عمران خان آزاد (گمنام کوہستانی)
محقق اور عام لکھاری میں فرق ہوتا ہے ۔لیکن ہمارے ہاں ان دونوں کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے۔ عام لکھاری تحقیق نہیں کرتے ۔بس جو کچھ سنا، پڑھا اسے من و عن نقل کرکے لکھتے ہیں۔کسی قوم یا علاقے میں رہنے والا عام فرد، مولوی، ادیب، شاعر ،صحافی یا باہر سے آنے والا سیاح محقق نہیں ہوتے لکھاری ہوتے ہیں۔ محقق سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرتاہے۔ وہ مروجہ اصولوں کے مطابق تحقیق کرکے حقائق جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ محقق کسی بھی قوم کے ماضی کے بارے میں جاننے کے لیے ان کی زبان، مذہب، روایات، قدیم یادگاروں، عمارات، تحریروں اور قدیم عہد میں روز مرہ استعمال کی چیزوں پر تحقیق کرکے مختلف کڑیوں کو آپس میں ملا کر انہیں ایک تصویر کی شکل دیتا ہے۔ وہ عام لکھاریوں کی طرح ان مقامی زبانی روایات پر جو سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے ہیں آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتا ہے۔ محقق زبانیں اور روایات کو پرکھتا ہے تاکہ انہیں قبولیت کی سند حاصل ہو۔ روایت وقت اورزمانے کی کسوٹی پر پوری اترتی ہو۔
تاریخ میں غالب فاتح قوم یا زبان بولنے والوں اور نوآبادیاتی طاقتوں نے ہمیشہ مغلوب اور محکوم اقوام اور اقلیتی زبان بولنے والوں کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا ۔اورانہیں کمتر قرار دیا اورمحکوم لوگوں کو اپنے روایات، ثقافت اور زبان سے نفرت سکھایا جیسا کی نوآبادیاتی حکمرانوں نے برصغیر اور دیگر افریقی ممالک میں کیا۔ المیہ یہ ہے کہ نوآبادیات کے خاتمے کے بعد نوآزاد ملکوں میں طویل عرصہ تک نوآبادیاتی ںظام کے زیراثر رہنے کی وجہ سے اندرونی طور پر اکثریتی اقوام نے حاشیے کے اقوام اور اقلیتی ثقافتوں کے حامل لوگوں کے ساتھ (internal Colonisation)وہی سلوک روا رکھا جو نوآبادیاتی اشرافیہ بدیسی لوگوں کے ساتھ رکھتے تھے۔
ہمارے ہاں بھی جنوبی داردستان میں نیا مذہب پشتونوں کی آمد کے ساتھ آیا ہے اس لئے ہماری مذہبی زبان پشتو ہے۔ آج بھی ہمارے ہاں دیر و سوات میں بعض بزرگ نماز کے لئے نیت پشتو میں باندھتے ہیں۔ اسی طرح دعا بھی پشتو میں مانگی جاتی ہے۔ انہیں نہیں معلوم مقامی زبان میں نیت کس طرح باندھی جاتی ہے۔ پشتو مذہبی زبان بننے کے بعد باہر سے آنے والے میاں ملا لوگوں کو مذہبی درس پشتو میں دینے لگے ۔یوں پشتو مقدس اور باقی زبانیں نیچ بن گئی ۔ مقامی اقوام کو اپنے بزرگوں کا ذکر کرنے سے منع کیا گیا۔ان کے بارے میں طرح طرح کی الٹی سیدھی کہانیاں مشہور کرکے انہیں، کافر، کلش جیسے حقارت انگیز نام دے کر لوگوں کو اپنے بزرگوں پر شرمانے اور ان سے نفرت پر مجبور کیا گیا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ اپنے بزرگوں کے ناموں اور تاریخ پر شرمانے لگے۔
