی اپنی سوچ سے خالی کرنے پر مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ محکوم لوگوں کے ماضی کی طرف بھی رخ کرتا ہے، اسے توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے،اس کی صورت بگاڑتا ہے اور اسے تباہ کرتا ہے۔
جب محکوم انسان اپنی ذات کو اپنی ثقافت کی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو وہ حاکم کی اقدار کو انسانی قدر جانچنے کا واحد معیار سمجھنے لگتا ہے۔ اس سے اپنی ذات سے بیگانگی اور گہرا ذہنی اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ پھر محکوم شخص اپنی نجات اسی میں دیکھتا ہے کہ وہ فاتح کے ساتھ پوری طرح اپنی شناخت جوڑ لے اور اپنی مقامی پہچان کو رد کر دے۔
ہومی بھابھا اپنی کتاب (The Location of Culture) میں اس عمل کو ’’نوآبادیاتی نقالی‘‘ اور ’’متضاد احساسات کی کشمکش‘‘ کے تصورات سے مزید واضح کرتے ہیں۔ بھابھا کے مطابقنوآبادیاتی ریاست ایسے محکوم لوگ پیدا کرنا چاہتی ہے جو حاکم کی زبان، مذہبی تعبیر اور اداروں کے طریقے اپنا لیں۔ وہ حاکم جیسے بنیں مگر انہیں کبھی پوری طرح اس کے برابر تسلیم نہ کیا جائے۔
یہ صورتِ حال محکوم کے اندر ایک کشمکش پیدا کرتی ہے۔ وہ حاکم کی زبان اور سوچ تو اپنا لیتا ہے لیکن اسے بار بار اس کی کم تری بھی یاد دلائی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ اسی نظریے کا پُرجوش محافظ بن جاتا ہے جس نے اسے محکوم بنایا تھا۔ وہ اپنی وفاداری دیکھا کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس نے اپنے اس ماضی سے مکمل تعلق توڑ لیا ہے جسے ”وحشی“ کہا جاتا ہے۔
یہ غلبہ اس عمل کے ذریعے قائم رہتا ہے جسے انتونیو گرامشی نے ”ثقافتی بالادستی“کہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غالب گروہ اپنی سوچ کو پورے معاشرے کی عام فہم اور فطری سچائی بنا دیتا ہے۔ اسے ہر وقت طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ تعلیمی، مذہبی اور سیاسی اداروں کے ذریعے محکوم لوگوں کو قائل کرتا ہے کہ ان کی کم تر حیثیت فطری ہے، خدا کی مرضی ہے یا تاریخ کا ایسا نتیجہ ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا۔
داردی برادریوں کے معاملے میں حملہ آوروں اور غالب سلطنتوں نے پہاڑی علاقوں کی فتح کو” روشنی“ اور ”جہالت “کے درمیان مقابلے کے طور پر پیش کیا۔ یوں محکوم لوگ خود اپنی ثقافت کو مٹانے کے عمل میں شریک ہونے لگے۔
شمال کی پہاڑی وادیوں کی جغرافیائی دوری نے ایک طویل عرصے تک ان کی منفرد زبانوں، سماجی طریقوں اور روحانی روایات کو محفوظ رکھا۔ تاریخی طور پر توروالی، گاوری، شینا، کھوار اور کوہستانی سمیت داردی زبانیں بولنے والی آبادیوں میں مختلف مقامی عقائد اور روایات رائج تھیں۔ ان میں فطرت کی چیزوں میں روح کی موجودگی پر یقین، روحانی پیشواؤں اور بدھ مت سے جڑی روایات،اور کئی کثرت کو ماننے والے مقامی عقائد شامل تھے۔ ان کا گہرا تعلق پہاڑی ماحول، مقدس سمجھے جانے والے مقامات اور آبائی سلسلوں سے تھا۔ لیکن اہم راستوں پر واقع ہونے کے باعث یہ وادیاں آس پاس کی سلطنتوں اور پھیلتی ہوئی علاقائی طاقتوں کا ہدف بھی بنتی رہیں۔
