عمران آزاد
ہندوکش کے برف پوش پہاڑی سلسلوں میں زمانۂ قدیم سے مختلف قبائل آباد تھے، جن کے طرزِ زندگی، معاشرتی رواج اور مذہبی عقائد ایک دوسرے سے منفرد تھے۔ یہ لوگ بے شمار دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے، جن میں بیشتر فطری قوتوں اور مظاہرِ قدرت کی علامت تھے۔ جس چیز سے وہ خوفزدہ ہوتے، جو ان کی بقا کے لیے اہم تھی، یا جس سے انہیں نفع یا نقصان پہنچتا، وہ ان کے نزدیک مقدس تھی۔ چنانچہ سورج، آگ، دریا، پہاڑ، جھیلیں،آسمانی بجلی اور دیگر قدرتی مظاہر ان کے مذہبی تصورات کا لازمی حصہ تھے۔ ان کی عبادات میں قربانیاں، تہوار اور دیوتاؤں کو نذرانے پیش کرنا شامل تھا۔
عبادت کے ساتھ ساتھ ان کے معاشرے میں کچھ غیر تحریری سماجی اصول بھی رائج تھے، جنہیں دستور کہا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا غیر تحریری آئین تھا جس پر ہر فرد کے لیے عمل کرنا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ اس کی خلاف ورزی پر سب سے بڑی سزا علاقے سے بے دخلی تھی۔ قتل کے مرتکب کو بھی قتل کرنے کے بجائے جلاوطن کر دیا جاتا تھا اور اس کی واپسی ہمیشہ کے لیے ممنوع ہوتی تھی۔ نیز ان کے ہاں ذاتی دشمنی کا تصور موجود نہیں تھا۔اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا تو یہ محض مقتول کا ذاتی معاملہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ پورا قبیلہ مقتول کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہو کر انصاف کا تقاضا کرتا۔
معاشرہ قبیلوں میں منقسم تھا، جن کا ایک خاص ڈھانچہ اور درجہ بندی تھی۔ خواتین کے بارے میں ان قبائل کا رویہ پیچیدہ اور دوہرا تھا۔ ایک طرف انہیں گھریلو غلاموں کی سی پست حیثیت دی جاتی، تو دوسری طرف بعض معاملات میں انہیں آزادی بھی حاصل تھی۔ ایک انتہائی رواج یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے جان چھڑانا چاہتا تو وہ اسے بیچ سکتا تھا، اور اگر خریدار نہ ملے تو بغیر کسی رسم کے اسے گھر سے نکال دیتا۔ اس کے برعکس، بعض قبائل میں خواتین کو مردوں کے درمیان بلا جھجک آنے جانے کی آزادی تھی۔ لڑکیوں کے لیے ایک اہم رسم “کوپاس” نامی سر کا زیور تھا، جو ان کے چچا کی طرف سے تقریباً پانچ سال کی عمر میں دیا جاتا تھا تاکہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ اب ایک لڑکی ہے اور اس کے بال نہیں کٹوائے جا سکتے۔
سالانہ مذہبی تہوار بڑے جوش و خروش سے منائے جاتے تھے اور بعض قبائل میں یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔ مثال کے طور پر کیلاش قبیلے کا چلم جوشی تہوار، جس میں ڈھول کی تھاپ پر مرد اور خواتین مل کر رقص کرتے ہیں۔
آس پاس کے بیشتر معاشروں کی طرح، یہاں بھی عورت کو مرد کے مقابلے میں ناپاک تصور کیا جاتا تھا۔ اسی لیے بلند چراگاہوں، جھیلوں اور بعض پہاڑی مقامات ،جنہیں دیوی دیوتاؤں کا مسکن سمجھا جاتا تھا، میں خواتین کا داخلہ ممنوع تھا۔ گاؤں کے اندر بھی بعض مخصوص جگہوں پر ان کے جانے کی اجازت نہیں تھی۔
اس کے باوجود، خواتین کو کچھ ایسے حقوق حاصل تھے جو اس دور کے بہت سے معاشروں میں شاید تصور بھی نہیں کیے جاتے تھے۔ کوئی بھی بالغ لڑکی اپنی پسند کے مرد سے شادی کر سکتی تھی اور اس معاملے میں اس کی مرضی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، البتہ مرد کے لیے ضروری تھا کہ وہ لڑکی کے والد کو مقررہ رقم یا مناسب معاوضہ ادا کرے۔