The term “Kafir” has a strongly negative connotation to the Muslim ear, that is something similar to what the word “terrorist” evokes to the contemporary Western mind. Therefore, the descendants of converted Kafirs are mostly not happy to see the term applied to their ascendants. (ALBERTO M. CACOPARDO: The Islamization of the “Kafirs” and Their Domestication: 74)
آج بھی اگر کوہستان دیر کے کسی بزرگ سے سوال کیا جائے کہ بابا آپ کے بزرگ کون تھے، تو غصہ ہوں گے یا شرماتے ہوئے جواب دیں گے۔” انہیں اپنے بزرگوں کا ذکر اچھا نہیں لگتا”۔ مقامی داردی زبانیں اور قبائلی نام کافر دور سے تعلق رکھتے تھے تو ان کا مذاق اڑایا گیا۔ مقامی گاوں اور دیہاتوں کے قدیم نام تبدیل کیئے گئے۔ مدین ( چیریٹ ) بحرین (بھونال)، کیدام (کمل) درولی ( داریل) گورنی ( گورنال)، پاتراک ( راجکوٹ ) بیاڑ ( جار لام) وغیرہ کے نام اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اسی طرح مقامی اقوام سے تعلق رکھنے والے قدیم قبائلی نام بھی تبدیل کیے گئے۔ رام نور (رام کوڑ) راج نور (راج کوڑ) ۔ کچیسور ( کچیس خیل) منڈیسور ( منڈیچ خیل) وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ اوپر مذکورہ دیر و سوات کے تمام علاقے اور قبائل پشتون علاقوں کے ساتھ لگے ہوئے تھے اس لئے یہاں ایک ایک گاوں کے دو دو نام ہیں، قدیم داردیک اصل نام اور نئے پشتو نام۔۔
فاتح کے پرستار، احساس کمتری کے شکار مقامی لکھاریوں نے اپنے ماضی پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنا تعلق فاتح یا کسی دوسرے طاقتور قوم، وطن سے جوڑا۔ باہر سے سیاح اور دوسرے عام لکھاری وغیرہ آتے، مقامی لوگوں سے ان کہانیوں کو سنتے اور بغیر تحقیق کے من و عن نقل کرتے۔ یوں باہر کی دنیا میں ان علاقوں اور یہاں آباد لوگوں کے بارے میں کئی افسانے مشہور ہوئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مثال کے طور پر سوات و دیر میں آباد ہند آریائی زبان بولنے والے بعض گاوریوں کی طرح کچھ توروالی اور کلاش بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ یونانی نسل یا قریش ہے۔ کلاش کو تو باہر سب سکندر اعظم کے سپاہیوں کی نسل سمجھتی ہے۔ سب کا خیال ہے کہ یہ مخصوص یونانی لوگ ہیں اور ان کا اس پاس آباد دوسرےبدیسی اقوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔
موجودہ مینگورہ کے قریب بت کڑہ کے مقام پر اطالوی ماہرین کو بدھ مت عہد کے آثار کے نیچے کچھ مقبرے ملے۔ ماہرین کو ان قبروں سے کچھ ہڈیاں ملی۔ ان ہڈیوں میں سے ایک جبڑے کے سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد معلوم ہوا یہ کسی توروالی شخص کا جبڑا ہے جو کہ یہاں کے قدیم باشندے تھے۔آج کل سوات کوہستان میں آباد ہیں۔ ( ایلن ویارو، انعام الرحیم، ترجمہ فضل معبود: سوات کا سماجی جغرافیہ: 56۔)۔
سوات کے علاقے گوگدرہ اور اوڈیگرام کے مقام پر 2010 اور 2011 میں دریافت ہونے والی قبروں کی کھدائی اور ان پر تفصیلی تحقیق کرنے والے ماسیموویدالے اور رابرٹو مشیلی کے مطابق ان کے اوپر لکڑی کے بنے جنگلوں کے آثار ملے ہیں۔ جب کہ لکڑی کے تختوں کے بھی آثار ملے ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس وقت کے لوگ بھی چترال کے کیلاش قبیلے کی طرح لکڑی کا کھلا تابوت بنا کر مردے کر بغیر دفن کیئے اسے زمین کے اوپر رکھ دیتے تھے۔ ( فضل خالق: ادھیانہ سوات کی جنت گم گشتہ:65) ۔