وسطی ایشیا کی سلطنتوں، کشمیر کے حکمرانوں اور مختلف علاقائی خاندانوں نے تجارتی راستوں اور بلند پہاڑی علاقوں کے وسائل پر قبضے کے لیے وقتاً فوقتاً ان وادیوں پر حملے کیے۔ پندرھویں سے سترھویں صدی کے درمیان یوسفزئی قبائل شمال کی طرف سوات، دیر، کوہستان اور قریبی پہاڑی وادیوں میں پھیلے۔ یہ صرف علاقے حاصل کرنے کا عمل نہیں تھا۔ اس کے ساتھ زمین کی ملکیت اور تقسیم کا ایک منظم جاگیردارانہ نظام، ”ویش“ اور ایک سخت سماجی و مذہبی شناخت بھی آئی۔
مقامی پہاڑی باشندوں کو یا تو مزید بلندی پر دریاؤں کے سرچشموں کی طرف دھکیل دیا گیا یا انہیں زمین سے محروم کرکے ’’فقیر‘‘ اور ’’دہقان‘‘ جیسے تابع زرعی طبقوں اور مزارعوں میں بدل دیا گیا یا پھر انہیں زبردستی غالب سماجی نظام میں شامل کر لیا گیا۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی راج نے ریاستی سرحدیں، قانونی ضابطے اور بڑی طاقتوں کے درمیان حائل علاقے مقرر کیے۔ ڈیورنڈ لائن اسی عمل کی ایک مثال تھی۔ انگریزوں نے سوات، دیر اور چترال جیسی مقامی ریاستوں کے ذریعے بالواسطہ حکومت بھی کی۔ انہوں نے قبائلی شناختوں کو سرکاری اور قانونی شکل دی اور انتظامی نظم برقرار رکھنے کے لیے غالب جاگیردارانہ ڈھانچوں کو مضبوط کیا۔ یوں مقامی سماجی شناختوں کی وہ حدیں جو پہلے بدل سکتی تھیں سخت قانونی خانوں میں بند کر دی گئیں۔
تاریخ کے ان مختلف مرحلوں میں داردی آبادیوں سے اپنے علاقوں پر اختیار اور معاشی خودمختاری بتدریج چھین لی گئی۔ لیکن سب سے دیرپا نقصان اس وقت ہوا جب زمین اور اقتدار پر قبضے کو مذہبی اور تاریخی طور پر ضروری اور جائز قرار دے دیا گیا۔
داردی برادریوں کو محکوم بنانے کا ایک بنیادی طریقہ باہر سے لائی گئی ایسی مذہبی سوچ کے ذریعے ان کی شناخت بدلنا تھا جس پر سیاسی مقاصد کا گہرا اثر تھا۔ جنوب سے پھیلنے والی طاقتوں کے غلبے میں اسلام قبول کرنے کے ساتھ تاریخ کی بھی نئی تشریح کی گئی۔ مقامی لوگوں کے ماضی میں موجود زبانی رزمیہ داستانوں، پہاڑوں سے جڑے عقائد، علاقائی ہیروز اور آبائی شجروں کو یکساں طور پر ”جاہلیت“ اور ”کفر“کے خانوں میں ڈال دیا گیا۔
فینن کے نفسیاتی تصور کی روشنی میں دیکھا جائے تو محکوم برادریاں اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں۔ وہ مذہب تبدیل کرنے سے پہلے کے اپنے آباؤ اجداد کو ہیروسمجھنے کے بجائے ایسے ”کافر“ سمجھنے لگیں جن کی یاد مذہبی شرمندگی کا باعث ہو۔ جن تاریخی شخصیات نے بیرونی حملوں کی مزاحمت کی تھی ان سے ہیرو کا مقام چھین کر انہیں حق کی روشنی کے مخالف کردار بنا دیا گیا۔ یوں یہ ابا و اجداد ان کی یاداشتوں سے محو ہوگئے اور جن کے خلاف یہ لوگ اپنی دھرتی کی خاطر لڑے تھے ان ہی کی اولاد ان لوگوں کے مزارات کی پوجا کرنے لگی!