اسی طرح ان کے معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اگر شادی سے پہلے کسی لڑکے اور لڑکی کو قابلِ اعتراض حالت میں پکڑ لیا جاتا تو زیادہ سے زیادہ چند تھپڑوں یا عارضی ناراضی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اگر کسی کی بیوی کسی دوسرے شخص کے ساتھ چلی جاتی تو معاملہ قتل تک نہیں پہنچتا بلکہ مالی جرمانے،جسے شرمانہ کہا جاتا تھا،سے حل کیا جاتا۔ روایتی طور پر دوسرے شخص سے پہلے شوہر کے خرچ کردہ رقم سے دگنی رقم وصول کی جاتی تھی، جو اس وقت ایک بڑی اور قابلِ قبول سزا تصور کی جاتی تھی۔
دوسرے لفظوں میں، ان کے ہاں جنسی تعلقات کو عزت اور غیرت کے سوال سے جوڑ کر انسانی جان لینے کا رواج نہیں تھا۔ کسی کے ذاتی یا ازدواجی معاملے کی سزا موت نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ سماجی ناراضی، جرمانہ یا عارضی سزا ہوتی تھی۔
بیرونی لوگ اگرچہ ان کے قدیم عقائد اور دستور کو عجیب یا قابلِ اعتراض سمجھتے تھے، لیکن ان کا معاشرتی نظام ذاتی آزادی، باہمی برداشت اور زندگی کی قدر کے ایسے پہلو رکھتا تھا جو اپنے زمانے کے لحاظ سے غیر معمولی تھے۔ ایک ہی خاندان میں مختلف عقائد رکھنے والے افراد بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے تھے۔
پھر وقت بدلا۔
باہر سے آنے والے نئے لوگوں نے مقامی آبادی پر حملے شروع کیے، یہ کہہ کر کہ ان کے عقائد غلط ہیں اور انہیں ایک خدائے واحد کی عبادت کرنی چاہیے۔ مقامی لوگوں نے مزاحمت کی مگر طاقت کا توازن ان کے حق میں نہیں تھا۔ رفتہ رفتہ ان کے قدیم عقائد، رسوم اور دستور کمزور پڑتے گئے اور بالآخر ان کا بڑا حصہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔
نئے آنے والوں کا دعویٰ تھا کہ وہ متعدد دیوی دیوتاؤں کے بجائے صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں،لیکن یہ محض ایک سفید جھوٹ تھا۔ وہ اپنے ایک خدا کے ساتھ ساتھ ایک اور دیوتا کی بھی پوجا کرتے تھے، جسے وہ غیرت کہتے تھے۔
مقامی دیوی دیوتاؤں کے برعکس، جن کے لیے فصلیں، پھل یا جانور قربان کیے جاتے تھے، اس نئے دیوتا کی بھوک انسانی خون سے وابستہ تھی۔ یعنی غیرت ایک ایسا سماجی تصور تھا جو انسان کی عزت، خاندان کی ساکھ اور عورت کے جسم و کردار کو اس قدر مقدس بنا دیتا ہے کہ آخر کار ایک انسانی جان بھی اس کے سامنے بے قیمت ہو جاتی ہے۔ اس دیوتا کا مندر کسی پہاڑ پر نہیں، بلکہ انسان کے ذہن میں قائم ہوتا ہے اور اس کی قربان گاہ گھر، گاؤں اور معاشرے میں بنتی ہے۔
ابتداء میں مقامی لوگوں کے لیے یہ تصور اجنبی تھا۔ وہ حیران ہوتے کہ کسی انسان کو محض عزت یا غیرت کے نام پر کیسے قربان کیا جا سکتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ اس تصور نے بھی معاشرے میں جگہ بنا لی اور آہستہ آہستہ غیرت ایک ایسی قوت بن گئی جس کے سامنے انسانی جان کی قدر کم ہوتی چلی گئی۔
اب اگر کسی لڑکے اور لڑکی کے درمیان تعلق کا محض شک بھی پیدا ہو جائے ،چاہے تعلق کسی بھی نوعیت کا ہو، بلکہ بعض اوقات حقیقت میں کوئی تعلق موجود بھی نہ ہو، تو یہی شک ان کی زندگی ختم کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت ظالم شوہر کو چھوڑ کر چلی جائے تو ماضی کے مالی جرمانوں اور سماجی سزاؤں کی جگہ آج موت کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورتحال تب ہوتی ہے جب کسی معصوم لڑکی کو زبردستی اغوا کرکے اس کی مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کیا جائے۔ایسی صورت میں بھی بعض اوقات لڑکی کو قصوروار ٹھہرا کر اس کی جان لے لی جاتی ہے، حالانکہ اس پورے معاملے میں اس کی مرضی اور اختیار شامل ہی نہیں ہوتا۔