گاوری، توروالی اور کلاش وغیرہ سب ہند آریائی داردی زبانیں بولتے ہیں۔ کلاش کی طرح گاوری بھی ماضی میں اپنے مردوں کو صندوق نما تابوتوں میں بند کرکے اونچی جگہوں پر رکھتے تھے۔ گھوڑا ہمارے ہاں بھی مقدس تھا۔ اس لئے آج بھی ہمارے ہاں بالائی دیر سوات میں قدیم عمارتوں اور قبروں کے اوپر لکڑی پر کنندہ گھوڑوں کی تصاویر ملتی ہیں۔ صرف دیر و سوات نہیں بلکہ ایک طرف گلگت دوسری طرف نورستان تک اس پورے علاقے میں اس قسم کی قبریں ملتی ہیں۔ مہاندیو کلاش قوم کا دیوتا ہے۔ مہاندیو کے درگاہوں میں گھوڑوں کے سروں والے چار بت ہوتے ہیں جو تختوں پر ٹانکے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ایک پتھر پڑا ہوتا ہے جس پر قربانی کے جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔کلاش، توروالی، گاوری وغیرہ یونانیوں اور عربوں کے آنے سے پہلے یہاں آباد تھے۔ یہ لوگ یونانی، یا عربی نہیں بلکہ اس مٹی کے قدیم ہند آریائی داردی لوگ ہیں۔
Kalasha, the sole pagan tribe of Pakistan and indigenous people, live in remote north-western part of Chitral district of Khyber-Pakhtunkhwa. The Kalasha people belong to Indo-Aryan stock and they speak the Kalasha language (it is also called Kalasha-mun and Kalashwar) — a language of Dardic group. The total population of Kalasha tribe is approximately four thousand. (Muhammad Kashif Ali: Socio-Cultural Life of the Kalasha People of Chitral: 42).
The language is called Kalasha or Kalashamon and the country Kalasha-desh. Kalasha speakers in the Urtsun Valley sometimes call their language Urtsuniwar. The neighboring Chitralis call the language Kalashwar. Kalasha speakers who have converted to Islam are no longer considered Kalasha۔(Kendall D. Decker: Sociolinguistic Survey of Northern Pakistan Volume 5:98).
According to Grierson and Ghulam Murtaza, and also supported by Georg Morgenstierne, the Kalasha tribes arrived in south Chitral valleys via Bashgal and Arandu and pushed the then resident Kho tribes (also pagan) further north. The area controlled by them extended up to Reshun (about 40 miles above Chitral), while it is not certainly known whether the Ojor valley and the Lotkuh valley were also subjugated by the Kalash. The famous ‘Luli’ song of the Kalash however mentions celebration of the Joshi festival in the Lotkuh valley from Shoghor to Gobor and even across the border into Badakhshan… (Wazir Ali Shah: Notes on Kalash Folklore).