یہ بھابھا کی بیان کردہ نوآبادیاتی نقالی کی ایک نمایاں صورت ہے۔ مفتوح لوگوں کی اولاد اب اسی بیانیے پر فخر کرتی ہے جس نے اسے محکوم بنایا تھا۔ وہ ان جنوبی طاقتوں اور علاقائی جنگی سرداروں کی فتوحات کا جشن مناتی ہے جنہوں نے اس کی وادیوں کو زیر کیا تھا۔ وہ فاتح کی تاریخ اور آبائی سلسلے کو اپنا سمجھنے لگتی ہے۔
ایسا کرکے محکوم لوگ اپنے مقامی ہونے کے مبینہ ’’کلنگ ‘‘ کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خود کو فاتحوں سے بھی زیادہ پُرجوش پیروکار ثابت کرنا چاہتے ہیں اور یوں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن جاتے ہیں۔ اس دوران کی مشترکہ تاریخی یاد مٹتی جاتی ہے اور اس کی جگہ باہر سے لائی گئی ایسی تاریخ لے لیتی ہے جس کا آغاز ہی فتح کے لمحے سے ہوتا ہے۔ مقامی زبانی روایات، لوک گیت اور آبائی قصے پسماندہ یا غیر اخلاقی کہہ کر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یوں برادری اپنی تاریخی جڑوں سے کٹ جاتی ہے۔
جہاں محکوم اپنے ماضی پر شرمندہ ہونے لگتا ہے وہاں حاکم کی تاریخی یاد اپنی فتوحات پر سوال اٹھائے بغیر فخر کرتی ہے۔ غالب علاقائی طاقتیں پہاڑی علاقوں کی محکومی کو زمینوں اور وسائل سے محرومی، معاشی استحصال یا ثقافتی تباہی کے طور پر بیان نہیں کرتیں۔ وہ اسے ایک بہادرانہ مہم اور لوگوں کو تہذیب سکھانے کا عمل قرار دیتی ہیں۔
غالب گروہوں کے علاقائی مؤرخ اور بزرگ جب اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ بیان کرتے ہیں تو بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ تاریخ کو صرف مذہبی فتح کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں کو زیر کرنا ایک ایسا اخلاقی فرض بتایا جاتا ہے جس نے مبینہ طور پر بے نظم اور قانون سے ناواقف پہاڑی قبائل میں نظم پیدا کیا۔ فتح کے دوران ہونے والے تشدد، مقامی لوگوں کی بے دخلی اور پہاڑی لوگوں کو تابع طبقوں میں بدلنے کے عمل کو یا تو تاریخ سے مٹا دیا جاتا ہے یا مذہبی راہ پر لانے کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
فتح پر فخر کرنے والی یہ تاریخ اس طریقے پر قائم ہے جسے ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب (Orientalism) میں دو متضاد تصویریں بنانے کا عمل قرار دیا۔ غالب طاقت خود کو عقل مند، شریف، مہذب اور روحانی طور پر پاک پیش کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ مقامی پہاڑی آبادیوں کو ناسمجھ، جنگلی، غیر مہذب اور روحانی بصیرت سے محروم دیکھاتی ہے۔
چونکہ غالب طاقت ہی تاریخ کو درج کرتی، لکھتی اور اداروں کے ذریعے پھیلاتی ہے اس لیے اس کا یک طرفہ زاویہ سرکاری تاریخ بن جاتا ہے۔ دوسری طرف، محکوم لوگوں کے پاس اپنی تاریخ لکھنے اور محفوظ کرنے کے ادارے نہیں ہوتے اور وہ اپنی زبانی روایات بھی چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اس بیانیے کا جواب دینے کے قابل نہیں رہتے۔ وہ اپنی تاریخ خود بیان نہیں کر پاتے کیونکہ انہیں فاتح کی زبان، اسی کے بنائے ہوئے خانوں اور اسی کے اخلاقی معیاروں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور جو کوئی ایسی کوشش کرے بھی تو اس کو یہ طاقتور بیانیہ اپنے لوگوں میں ہی اچھوت بناتا ہے۔
نوآبادیاتی اثرات کا مطالعہ کرنے والے نظریات کی ایک اہم بات یہ ہے کہ فتح کا باقاعدہ عمل ختم ہونے کے بعد بھی اس کا تشدد ختم نہیں ہوتا۔ وہ اندر کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جب محکوم لوگ باہر کے حالات بدلنے کی قوت سے محروم ہوں اور انہیں محکوم بنانے والے طاقت کے نظام کا مقابلہ نہ کر سکیں تو وہ اپنی دبی ہوئی کشیدگی ایک دوسرے کے خلاف نکالنے لگتے ہیں۔