ہندوکش کے ان علاقوں میں سڑکوں اور بیرونی دنیا سے رابطے میں اضافے کے بعد اس رجحان نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔ جب ریاستی اداروں، حکمران طبقات اور بیرونی دنیا سے براہِ راست رابطہ بڑھا تو مقامی سماجی رویوں پر بھی نئے اثرات مرتب ہوئے۔ غیرت کے نام پر تشدد کو روکنے کے بجائے، بعض جگہوں پر اسے سماجی قبولیت، خاموش حمایت اور کمزور قانونی عمل داری نے مزید تقویت دی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ اس علاقے میں لوگ طبعی وجوہات سے کم اور سماجی تعصبات، گھریلو تنازعات اور نام نہاد غیرت کے نام پر زیادہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان واقعات کے متاثرین میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو محض شک، افواہ، ذاتی دشمنی یا گھریلو تنازع کی بنیاد پر نشانہ بن جاتے ہیں۔
کسی شخص کو اپنی بیوی پسند نہیں تو وہ کسی کمزور فرد پر الزام لگا کر معاملہ غیرت کا رنگ دے سکتا ہے۔ کسی عورت کا گھر سے باہر جانا، کسی مرد سے بات کرنا یا محض کسی کے ساتھ نظر آ جانا بھی بعض اوقات اس کے خلاف شک پیدا کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ پھر یہ شک ایک ایسی آگ بن جاتا ہے جسے بجھانے کے لیے انسانی خون بہایا جاتا ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جب معاشرہ اور قانون دونوں خاموش تماشائی بن جائیں تو “غیرت دیوتا” کا پجاری ہر وہ شخص بن سکتا ہے جو اپنے ذاتی غصے، دشمنی یا مفاد کو غیرت کا نام دے دے۔
یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں صرف عورتیں ہی نہیں، بلکہ مرد بھی شکار ہوتے ہیں۔ ایک الزام، ایک افواہ یا ایک شک کسی بھی انسان کی زندگی چھین سکتا ہے۔
زیادہ دور نہیں جاتے۔ جنوری ۲۰۲۳ سے اگست ۲۰۲۶ تک صرف ایک مخصوص علاقے میں سامنے آنے والے واقعات پر نظر ڈالیں تو درجنوں انسان غیرت کے نام پر قتل ہو چکے ہیں۔اور یہ صرف وہ واقعات ہیں جن کی اطلاعات سامنے آئیں۔ آس پاس کے علاقوں میں کتنے لوگ اسی سوچ کی بھینٹ چڑھے، اس کا مکمل حساب شاید کسی کے پاس نہیں۔
صدیوں پہلے قدرتی قوتوں سے خوفزدہ انسان نے ان کے لیے دیوی دیوتا تراشے تھے۔ آج ہمارے پاس سائنس، قانون، ریاست اور انسانی حقوق کا تصور موجود ہے، مگر افسوس کہ ہم نے ایک نیا دیوتا تخلیق کر لیا ہے: “غیرت دیوتا“ ۔
یہ ایسا دیوتا ہے جس کے لیے نہ مندر چاہیے، نہ مورتی، نہ کوئی عبادت گاہ۔ اس کا مندر انسانی ذہن میں قائم ہوتا ہے، اس کی قربان گاہ گھر، گلی اور معاشرہ بن جاتی ہے، اور اس کی قربانی اکثر وہ انسان بنتے ہیں جن کا سب سے بڑا جرم صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی نے ان پر شک کیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ دیوتا مزید کتنے انسانوں کا خون مانگے گا؟ اور ہم کب یہ تسلیم کریں گے کہ عزت کسی انسان کی جان لینے میں نہیں، بلکہ اس کی حفاظت کرنے میں ہے؟ اگر غیرت کسی بے گناہ کا خون مانگتی ہے تو وہ غیرت نہیں، ظلم ہے۔ اور جس معاشرے میں ظلم کو غیرت کا نام دے دیا جائے، وہاں اصل ضرورت غیرت دیوتا کی عبادت کی نہیں، بلکہ انسان کو دوبارہ انسان سمجھنے کی ہے۔
عمران خان آزاد تاریخ اور قانون کا طالب علم ہے۔انہیں داردستان اور بلورستان کی تاریخ، زبانوں اور ثقافتوں سے گہری دلچسپی ہے۔ اس وقت وہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی سے بی ایس لاء کر رہے ہیں اور داردستان اور بلورستان کی تاریخ پر تحقیق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی تحریریں ہائی ایشیاء ہیرالڈ اوردیگر سماجی رابطہ کے صفحات پر گمنام کوہستانی کے قلمی نام سے شائع ہوتے ہیں۔


The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