کلاش آج جہاں آباد ہیں ماضی میں یہ اس سے بہت بڑے علاقے پر آباد تھے۔ لیکن جس طرح دیر و سوات میں تبدیلی مذہب صرف عقائد کی تبدیلی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ زبان، کلچر، شناخت وغیرہ بھی چھوڑنے پڑتے . وہی کچھ یہاں ہوا۔ دیر و سوات میں چونکہ مذہبی زبان پشتو تھی تو مقامی لوگ مسلمان ہونے کے بعد پشتونیت کے رنگ میں ڈھل گئے۔ اقلیت نے جو بالائی علاقوں میں رہتے تھے مذہب تو تبدیل کیا لیکن زبان،روایات اور رسم و رواج کو نہ چھوڑ سکے ۔ اس لیے آج وہ اپنی مادری زبان اور رسوم و رواج پر عمل کرتے ہیں ۔جبکہ میدانی علاقوں سے منسلک داردی قبائل میں سے اکثریت سب کچھ بھول کر اپنی شناخت کھو چکے ہیں ۔ گنتی کے چند لوگوں کو صرف یہ یاد ہے کہ وہ داردی ہیں باقی سب کچھ بھول گئے ہیں۔
دیر کے علاقوں حیاگے، معراج پٹی، صدیق بانڈہ ڈوگ درہ اور شرینگل شہور وغیرہ میں آباد داردی لوگ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یہ لوگ صرف نسلی طور پر داردی ہے باقی زبان، رسوم و رواج وغیرہ مکمل پشتونوں جیسے ہیں۔ چترال میں بھی یہی ہوا ۔ کھوار بولنے والوں نے جنوبی چترال میں آباد کلاش لوگوں کے خلاف جنگیں لڑی۔ جو مسلمان ہوئے وہ کھوار بھی ہوئے۔ جنہوں نے انکار کیا انہیں آج کے کلاش دیش میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔
They came under political or religious influence and eventually accepted Islam and became Khowar speakers. Many Khowar speakers south of Reshun are reported to be ethnically Kalasha. Chitrali respondents reported that the Khowar spoken in the southern half of Chitral is not pure; it has been influenced by Kalasha. This shift of language and religion is still happening today. One man from the Shishi Koh Valley said that his grandfather spoke Kalasha, but he and his father had never learned it; they speak Khowar now۔(Kendall D. Decker: Sociolinguistic Survey of Northern Pakistan Volume 5: 98).
آج جنوبی چترال میں آباد کھوار بولنے والوں میں زیادہ تر لوگ نسلا کلاش ہے لیکن مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے اپنی شناخت کھو کر کھوار بن گئے ہیں۔ کلاش سب کے سب باشگال یا نورستان کی طرف سے نہیں آئے اور نہ یہ کوئی ایک نسل یے اور نہ ماضی میں انہیں کلاش کہا جاتا تھا۔ ان کا قدیمی نام کاسیو تھا۔ آج بھی آس پاس آباد کئی قبائل انہیں کاسیو کہتے ہیں۔ کلاش نام اسلامی عہد میں معروف ہوا۔ یہ سب کے سب ایک دادا کی نسل نہیں ہے بلکہ کاسیو یا کاسیوا اور دو سرے مقامی داردی قبائل کا گروپ ہیں۔ ان کے مذہب کا بھی یونان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کلاش اپنے مذہب کو دستور کہتے ہیں ۔
The Kalash religion is a mixture of idolatry and ancestor worship. They also believe in fairies and try to appease them by sacrifices. Their idolatry is however of a different kind than that of Hindus and Buddhists. Whereas among the Hindus the incarnations of God, like Rama, Krishna, Vishnu etc. are worshipped and idols resembling these incarnations are made arid preserved, the Kalash do not have any such idols which are believed to resemble in form any of the deities they consider sacred. Instead usually special shrines are set up at places, and wooden horse-heads are fixed on either side of the sacrifice place. These shrines are similar in shape for all the various gods and deities such as Mahandev, Sajjigor etc. (Wazir Ali Shah: Notes on Kalash Folklore).