آج داردی وادیوں میں یہ نفسیاتی کیفیت شدید اندرونی تقسیم کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یہ برادریاں چھوٹے چھوٹے خیلوں، خاندانوں، ذیلی قبائل اور الگ الگ مقامی آبادیوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ زمین کی حدوں، پانی کے حقوق اور سماجی مرتبے پر خیلوں کے درمیان دشمنیاں ان برادریوں کی بہت سی توانائی صرف کر دیتی ہیں۔
اسی دوران مقامی علما اور اہلِ علم معمولی مذہبی باریکیوں، فرقہ وارانہ تفصیلات، نمائندگی اور شہرت کے چھوٹے چھوٹے معاملات پر مسلسل تلخ بحثوں میں الجھے رہتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو بھی نشانہ بناتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو طاقتور بیانیے کے مقابلے میں کوئی دوسرا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اندرونی کشمکش ان پہاڑی معاشروں کی کوئی پیدائشی یا ’’قدیم‘‘ خصوصیت نہیں، بلکہ بار بار کی محکومی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
فینن کے مطابق محکوم انسان ظالم کے سامنے مسلسل تناؤ اور بے بسی کی حالت میں رہتا ہے۔ پھر وقتاً فوقتاً وہ اپنے اندر جمع شدہ غصے کو اپنے ہی بھائی پر نکال دیتا ہے۔ قبائلی دشمنی اور اہلِ علم کا جھگڑا اس مایوسی کو نکالنے کے نسبتاً محفوظ راستے بن جاتے ہیں جس کا رخ محرومی پیدا کرنے والے بڑے نظام کی طرف نہیں کیا جا سکتا۔
“”تاریخی طور پر سامراجی منتظمین اور علاقائی اشرافیہ دونوں نے قبائلی رقابتوں کو استعمال کیا تاکہ پہاڑی لوگوں میں مشترکہ شعور پیدا نہ ہو سکے۔
تاریخی طور پر سامراجی منتظمین اور علاقائی اشرافیہ دونوں نے قبائلی رقابتوں کو استعمال کیا تاکہ پہاڑی لوگوں میں مشترکہ شعور پیدا نہ ہو سکے۔ کچھ قبائل کو دوسروں پر ترجیح دے کر اور فرمانبردار مذہبی گروہوں کو آگے بڑھا کر غالب طاقتوں نے مقامی آبادی کو مسلسل تقسیم کیے رکھا۔
جب کسی برادری کے پاس ایک مربوط مشترکہ تاریخ یا ایسا آبائی ہیرو نہ ہو جس کے گرد وہ متحد ہو سکے تو اس کے پاس مشترکہ اخلاقی بنیاد بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہاں میخائل باختین کا ایک آواز اور کئی آوازوں کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ جب ایک ہی سخت اور یک طرفہ بیانیہ مسلط کیا جائے تو مقامی لوگوں کی مختلف آوازیں اور ان کے درمیان مکالمہ دب جاتا ہے۔ اپنے مشترکہ مقامی ورثے سے محروم لوگ شناخت کے سب سے چھوٹے دائروں یعنی اپنے قریبی خیل/قبیلے یا کسی تنگ مذہبی ذیلی گروہ تک محدود ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً معمولی باتوں پر نہ ختم ہونے والے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔
اس تاریخی عمل کا سب سے افسوس ناک مرحلہ وہ ہے جسے ’’عکس کا اثر‘‘ (mirror effect) کہا جا سکتا ہے۔ جب محکوم داردی برادریاں غالب نظریے کو اپنی سوچ کا حصہ بنا لیتی ہیں تو وہ اپنے چھوٹے سماجی دائروں میں بھی فاتحوں جیسے رویے اختیار کرنے لگتی ہیں۔
ان پہاڑی برادریوں کے بااثر اور تعلیم یافتہ لوگ اکثر اپنی مقامی زبانوں کے احیا، ثقافتی تحفظ اور تاریخ کی بازیافت کے مخالف بن جاتے ہیں۔ جب مقامی محقق اپنی زبانوں کو تحریری شکل میں محفوظ کرنے، لوک ورثے کو بچانے یا محکومی سے پہلے کے ورثے کو اہمیت دینے کی کوشش کرتے ہیں تو خود ان کی برادری کے لوگ ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہ اندرونی ناقدین حاکم کی اپنائی ہوئی سوچ کے تحت ثقافتی کارکنوں پر ”قبائلیت“ پھیلانے، ”جاہلیت“ کو زندہ کرنے، ”کفر پھیلانے“ یا مذہبی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگاتے ہیں۔
یوں محکوم برادری خود اپنے اوپر جبر کرنے والے کا کردار سنبھال لیتی ہے۔ ’’عکس کا اثر‘‘ غلبے کو ایسا نظام بنا دیتا ہے جو خود چلتا رہتا ہے۔ اب غالب طاقت کو مقامی شناخت دبانے کے لیے مسلسل مداخلت نہیں کرنا پڑتی کیونکہ محکوم لوگ خود ہی یہ کام بخوبی نبھاتے ہیں۔ وہ اپنی مادری زبانوں کا استعمال محدود کرتے ہیں، اپنی روایات اور ثقافتی طریقوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور اپنے آبائی ماضی کی باقی نشانیاں بھی مٹانے لگتے ہیں۔
“شمالی پاکستان کی محکوم داردی برادریوں کی کہانی بتاتی ہے کہ گہری اور دیرپا فتح میدانِ جنگ سے کہیں آگے اثر کرتی ہے””
زبیر توروالی
شمالی پاکستان کی محکوم داردی برادریوں کی کہانی بتاتی ہے کہ گہری اور دیرپا فتح میدانِ جنگ سے کہیں آگے اثر کرتی ہے۔ مسلسل حملوں، علاقائی غلبے اور اداروں کے ذریعے حاشیے پر دھکیلے جانے کے نتیجے میں جسمانی قبضہ ذہنی قبضے میں بدل گیا ہے۔ مقامی تاریخی یاد کی جگہ باہر سے لائی گئی ایسی تاریخ نے لے لی جو ہر چیز کو دو مخالف خانوں میں بانٹتی تھی جیسے پاک ناپاک، وحشی مہذب وغیرہ۔ یوں فاتح پہاڑی لوگوں کو ان کے اپنے آباؤ اجداد سے بیگانہ کرنے، ان سے ان کے تاریخی ہیرو چھیننے اور اپنی تاریخ کے بارے میں انہیں بے زبان کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی خرابیاں، مثلاً مسلسل خاندانی اور قبائلی دشمنیاں، اہلِ علم کے معمولی باتوں پر جھگڑے اور اپنے ہی ورثے کو دبانا بار بار کے تاریخی صدموں کے دیرپا نفسیاتی سائے ہیں۔ ان برادریوں کے زخم بھرنے اور اپنا اختیار واپس حاصل کرنے کے لیے صرف معاشی ترقی، سڑکیں یا دوسری جدید سہولتیں کافی نہیں۔ انہیں اپنی تاریخ کا تنقیدی جائزہ لے کر اسے نوآبادیاتی سوچ کے اثر سے آزاد کرنا ہوگا۔
محکوم لوگوں کی تاریخ اور زبانوں کے احیا پر کام کرنے والے اہلِ علم کے مطابق، اس آزادی کے لیے محنت اور ہمت درکار ہے۔ اس میں دبی ہوئی یادوں کو سامنے لانا، آبائی زبانوں کو محفوظ اور فروغ دینا، زبانی روایات کا دوبارہ جائزہ لینا، اپنی پرانی مقامی شناختوں سے تعلق بحال کرنا، اپنی دھرتی اور وسائل کا احترام کرنا اور ماضی کی ٹوٹی ہوئی کہانی کو دوبارہ جوڑنا شامل ہے۔
داردی برادریاں جب یہ سمجھ لیں گی کہ ان کی اندرونی تقسیم اور ان کی تاریخ کا مٹایا جانا فطری حالات نہیں بلکہ فتح اور محکومی کے پیدا کردہ نتائج ہیں تب وہ حاکم کے آئینے میں خود کو دیکھنے کی مجبوری سے نکل سکیں گی۔ وہ اپنے آبائی ورثے کے تمام پہلوؤں کو عزت دے سکیں گی اور اپنی تاریخ اپنی آواز میں بیان کر سکیں گی۔ اور اسی کو آبائی حقِ خود ارادیت کہا جاتا ہے۔

زبیر توروالی ایک محقق، مصنف اور اقلیتی زبانوں کے کارکن ہیں۔ ان کی بنیادی دلچسپی شمالی پاکستان کی مقامی برادریوں کو بااختیار بنانا ہے، اور اسی مقصد کے لیے وہ زبانوں، مقامی ہونے کے سوال اور مختلف استخراجی و ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ادارہ برائے تعلیم و ترقی، سوات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ ان سے اس ای میل ایڈریس پہ رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