Kalasha religion combines Shina-like beliefs and elements of Nuristani Kafir religion. Some deities have clearly Nuristani-like image. Sage god Mahandeo, for example, is equal to Mandi of Nuristani; and also with Mahadeva, the epithet of Hindu god Shiva. War god Sajjigor matches Giwish, similar god of Nuristani. But goddess named Shinmu is clearly related to the one of Shina pantheon, the Brokpa goddess Shiring-mo. Hunting cult, similar to that of Shina, also exists among Kalasha people. (Artem Zurabovich and Sviatoslav Kaverin: Introduction to Dardistan)
صرف نورستانی، شینا اور کلاش نہیں بلکہ آس پاس آباد دوسرے داردی اقوام کی اکثریت بھی اس سے ملتے جلتے ہند آرہائی مذاہب پر عمل کرتے تھے۔۔
Old religion of Kohistani Dard peoples of Swat and Indus has barely left traces, but we may conclude that it was close to the religion of Kalasha and Nuristani. Some data was published in “Indus and Swat Kohistan – an ethnographic survey” by Fredrik Barth. Anthropomorphic figures and wine had been produced by Kohistani people in the past. Only one name of Kohistani Dard deity has been preserved – a Torwali supernatural ancestor Dara (.Artem Zurabovich and Sviatoslav Kaverin: Introduction to Dardistan ).
کلش نام صرف آج کے کلاش کے لئے مستعمل نہیں تھا بلکہ پندرہویں صدی عیسوی کے بعد داردستان کے اس حصے میں ہر اس شخص کو کہا گیا جو اپنے قدیم مذہب پر عمل کرتا تھا۔چاہئے وہ کسی بھی علاقے، زبان سے تعلق رکھتا ہو۔ آج بھی پشتون، گجر بزرگ جب غصے ہوتے ہیں تو ہم داردی ( گاوری جنہیں پشتون کوہستانی بھی کہتے ہیں) لوگوں کو کلش کہتے ہیں۔ اسی طرح آپس میں لڑنے کے بعد ہم لوگ ایک دوسرے کو کلش کہتے ہیں۔
The Kalkotis are said to be of the Kalash tribe from Kafiristan,.۔ But it is denied by the Kalkotis themselves. (S. H. GODFREY: A SUMMER EXPLORATION IN THE PANJKORA KOHISTAN 1912. 30)۔
داردستان ماضی سے بیرونی حملہ آوروں کا گزرگاہ رہا ہے۔ سیتھین، پارتھین، یونانی کشان، سفید ہن، ترکش، تبتی چینی، عرب، ایرانی اور پشتون اقوام نے یہاں حملے کیے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ عرب یا یونانی یہاں آباد ہوگئے ہو اور مقامی زبان و رسم ورواج کو اپنا کر مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے ہوں ۔لیکن یہ کہنا کہ ہم ہی وہ عرب ہیں یا قریش، یا یونانی بالکل غلط ہے۔ ہماری زبانیں، ثقافتیں، قدیم مذاہب اور جسمانی خدوخال آریائی ہیں نہ کہ عربی یا یونانی۔ اس لئے کلاش، توروالی، گاوری اور دوسرے داردی قبائل اسی مٹی ،انہیں پہاڑوں کے قدیمی باسی ہیں۔ یہ لوگ عربوں، یونانیوں کے آنے سے بھی بہت پہلے یہاں رہتے تھے۔ یہ لوگ ہند آریائی زبانیں بولتے ہیں جسے محققین نے داردی کا نام دیا ہے۔۔ اس لئے انہیں داردی اور ان کے وطن کو داردستان کہا جاتا ہے۔۔۔

عمران خان آزاد تاریخ اور قانون کا طالب علم ہے۔ وہ خود اپنی تلاش اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں سرگردان ہیں۔ انہیں داردستان اور بلورستان کی تاریخ، زبانوں اور ثقافتوں سے گہری دلچسپی ہے۔ اس وقت وہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی سے بی ایس لاء کر رہے ہیں اور داردستان اور بلورستان کی تاریخ پر تحقیق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی تحریریں ہائی ایشیاء ہیرالڈ اوردیگر سماجی رابطہ کے صفحات پر گمنام کوہستانی کے قلمی نام سے شائع ہوتے ہیں۔

The High Asia Herald is a member of High Asia Media Group — a window to High Asia and Central Asia
